جنسی ہراسگی کے مقدمات 90 دنوں میں مکمل ہونے چاہئیں ،مرتضی وہاب

یہ مقدمات کو 20-20 ماہ گزر جاتے ہیں لیکن ان پر کوئی سنوائی نہیں ہوتی، مقدمات کے فیصلے دیر سے ہونے سے جنسی ہراسگی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، عدلیہ، سول سوسائٹی اور حکومت کو اس معاملے میں ایک پیچ پر آنا ہوگا اور خاص طورپر جنسی ہراسگی کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانا ہوگا،مشیرقانون سندھ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اکتوبر2021ء)ایڈمنسٹریٹر کراچی،مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ جنسی ہراسگی کے مقدمات 90 دنوں میں مکمل ہونے چاہئیں مگر ان مقدمات کو 20-20 ماہ گزر جاتے ہیں لیکن ان پر کوئی سنوائی نہیں ہوتی، مقدمات کے فیصلے دیر سے ہونے سے جنسی ہراسگی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، عدلیہ، سول سوسائٹی اور حکومت کو اس معاملے میں ایک پیچ پر آنا ہوگا اور خاص طورپر جنسی ہراسگی کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانا ہوگا، یہ بات انہوں نے یو این وومن پروگرام کے تحت مقا می ہوٹل میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ میں آج آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ بحیثیت عورت میری ماں نے میری بہت اچھی تربیت کی کیونکہ میرے والد کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب میں 19 سال کا تھا، میری والدہ نے ہی مجھے اکیلے اس مقام تک پہنچایا، انہوں نے ہر مرحلے میں میری تربیت اور رہنمائی کی،میری نانی نے میری والدہ کو اچھی تعلیم و تربیت فراہم کی تھی جس کے باعث یہ سب کچھ ممکن ہوسکا، انہوں نے کہا کہ میرے والد کے جلد انتقال ہونے کے باعث میری والدہ معاشی اور انتظامی طوپر بااختیار ہوئی اور یہی چیزیں انہوں نے مجھ میں منتقل بھی کیں تاکہ ان کی فراہم کردہ تربیت کو میں آگے پہنچاؤ اور اس سے لوگوں کی خدمت کروں، انہوں نے کہا کہ عورت جب بااختیار ہوتی ہے تو وہ اپنے بچوں کی تربیت اپنے حساب سے بہتر انداز میں کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عورت کو بااختیار ہونا چاہئے تاکہ وہ خود فیصلہ کرسکے اس کو کیا کرنا ہے، یہ نہیں ہونا چاہئے کہ گھر کے بڑے اس پر اپنے فیصلے تھونپے کی کوشش کریں، جب عورت با اختیار ہوگی تو صحیح طریقے سے اپنے گھر کو آگے لے کر چل سکے گی، انہوں نے کہا کہ عورت ہی ہمارے معاشرے کو بدل سکتی ہے کیونکہ عورت کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں عورت کچھ معاملے میں تو بااختیار ہوتی ہے لیکن چند جگہوں پر اسے نظر انداز کیا جاتا ہے، اس کے فیصلے نہیں مانے جاتے، ہمیں چاہئے کہ عورت کو اسکا حق دیں، احترام کریں اور اس کے فیصلوں کو تسلیم کرکے اس پر عمل بھی کریں۔

Your Thoughts and Comments