یارن کی بڑھتی قیمتیں،چھوٹی، درمیانے درجے کی صنعتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں

ایس ایم ایز سیکٹر یونٹس بند کرنے پر مجبور ہوگیا،حکومت پولیسٹر چین ٹیرف اسٹرکچر کا جائزہ لے،حنیف لاکھانی، فرحان اشرفی کاٹن،پولیسٹر یارن ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت نہ دی گئی تو ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ ہوجائے گی، سینئر وائس چیئرمین،وائس چیئرمین پائما

یارن کی بڑھتی قیمتیں،چھوٹی، درمیانے درجے کی صنعتیں تباہی کے دہانے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مارچ2021ء)پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن( پائما) کے سینئر وائس چیئرمین محمد حنیف لاکھانی، وائس چیئرمین فرحان اشرفی نے پولیسٹر چین کے ٹیرف اسٹرکچر کا جائزہ نہ لینے اور حکومت کی جانب سے فوری طور پرکاٹن، پولسٹر کاٹن اور پولیسٹر فلامنٹ یارن کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت نہ دینے کو چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں( ایس ایم ایز) کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کی ہے کہ پیداواری طلب کے مطابق مناسب داموں خام مال کی فراہمی ممکن نہ بنائی گئی تو ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ ہوجائے گی۔

ایک بیان میں پائما کے عہدیداروں نے کہاکہ پولیسٹر یارن کے استعمال کنندگان صنعتکار، درآمدکنندگان اور ٹریڈرزکے وفد سے ملاقات میںان کے تحفظات سے حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے سوال اٹھایاکہ حکومت جانتی ہے کہ اس سال کپاس کی پیداوار کم ہوئی ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بنیادی خام مال پولیسٹر فلامنٹ یارن کی قیمتیں آسمان کو چھونے کے باعث پیدواری لاگت میں بھی ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور مقامی مارکیٹوں میں زائد قیمتوں کے نتیجے میں چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے اپنے یونٹس بند کرنے کے سواء کو ئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا جو کہ ملکی معاشی و اقتصادی ترقی کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔

(جاری ہے)

ایسی صورتحال میں حکومت کو اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے مناسب داموں خام مال کی دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہیے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے کاٹن یارن کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنے کو سراہتے ہوئے کہاکہ اگر ہم بین الاقوامی منڈی میں پاکستان کو مسابقتی بنانا چاہتے ہیںتو پولیسٹر چین کے موجودہ ٹیرف ریجم پر نظرثانی کی جائے کیونکہ اس وقت پالیسٹر یارن پر 11 فیصد کسٹم ڈیوٹی، 2 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی اور 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کے علاوہ 3 سے 11 فیصد کے درمیان اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی بھی عائد ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ پالیسٹر فلامنٹ یارن کے مقامی مینوفیکچررز ملکی صنعتی پیداوار کا صرف ایک تہائی سے بھی کم طلب کو پورا کرسکتے ہیں۔ پالیسٹر یارن کے یہ مقامی مینوفیکچررز ہماری ویلیو ایڈیڈ انڈسٹری کو مسابقتی بنانے کی پالیسی کے برعکس چھوٹی، بڑی اور درمیانے کی صنعتوں کو نقصان پہنچانے کی قیمت پر ٹیرف پروٹیکشن سے خوب لطف اندوز ہورہے ہیں۔

حنیف لاکھانی اور فرحان اشرفی نے حکومت پر زور دیا کہ عبوری امداد کے طور پر پالیسٹر فلامنٹ یارن کی درآمد پر اضافی کسٹم ڈیوٹی (2 فیصد) اور ریگولیٹری ڈیوٹی (2.5 فیصد)کو فوری ختم کیا جائے نیز پوری پولیسٹر چین کے ٹیرف اسٹرکچر کا جائزہ لیائے تاکہ ہماری برآمدات کو فروغ دینے والی صنعتوں، زیادہ تر چھوٹی اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مسابقت کے قابل بنایا جاسکے۔

Your Thoughts and Comments