بسنت ثقافتی تہوار نہیں

دنیا بھر کی اقوام میں رائج معروف ترین تہواروں کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہرتہوار ایک مخصوص پس منظر رکھتا ہے۔ یہودیوں کا سب سے بڑا تہوار ’’ھنوکا‘‘ ایک مذہبی تہوار ہے،

جمعہ دسمبر

basant saqafati tehwar nahi
شاہد رشید
دنیا بھر کی اقوام میں رائج معروف ترین تہواروں کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہرتہوار ایک مخصوص پس منظر رکھتا ہے۔ یہودیوں کا سب سے بڑا تہوار ’’ھنوکا‘‘ ایک مذہبی تہوار ہے، عیسائی معاشرے میں کرسمس اور ایسٹر بیحد جوش وخروش سے منائے جاتے ہیں۔ ہندو معاشرے میں مختلف تہوار منائے جاتے ہیں مثلاً دیوالی، دسہرا، ہولی، بیساکھی، بسنت وغیرہ۔

دیوالی، دسہرا اور ہولی کے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ یہ ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہیں، مگر بیساکھی اور بسنت وغیرہ کے متعلق یہ غلط فہمی عام پائی جاتی ہے کہ یہ موسمی اور ثقافتی تہوار ہیں۔ ایسا صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جو ان تہواروں میں حصہ تو لیتے ہیں، البتہ ان کا پس منظر جاننے کی زحمت انہوں نے کبھی گوارا نہیں کی۔

(جاری ہے)

یہ خالصتاً ہندوانہ تہوار ہے ۔

نامور محقق ،مؤرخ اور سائنسدان علامہ ابوریحان البیرونی تقریباً ایک ہزار سال قبل ہندوستان آئے تھے۔ انہوں نے کلرکہار (ضلع چکوال) کے نزدیک ہندوؤں کی معروف یونیورسٹی میں عرصہ دراز تک قیام کیا، وہیں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’کتاب الہند‘‘ تحریر کی۔ یہ کتاب آج بھی ہندوستان کی تاریخ کے ضمن میں ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔

اس کتاب کے باب 76 میں انہوں نے ’’عیدین اور خوشی کے دن‘‘ کے عنوان کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکر کیا ہے۔ اس باب میں عید ’’بسنت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے علامہ البیرونی لکھتے ہیں ’’اسی مہینہ میں استوائے ربیعی ہوتا ہے، جس کا نام بسنت ہے، حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر ہندو اس دن عید کرتے ہیں اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں، دیوتاؤں کی نذر چڑھاتے ہیں‘‘۔

( کتاب الہند، مترجم: سید اصغر علی:صفحہ 206)
یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد قارئین کی توجہ ایک خبر کی طرف مرکوز کروانا ہے کہ حکومت پنجاب نے بسنت کے’’ تہوار‘‘ کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ماضی میں لاہور سمیت پنجاب بھر میں فروری کے مہینہ میں بسنت کا تہوار منایا جاتا تھا تاہم اس دوران گلے پر ڈور پھرنے اور دیگر ناخوشگوار واقعات کے باعث صوبے میں کئی سال سے بسنت پر پابندی تھی۔

اب صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بسنت کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا لاہور کی سول سوسائٹی سمیت ثقافتی حلقوں اور شہریوں کی طرف سے بسنت کا تہوار منانے کا مطالبہ کیاجارہا تھا لہٰذا فروری کے دوسرے ہفتے بسنت کا تہوار منایا جائیگا۔ فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کو احسن طریقے سے منانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو بسنت میں کیمیکل کی ڈور اور دیگر منفی چیزوں کے حوالے سے ایک ہفتے میں رپورٹ دے گی جبکہ کمیٹی بسنت کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب بسنت تہوار کی بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہوں نے بسنت کی بحالی کا جائزہ لینے کے لیے وزیرقانون راجہ بشارت کی سربراہی میں کمیٹی بنادی ہے۔
حکومت کی طرف سے یہ کہنا کہ یہ ایک ثقافتی تہوار ہے لہٰذا اسے دوبارہ شروع کیا جانا چاہئے ،بے معنی دلیل ہے ۔ ہماری ثقافت میں تو اور بہت سارے تہوار اور روایتی میلے ہیں کیا انہیں فروغ دینے یا ان کا ازسرنو احیاء کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔

