میونسپل کارپوریشن کی کمرشل پراپرٹی کے ضمن میں مشکلات دور ہونا شروع ، تاجروں کا بہتر اور حوصلہ افزا رد عمل

یونسپل کارپوریشن کی کمرشل پراپرٹی کے ضمن میں مشکلات دور ہونا شروع ہو گئیں تاجروں کا بہتر اور حوصلہ افزا رد عمل جس سے تاجروں کی پریشانی دور ہو گئی

میونسپل کارپوریشن کی کمرشل پراپرٹی کے ضمن میں مشکلات دور ہونا شروع ..
جہلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جون2020ء،نمائندہ خصوصی،طارق مجید کھوکھر) میونسپل کارپوریشن کی کمرشل پراپرٹی کے ضمن میں مشکلات دور ہونا شروع ہو گئیں تاجروں کا بہتر اور حوصلہ افزا رد عمل جس سے تاجروں کی پریشانی دور ہو گئی تفصیلات کے مطابق مرکزی تاجران رجسٹرڈ جہلم اور مرکزی انجمن تاجران لورز گروپ کے مابین آپس میں ہونیوالی غلط فہمیوں کیوجہ سے جب اس وقت ٹی ایم اے نے حکومت پنجاب کے احکامات پر میونسپل کارپوریشن کی تمام کمرشل پراپرٹی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق اسیسمنٹ کروائی تو اس کو ٹی ایم اے کے بورڈ پر آویزاں کرنے کے ساتھ ساتھ اخبارات میں اس اسیسمنٹ کے اشتہار دیئے گئے کہ جس تاجر کو کسی بھی اسیسمنٹ پر کوئی اعتراض ہے تو وہ اپنا اعتراض پندرہ روز میں داخل کرے جب اس وقت جمہوری دور تھا اور ٹی ایم اے میں چیئرمین اور کونسلرز کام کررہے تھے چاہئے تو یہ تھا کہ جب تاجروں نے چیئرمین ٹی ایم اے کو درخواست گزاری کہ ہمارے معاہدہ جات ختم ہو چکے ہیں ان کی تجدید کی جائے جبکہ چیئرمین ٹی ایم اے نے یہ درخواست ڈپٹی کمشنر جہلم کو برائے ضروری کاروائی بھجوا دی لیکن اسی اثناء بلدیاتی ادارے ختم کرکے اے ڈی سی آر کو ایڈمنٹسریٹر مقرر کردیاگیا جن کو دوبارہ اسیسمنٹ پر اعتراض لگا کر درخواست بھجوائی گئی جس پر انہوں نے کوئی غور نہ کیا جس سے دکانوں کی اسیسمنٹ منظور ہو گئی جس پر حکومت پنجاب سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی بورڈ کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر جہلم نے بطور ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن کی دکانوں کے آکشن کا اشتہار اخبار میں دیا جس پر تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے اس کو اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بناتے ہوئے تاجروں کو آکشن میں نہ بیٹھنے کا حکم جاری کیا جبکہ تاجر انصاف کے حصول کے لیے ہائیکورٹ میں رٹ کی صورت میں گئے لیکن ایڈمنٹسریٹر میونسپل کارپوریشن کے احکامات پر دکانوں کے آکشن کا نظام جاری رہا اور اس میں بیٹھے لوگوں نے آکشن میں حصہ لیکر لاکھوں روپے کرایہ داری کی مد میں بولی دیکر دکانیں حاصل کرلیں دوسری طرف ہائیکورٹ سے تاجروں کی رٹ خارج ہو گئی تو انہوں نے ہائیکورٹ میں نگرانی کی رٹ جاری کردی جسے ڈبل بینچ نے سنا اور میونسپل کارپوریشن کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے اسے بھی خارج کردیا اسی طرح جہلم کے تمام غریب اور محنتی میں مالی اور ذہنی پریشانی کا عمل شروع ہوا حالانکہ حیران کن بات یہ ہے کہ جتنی دفعہ بھی تاجر تنظیموں کے عہدیدار جن میں محمد عارف چوہدری،ملک محمد اقبال اعوان، خواجہ ناصر ڈار،چوہدری شہباز احمد،شیخ ندیم اصغر،میاں اویس ،شیخ محمد احسان،ندیم خان،خان اعجاز خان کے علاوہ دیگر تاجر ایڈمنسٹریٹر سے ملے اور اسیسمنٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا جس پر صورتحال بگڑتی گئی جبکہ ایڈمنٹسریٹر و ڈپٹی کمشنر محمد سیف انور جپہ نے انہیں بتایا کہ اسیسمنٹ ہونے کے بعد جب ہم نے اخبار میں اشتہار دیا تھا تو آپ نے اس پر اعتراض داخل کرنا تھے لیکن آپ نے نہ کیے لیکن جو درخواست آپ نے اعتراض کیلئے دی وہ خاصی دیر کے بعد دی جس پر قانونی طور پر عملدرآمد نہ ہوسکا تھا اس لیے میں تاجروں کے مفاد میں ہوں میں کسی تاجر کو بے دخل نہیں کرنا چاہتا میں چاہتاہوں کہ آپ اسیسمنٹ کو تسلیم کرکے آکشن میں بیٹھے اور اپنی دکانیں حاصل کریں کیونکہ یہ آپ کا حق ہے لیکن تاجروں نے اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا تھا جو تمام غریب تاجر جن کی دکانوں میں اتنا سامان بھی نہ تھا کہ وہ نیلام کیا ہوا کرایہ ادا کر سکتے جبکہ جن تاجروں آکشن میں دکانیں لی تھیں وہ دکانوں میں موجود تاجروں کے ساتھ بات چیت کرنے لگے جس سے تاجروں کو مزید پریشانی ہوئی اور جن لوگوں نے آکشن میں دکانیں لی تھیں انہوں نے ایڈمنٹسریٹر میونسپل کمیٹی کو درخواست دی کہ قانون کے مطابق جو ہمارا کرایہ بنتا ہے ہم دینے کیلئے تیار ہیں ہمیں دکانوں کے قبضے دلوائے جائیں جس پر چند روز قبل ایڈمنسٹریٹر کے حکم پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی انعام الرحیم،ایم او آر محمد عثمان اور ان کی ٹیم نے چوک شاندار میں اور تحصیل روڈ پر دکانوں کو سیل کرکے جن لوگوں نے بولیاں دی تھیں قبضے ان کو دے دیئے جس سے جہلم کے تاجروں میں خوف کے اثرات بڑھنے شروع ہوئے جس پر دونوں انجمن تاجران کے گروپ ایک پلیٹ فارم پر ایک نکاتی ایجنڈا جس میں میونسپل کارپوریشن کے تاجروں مل بیٹھ کر ریلیف دلانا تھا کے تحت اکٹھے ہوئے جبکہ پہلا اجلاس چوہدری شہباز احمد کے میرج ہال پر ہوا اور وہاں پر دونوں طرف سے ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں پانچ پانچ افراد دونوں گروپوں سے لیے گئے جن میں چوہدری شہباز احمد ،خواجہ ناصرڈار،طارق محمود دول،خواجہ آصف جاوید،چوہدری سعید احمد،ظہور عالم بٹ،دوسرے گروپ سے شیخ ندیم اصغر،ملک محمد اقبال اعوان،شیخ محمد جاوید،عبدالرشید بٹ،میجر محمد آصف شامل تھے جبکہ اس کمیٹی کو بنانے میں چوہدری شہباز احمد، خواجہ ناصر ڈار،وحید اکرم میر،ندیم خان نے اہم کردار ادا کیا تا کہ غریب تاجر اپنی دکانوں میں ہی رہے اور کاروبار کر سکیں جس سے بہترین صورتحال یہ بنی کہ ان دونوں گروپوں میں مل کر غریب تاجروں کو تو ریلیف دیدیا جبکہ زیادہ تر معاملات حل ہو چکے ہیں دونوں گروپوں کے صدور اور کمیٹی کو جاتا ہے اور تاجر تمام لوگوں کو دعاؤں سے نواز رہے ہیں کہ ان کی کوشش اور نیک نیتی سے تمام غریب تاجر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے جبکہ ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن و ڈپٹی کمشنر جہلم محمد سیف انور جپہ نے کہاکہ جن لوگوں نے نیلامی میں دکانیں حاصل کی تھی اگر وہ چھوڑتے ہیں تو یہی دکانیں دوبارہ نیلام میں رکھ کر ان کی نیلامی کی جائینگی اور جو زیادہ بولی دیگا دکان اس کے حوالے کردی جائے گی۔

