موجودہ حکومت کے معاشی اعشاریوں میں بہتری کے دعووں کے بعد بھی اگر حالیہ بجٹ میں ٹیکسٹائل ایس ایم ایز کے سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے زیرو ریٹڈ نہ کیا گیا تو ایس ایم ای سیکٹر دیوالیہ ہو جائے گا

وفاقی مشیر عبدالرزاق داوٴد د نے ٹیکسٹائل کے چھوٹے ایکسپورٹرز کو بجٹ میں ریلیف دینے کا وعدہ کر رکھا ہے مگر تاحال بجٹ تجاویز میں ہمارے مطالبات موجود نہیں

موجودہ حکومت کے معاشی اعشاریوں میں بہتری کے دعووں کے بعد بھی اگر حالیہ ..
فیصل اباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون 2021ء،نمائندہ خصوصی،سید ذکراللہ حسنی) آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولیسٹری ایسوسی ایشن (APBUMA) کے عہدیداران نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے معاشی اعشاریوں میں بہتری کے دعووں کے بعد بھی اگر حالیہ بجٹ میں ٹیکسٹائل ایس ایم ایز کے سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے زیرو ریٹڈ نہ کیا گیا تو ایس ایم ای سیکٹر دیوالیہ ہو جائے گا۔

وفاقی مشیر عبدالرزاق داوٴد د نے ٹیکسٹائل کے چھوٹے ایکسپورٹرز کو بجٹ میں ریلیف دینے کا وعدہ کر رکھا ہے مگر تاحال بجٹ تجاویز میں ہمارے مطالبات موجود نہیں۔ اسی طرح لوکل اور لیوی ڈیوٹی DLTL میں 10 فیصد کا مسئلہ بھی حل کیا جائے۔ شوگر، گندم مافیا کی طرح کاٹن مافیاز کے خلاف کارروائی کر کے سوتر کی قیمتوں کو کم اور مستحکم کیا جائے۔

(جاری ہے)

کینال روڈ پر واقع اپبوما ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیئروائس پریزیڈنٹ انجینئر بلال جمیل،ایگزیکٹو ممبر FPCCI عارف حسین ملک، سینیئر رہنما عمران محمود، محمد طیب، شہزاداحمد، شہزاد حسین و دیگر نے کیا۔

  انہوں نے کہا سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا سرمایہ محدود ہوتا ہے جو ٹیکسوں کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ایس آر او 1125  واپس لے لیا جائے ڈی ایل ٹی ایل کا مسئلہ حل کیا جائے 10 فیصد انکریمنٹ دی جائے تو پاکستانی ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی بجٹ کی آمد آمد ہے اپبوما پلیٹ فارم سے مقامی حکومتی رہنماوں وزیرمملکت اطلاعات فرخ حبیب، فیض اللہ کموکا ایم این اے سمیت مشیر اقتصادیات عبدالرزاق داوٴد نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے مسائل حل کروائیں گے۔

جب حکومت آئی تو حکومتی مشکلات و آئی ایم ایف کے دباؤ کا بتایا گیا جس پر ٹیکسٹائل ایکسپورٹس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس مجبوراً مانا۔ اب جب کہ حکومتی اداروں کی جانب سے تمام معاشی اعشاریوں میں مثبت پیش رفت کا بتایا جارہا ہے تو اب فوری طور پر بجٹ میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کی سہولت دی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو 50 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹس کا ہدف موجودہ 20 ارب ڈالرز سے بھی کم ہو جائے گا۔

ہم خطے کے دیگر ممالک سے بھی پیچھے ہوں گے۔جس کی تمام ذمہ داری حکومتی نمائندوں پر ہو گی۔ بجٹ میں اپبوما و دیگر ٹیکسٹائل سے وابستہ تنظیموں کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بجٹ کے بعد مشترکہ لائحہ عمل دیں گے جس میں بڑی سطح پر احتجاجی تحریک کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ تمام ٹیکسٹائل تنظیموں کا ایک ہی موقف ہے تاہم تصادم نہیں چاہتے۔

موجودہ حکومت کی ہر طریقے سے ایکسپورٹس بڑھانے میں مدد کی مگر ہمارے مطالبات نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا مارکیٹ میں پورا پورا سرمایہ ڈوب چکا ہے سوتر کی خریداری پر دوکاندار کی ٹیکس میں غلطیوں کا خمیازہ بھی ٹیکس باقاعدگی سے دینے والے ایکسپورٹرز بھگت رہے ہیں۔ حکومت ٹیکسٹائل پالیسی ویژن 2025 کی بات کر رہی ہے مگر ابھی تک کاٹن کی فصل پر توجہ نہیں دی جارہی۔

گنا اور چینی بھی اہم ہیں مگر پاکستان کے زرمبادلہ میں اربوں ڈالر کا اضافہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس سے ہوتا ہے اس لیے کپاس کی فصلوں کی جگہ گنا لگانے سے مقامی کپاس نایاب ہے اور پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ شوگر، سیمنٹ مافیا کی طرح کاٹن مافیاز کو بھی ختم کیا جائے۔

Your Thoughts and Comments