امریکی سفارتکار کی گاڑی سے پاکستانی کی ہلاکت

گزشتہ ہفتے امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے ایک نوجوان ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا جبکہ پولیس اہلکاروں کے کان پہ جوں تک نہ رینگی۔ معمولی پوچھ گچھ کے بعد اسے جانے دیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ قانونی کارروائی پوری کرتے ہوئے اسے گرفتار کرتے لیکن فون پر اجازت لینے کے بعد اسے چلتا کیا

منگل اپریل

Amrici sifaratkaar ki gaari se pakistani ki halakat
سرفراز ڈوگر

گزشتہ ہفتے امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے ایک نوجوان ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا جبکہ پولیس اہلکاروں کے کان پہ جوں تک نہ رینگی۔

(جاری ہے)

معمولی پوچھ گچھ کے بعد اسے جانے دیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ قانونی کارروائی پوری کرتے ہوئے اسے گرفتار کرتے لیکن فون پر اجازت لینے کے بعد اسے چلتا کیا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ریمنڈ ڈیوس کا کیس اتنا پرانا نہیں،جس نے بے قصور پاکستانی شہریوں کوموت کی وادی میں دھکیلا۔کیا پاکستانیوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا جائے گا؟۔ کیایہاںکا قانون صرف کمزور پاکستانیوں کے لیے ہے ؟اگر کوئی پاکستانی ایسا کام کرتا تو پولیس نے حرکت میں آجانا تھا اور آنا بھی چاہئے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی کوئی بھی آکر پاکستانی قوانین کی دھجیاں بکھیرے دے تو اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان کے امریکہ دورے پر جس طرح انہیں چیک کیا گیا یہ سب کے سامنے ہے اور ٹیلی ویژن سکرین پر دکھایا گیا۔

اگر ایک معمولی سفارتکار کو’ استثنیٰ ‘حاصل ہے تو وزیراعظم کو چیکنگ کے معاملہ میں استثنیٰ ہونا چاہئے تھا۔ لیکن وہاں قانون سب کے لئے ایک کوئی ملک ہو قانون کا احترام لازم ہے اور اس پر عمل کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ امریکیوں کی نظر میں ہماری حیثیت کیڑے مکوڑے جیسی ہے۔ دوتین ہفتے قبل پاکستان نے امریکی سفارتکار کی گاڑی سے ٹکر پر ایک شہری جاں بحق اور دوسرے کے زخمی ہونے پر امریکہ سے شدید احتجاج کیا، دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔

سیکرٹری خارجہ نے نوجوان کی ہلاکت اور دوسرے کے زخمی ہونے پر شدید احتجاج کیا، تہمینہ جنجوعہ نے امریکی سفیر سے کہا کہ ملکی قانون اور سفارتی تعلقات کے ویانا کنونشن کے تحت انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے، اس موقع پر امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے جانی نقصان پر گہری ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ امریکی سفارتخانہ تحقیقات کے عمل میں مکمل تعاون کریگا لیکن ابھی تک قانون حرکت میں نہیں آیا، نجی ٹی وی چینل کے مطابق امریکی سفارتخانے نے دفاعی اتاشی تک رسائی دینے سے صاف انکار کردیا ہے، پولیس نے مدد کیلئے وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا ہے، ادھر وزارت داخلہ نے حادثہ کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او سے وضاحت طلب کرلی، وزارت داخلہ کو موصول رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ پر موجود ٹریفک سارجنٹ نے امریکی اتاشی کی گاڑی کے سگنل توڑنے کی تصدیق کی، اس نے ملزم کا میڈیکل کرانے کا مشورہ دیا مگر ایس ایچ او نے ایک نہ سنی، وزارت داخلہ نے تھانیدار سے وضاحت مانگی ہے کہ اس نے سفارتکار کو کس کے کہنے پر چھوڑا؟ دفتر خارجہ کی وضاحت تک ملزم کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا،معمولی کارروائی کے بعد جاں بحق نوجوان عتیق کو آبائی گاﺅں تلہاڑ میں سپردخاک کردیا گیا، نماز جنازہ میں بڑی تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی، جبکہ عتیق کے والد نے کہا کہ ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں،اُنہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں، حکومت یا سفارتخانے والوں میں سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، قانونی کارروائی کا فیصلہ برادری کے صلاح مشورے کے بعد کرینگے۔

زخمی راحیل کو پولی کلینک ہسپتال کے سرجیکل وارڈ ٹو میں منتقل کردیا گیا ، راحیل کی پنڈلی اور ایڑی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے ، راحیل نے اپنے بیان میں امریکی ملٹری اتاشی کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی اسی کی تھی کیونکہ ہمارا اشارہ کھلا تھا جبکہ دوسری جانب بھی تمام گاڑیاں رکی ہوئی تھیں لیکن امریکی ملٹری اتاشی کی گاڑی نے اشارہ توڑتے ہوئے ہمیں کچلا جس سے عتیق موقع پر جاں بحق ہوگیا اور مجھے کافی چوٹیں آئیں اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔آج اس واقعہ کو تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے لیکن امریکی ملزم کرنل جوزف کوابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Amrici sifaratkaar ki gaari se pakistani ki halakat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 17 April 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.