(جاری ہے)

ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن و ڈپٹی کمشنر جہلم محمد سیف انور جپہ نے کہاکہ اگر اس وقت تمام تاجر مل بیٹھ کر مثبت سوچ کے تحت اسیسمنٹ کو تسلیم کر لیتے تو آج ناتو تاجروں کو پریشانی ہوتی اور نہ ہی کوئی تکلیف،کیونکہ تاجروں کو اس مثبت اقدام سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ میونسپل کارپوریشن کمرشل پراپرٹی کے ضمن جو اسیسمنٹ ہوئی ہے وہ قانون کے مطابق ہے جسے تمام تاجروں کو مل بیٹھ کر تسلیم کرلیا ہے۔

اس ضمن میں جب چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن انعام الرحیم اور رینٹ انسپکٹر افسر خان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ پہلے تاجر میونسپل کارپوریشن میں اپنی دکانوں کی تجدید اور معاہدوں کے لیے نہیں آتے ہیں لیکن آج خدا کے فضل و کرم سے وہ لوکل گورنمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق آرہے ہیں اور تقریباً تین سو دکانوں کے معاہدے کے لیے اپنے کاغذات جمع کروا چکے ہیں جبکہ باقی جو تھوڑی سی دکانیں رہ گئی ہیں ان پربھی بہت جلد عمل ہو جائیگا۔

Your Thoughts and Comments