6 ستمبر یومِ دفاع، 7 ستمبر یومِ فضائیہ
پاک فضائیہ کی جرات، مہارت اور ناقابلِ شکست جذبے کی داستان
پیر 7 ستمبر 2026

پاکستان میں 6 ستمبر یومِ دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ 7 ستمبر کو یومِ فضائیہ منایا جاتا ہے۔ یہ دونوں دن ہماری قومی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ 1965 کی جنگ میں پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کی فوجی طاقت کا مقابلہ کیا اور اپنی آزادی، خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع کے لیے بے مثال عزم کا مظاہرہ کیا۔
6 ستمبر 1965 کو بھارت نے بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور کے محاذ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملہ کیا۔ پاکستانی افواج نے اس اچانک حملے کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر پاکستانی فوج نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔
(جاری ہے)
اور پھر پاک فضائیہ میدان میں اتری
1965 کی جنگ میں سب سے اہم کردار پاکستان ایئر فورس نے ادا کیا۔
بھارتی فضائیہ نے پاکستانی ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو پاک فضائیہ نے فوری جوابی کارروائی کی۔ پاکستانی جنگی طیاروں نے نہ صرف اپنے فضائی اڈوں کا دفاع کیا بلکہ دشمن کے ہوائی اڈوں اور زمینی اہداف پر بھی حملے کیے۔
6 ستمبر کو پٹھان کوٹ ایئر بیس پر پاک فضائیہ کا حملہ جنگ کے نمایاں فضائی آپریشنز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کارروائی میں بھارتی طیاروں کو زمین پر بھی نقصان پہنچایا گیا۔ دوسری جانب 7 ستمبر کو سرگودھا پر بھارتی فضائی حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے پائلٹوں نے دشمن کے کئی طیارے مار گرائے۔ اس موقع پر اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کا تاریخی کارنامہ یاد رکھنے کے قابل ہے
1965 کی جنگ کا ذکر اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ 6 ستمبر کو انہوں نے ایک فضائی معرکے میں دو بھارتی ہنٹر طیارے مار گرائے اور مزید تین کو نقصان پہنچایا۔ اگلے روز سرگودھا کے دفاع کے دوران انہوں نے پانچ بھارتی ہنٹر طیارے مار گرائے۔
اسی طرح اسکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی نے 6 ستمبر کو ہلوارہ کے خلاف کارروائی میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے طیاروں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قیادت اور قربانی پاک فضائیہ کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1965 کی جنگ میں یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ پاک فضائیہ نے اپنی کم تعداد کے باوجود بھارتی فضائیہ کو سخت مزاحمت دی اور متعدد اہم فضائی معرکوں میں برتری حاصل کی۔
پاک فضائیہ کی اصل کامیابی کیا تھی؟
1965 میں بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ جنگی طیارے تھے۔ بھارتی فضائیہ کے پاس تقریباً 460 جنگی طیارے جبکہ پاکستان کے پاس تقریباً 186 جنگی طیارے تھے۔ اس کے باوجود بھارتی فضائیہ پاکستان کی فضائی قوت کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ بھارتی سرکاری تاریخی ریکارڈ بھی تسلیم کرتا ہے کہ دونوں فضائی افواج نے سخت مقابلہ کیا۔
یہی پاک فضائیہ کی اصل کامیابی تھی کہ اس نے تعداد کے بجائے تربیت، پیشہ ورانہ مہارت، جرات، قیادت اور جنگی حکمت عملی کو اپنی طاقت بنایا۔
1965 سے 2025 تک ایک شاندار سفر پر بات کریں تو پاک فضائیہ کی کارکردگی صرف 1965 تک محدود نہیں رہی۔ وقت کے ساتھ پاکستان نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں، جدید جنگی طیاروں، میزائل ٹیکنالوجی، ریڈار، نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مسلسل بہتر کیا۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید فوجی کشیدگی کے دوران بھی فضائی محاذ انتہائی اہم رہا۔ پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں کارروائیاں کیں۔ پاکستان نے متعدد بھارتی طیارے مار گرائے اور بھارت میں کھلبلی مچا دی جبکہ بھارت نے مکمل نقصانات کی تفصیل کی تصدیق نہیں کی۔ بھارت پاک فضائیہ کےتابڑ توڑ حملوں پر گھبرا گیا تو
10 مئی 2025 کو جنگ بندی کا سہارا لیا۔
لہٰذا 2025 کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے یہ کہنا زیادہ محتاط اور درست ہوگا کہ پاک فضائیہ نے بھارتی حملوں کا مؤثر جواب دیا اور فضائی محاذ پر اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک جنگ بندی پر پہنچے۔
یومِ فضائیہ کا پیغام یہی ہے کہ
6 ستمبر ہمیں اپنی سرزمین کے دفاع کا درس دیتا ہے اور 7 ستمبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں یا طیاروں کی تعداد میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے جوانوں کی تربیت، جذبے، قیادت، ٹیکنالوجی اور وطن کے لیے قربانی دینے کے عزم میں ہوتی ہے۔
1965 کے شہداء نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے اس کے سپوت ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آج بھی پاک فضائیہ کے شہداء، پائلٹوں، انجینئروں، تکنیکی عملے اور تمام اہلکاروں کی قربانیاں ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں۔
یومِ دفاع اور یومِ فضائیہ ہمیں جنگ کی خواہش نہیں بلکہ امن کے ساتھ اپنی آزادی، خودمختاری اور وطن کے دفاع کے عزم کا پیغام دیتے ہیں۔
پاکستان زندہ باد
پاک فضائیہ پائندہ باد
شہداءِ پاکستان کو سلام
ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
متعلقہ مضامین :
مضامین و انٹرویوز کی اصناف
مزید مضامین
-
افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ اور جنرل اختر عبدالرحمان
-
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
-
راوی کی کہانی
-
تجدید ایمان
-
ٹکٹوں کے امیدواروں کی مجلس اورمیاں نواز شریف کا انداز سخن
-
جنرل اختر عبدالرحمن اورمعاہدہ جنیوا ۔ تاریخ کا ایک ورق
-
کاراں یا پھر اخباراں
-
صحافی ارشد شریف کا کینیا میں قتل
-
ایک ہے بلا
-
عمران خان کی مقبولیت اور حکومت کو درپیش 2 چیلنج
-
سیلاب کی تباہکاریاں اور سیاستدانوں کا فوٹو سیشن
-
”ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان“ کسان دوست پالیسیوں کا عکاس
مزید عنوان
6 September Defence Day - 7 September Air Force Day is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 07 September 2026 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.