بچوں کی لڑائی پرچار زندگیوں کے چراغ گل

روئے زمین ، زر، زن کو فسادات کی جڑ قرار دیا گیا۔ راقم کے نزدیک شر کے الاوٴ کو مزید بڑھانے کے ایک اہم فیکٹر جھوٹی انا، شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خول میں لپٹے انسا ن کو قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔آدم کی تخلیق کے وقت رب کائنات نے اپنے اس ارادہ کو فرشتوں پر افشاء کیا تو وہ معترض ہو ئے کہ آپ ایسے انسان کو زمین پر تخلیق کریں گے جو وہاں دنگا، فسادات کا موجب بنے گا

منگل جنوری

Bachon Ki Larai Par Char Zindagion Kay Charagh Gul
امتیاز یٰسین:
روئے زمین ، زر، زن کو فسادات کی جڑ قرار دیا گیا۔ راقم کے نزدیک شر کے الاوٴ کو مزید بڑھانے کے ایک اہم فیکٹر جھوٹی انا، شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خول میں لپٹے انسا ن کو قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔آدم کی تخلیق کے وقت رب کائنات نے اپنے اس ارادہ کو فرشتوں پر افشاء کیا تو وہ معترض ہو ئے کہ آپ ایسے انسان کو زمین پر تخلیق کریں گے جو وہاں دنگا، فسادات کا موجب بنے گا ۔

بے شک انسان سخت شرپسند قسم کا جھگڑا لو اور جلد باز ثابت ہوا ہے۔ کچھ واقعات ایسے وقوع پذیر ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ اور سن کرناصرف رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں بلکہ انسان کی ذہنی کیفیت پر بھی شک گزرنے لگتا ہے ۔ ایک طرف انسان کی عقل سلیم کی بلندی وسرفرازی کا یہ عالم ہے کہ خدا کو پالیتا ہے اور آسمان پر پرندوں (جہازوں) کی طرح پرواز کرتا پھرتا ہے تو دوسری طرف ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ شیطان کے ہاتھوں کھیلونا بن کر اور شقاوت قلبی کا مظاہر کرتے ہوئے انسان کا ناحق خون کرتا پھرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا مگر ایک نحیف سے واقعہ پر جس کا بدلہ قوت برداشت ،عفودگزر، تحمل، اور بردباری تھا محض اپنی جھوٹی انا اور نام و نہاد برتری کی خاطر ایک بار نہیں چار بار پوری انسانیت موت کی بھینٹ چڑھ گئی مگر ارباب اختیار، ممبران پارلیمنٹ ، عمائدین علاقہ اور مقامی زمینداروں نے یہ درخور اعتناء نہ سمجھا کہ دشمنی کا یہ الاوٴ کسی طرح کم ہو یا انتقام کی آگ ہو ٹھنڈی کیا جائے۔

پے درپہ یہ افسوس ناک واقعات ضلع پور کے نواحی گاوٴں چک نمبر 235/TDA میں پیش آئے۔جنہوں نے ہلاکوخان کے ظلم کو بھی شرما دیا۔28-10-2012 کی ایک بد قسمت شام کو کھیل کے گراوٴنڈ میں بچوں کے کھیل کے دوران معمولی لڑائی جھگڑا ہوا۔ جس پر مقامی جٹ اور آرائیں فیملی کے بڑوں میں تلخ کلامی بڑھی اور موبائل فون پر گالم گلوچ سے ہوتی ہوئی لڑائی باہم ڈنڈوں سوٹوں اور کسیوں پر اتر آئی ۔

کسے خبر تھی کہ کاتب تقدیر کا لکھا اپنے فائنل راوٴنڈ میں داخل ہو چکا ہے۔ لڑائی میں جٹ فیملی کا پانچ بچوں کا باپ پچاس سالہ ریاض احمد شدید زخمی ہوا بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ مقدمہ تھانہ فتح پور میں زیر فعہ 302 ت پ آرائیں برادری کے تین بھائیوں مصطفی اور اقبال ضمانت پر رہا ہوئے تو جٹ برادری میں انتقام کی آگ بھڑکی ،درپردہ منصوبے بننے لگے۔

دونوں گروپس کے مابین صلح کی ہونے والی معمولی کوششیں قسمت کے لکھے نے کارگر ثابت نہ ہونے دیں۔ چوبیس اگست 2013 کی شام کو جٹ برادری کے مبینہ ملزمان ذوالفقار ،لیاقت ،غلام عباس ، وقاص ،اسلم وغیرہ پر مشتمل پندرہ افراد نے آرائیں برادری نے تین بچوں کے باپ جوبیس سالہ مصطفی کو اپنے دودھ کے چلر پر کام کرنے کے دوران حملہ آور ہو کر گولیوں سے چھلنی کر کے موقع پر ہی ابدی نیند سلا دیا جبکہ اسی وقت دوسرے حملہ آور گروہ نے کھیتوں کو پانی لگاتے دوسرے بھائی بیس سالہ محمد اقبال کا فائرنگ کر کے موقع پر ہی کام تمام کر دیا ۔

اس دلخراش واقع کا مقدمہ زیر دفعہ 148 ،302 ،149 ت پ کے تحت ملزمان کے خلاف درج رجسٹرڈ ہوا۔ اس شکیب ربا واقعہ پر آرائیں برادری میں جوش انتقام کے شعلے زور پکڑ گے اور مناسب وقت کا انتظار ہونے لگا۔ آرائیں فیملی کا دستگیر جیل سے رہا ہو کر آیا تو اس نے اپنے بھائیوں اور باپ نے اپنے بیٹوں کے قتل کا بدلہ چکانے کے لیے 19-12-2015 کو جٹ برادری کے بیس سالہ محمد عمران ولد محمد ریاض جو اپنی والدہ کے ہمراہ فتح پور سے موٹر سائیکل پر گھر جا رہا تھا دن دیہاڑے ایم ایم روڈ پر اڈا شوکت والا کے نزدیک مبینہ طور پر ملزمان غلام دستگیر ،محمدیوسف، اور محمد اکم ساکنان 235/TDA نے روک کر اندھا دھند فائرنگ کر تے ہوئے موقع پر ہی موت سے دو چار کر دیا اور موقع سے فرار ہو گے۔

تھانہ فتح پور میں مقدمہ نمبر 402/15 زیر دفعہ 302 درج رجسٹرڈ ہوا ۔ ان سارے واقعات میں ماوٴں نے اپنے بیٹوں ،بیویوں نے اپنے خاوند اور بیٹوں نے اپنے باپ کو تڑپ تڑپ کر جان دیتے دیکھا۔ ملزمان تا حال قانونی گرفت س باہر ہیں۔ عدم برداشت اور انتقام کی آگ ناجانے اور کتنی قبریں کھدوائے گی۔ پولیس اور معزز عدلیہ فراہمی انصاف میں لازم وملزوم ہیں۔

بدقسمتی سے پولیس انویسٹیگیشن رپورٹ میں مٹھی گرم ہونے پر ملزمان کو تحریری ریلیف اور خامیوں سے بھرپور (Extort) کیس عدالت کو فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے ملزمان با ٓسانی عدالتوں سے بری یا ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔ جو مقتول پارٹی کے سینوں پر مونگ دلنے کے مترادف ہے اور قانون کو مجبوراََ ہاتھ میں لے کر جوش انتقام میں خون کی ہولی کھیلتے ہیں ۔

دیکھنا ہے کہ اگر مقتول ریاض کے ملزمان کیفر کردار کو پہنچتے تو خون کی ندیاں نہ بہتیں۔ مذکورہ کیس کی تفتیش سب انسپکٹر حاجی افضل کر رہے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے روایتی وعدوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ فتح پور کے ایس ایچ او بلال اسلم کھوسہ تبدیل ہو کر وسیم لغاری نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں ۔نئے ایس ایچ او سے بہت سی عوامی توقعات وابستہ ہیں ۔

تھانہ کی حدود میں بڑھتی ہوئی قتل کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ سٹریٹ کرائم میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ۔ تھانہ کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ماضی میں 75-B/TDA کے حافظ شوکت حیات 234/TDA کے بیدردی سے ذبخ ہو نے والے گونگے اسد 93/ML کے غریب ٹیکسی ڈرائیور ذوالفقار کے اندھے قتل پر ان کے ورثا ملزمان کے بے نقاب ہونے اور کیفر کردار تک پہنچنے پر پولیس پر امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ علاقے کو پر امن بنانے کے لیے پولیس کا کردار مسلمہ ہے ۔ علاقے میں مسلسل بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک اور وجہ ناجائز اسلحہ کا استعمال ہے جس کا مقامی انتظامیہ کے پاس کوئی ریکارڈ ہے نہ چیک اینڈ بیلنس ۔ ناجائز اسلحہ کے قلع قمع اور تدارک کے لیے فوری کریک ڈاوٴن وقت کا تقاضا ہے۔

Your Thoughts and Comments

Bachon Ki Larai Par Char Zindagion Kay Charagh Gul is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 January 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.