لاہور کا مشہور ’’میلہ چراغاں‘‘ جو ایک وقت میں میلوں رقبے تک پھیلا ہوتا تھا اور لاکھوں لوگ اس میں شرکت کرتے تھے ، اب سکڑ کر مادھو لال حسین کے دربار تک محدود ہو گیا ہے، داتا دربار پر ہونیوالے خود کش حملہ کے بعد یہ میلہ بھی سکڑ گیا ہے ۔ اس طرح کے اور بیشمار ہمارے ثقافتی میلے ہیں جن کو ازسرنو زندہ کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ ہماری اصلی ثقافت ہے ۔

بسنت کو ثقافت کا نام دینا مناسب نہیں ہے۔
2007ء میں بسنت پر پابندی اس لیے لگائی گئی تھی کہ یہ تہوار محض پتنگ بازی تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ اس میں آتشیں خودکار اسلحہ سے فائرنگ کا خطرناک رجحان بھی فروغ پا چکا تھا۔ بسنت کی رات پورا شہر کان پھاڑنے والی فائرنگ کی زد میں رہتا ۔ کوئی اگر مریض ہے اور شور سے پریشان ہوتا ہے، تو جانے اپنی بلا سے، پتنگ بازوں کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی ہے، ایک دھماکوں کا سلسلہ تھا جو طلوعِ سحر تک جاری رہتا ۔

فائرنگ کے ساتھ ڈیک لگا کر اونچی آواز میں موسیقی کے نام پر طوفانِ بدتمیزی برپا کیا جانا بھی معمول بن چکا تھا۔ پتنگ کٹنے یا کاٹنے پر لڑکیاں لڑکے مل کر اچھل کود کرتے ،چھتوں پر دندناتے اوربے تحاشا ہڑبونگ مچاتے دکھائی دیتے تھے۔ اگر کوئی ناسازیٔ طبع کی بنا پر اپنے گھر میں سویا ہوا ہے، اسے پہنچنے والی ذہنی اذیت کا احساس تک نہیں کیا جاتا تھا۔

بسنت کے نام پر رقص و سرور، ہلڑ بازی، ہاؤ ہو،شورشرابہ، چیخم دھاڑ، فائرنگ، وغیرہ مہذب قوموں کا شعار نہیں ہے ۔ پتنگ بازی میں استعمال میں ہونیوالی ڈور میں کیمیکل کی موجودگی سے یہ تہوار جان لیوا ثابت ہو رہا تھا اور اس نے کئی لوگوں کی جانیں بھی لے لیں، حکومت لاکھ حفاظتی اقدامات کا کہتی رہے لیکن کیمیکل والی ڈور کا استعمال نہ رک سکا اور نہ اب رک پائے گا۔

اُ س وقت بسنت کے موقع پر کس قدر جوش و خروش اور جنون خیزی کا مظاہرہ کیوں کیاجاتا تھا؟ اس کی ذمہ داری کسی ایک طبقہ پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ حکومت، ذرائع اَبلاغ، پریس، سیکولر طبقہ، والدین، اساتذہ ، سماجی راہنما، طبقہ علما سب نے اس معاملے میں کوتاہی کا ارتکاب کیا ۔ بسنت جیسے تہوار کے متعلق جنون خیزی پیدا کرنے میں سب سے زیادہ کردار ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے ایک مخصوص طبقہ نے ادا کیا جو تہذیب و ثقافت کے نام پر اس ملک میں بیہودگی کو رواج دینا چاہتا تھا۔


یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ پہلے پہل بسنت صرف دن کے وقت پتنگ بازی کرکے منائی جاتی تھی لیکن رفتہ رفتہ راتوں کو مرکری بلبوں اور فلڈلائٹس کے ساتھ منائی جانے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے لوازمات بھی بڑھ گئے۔ قیمے کے نانوں ، بوتلوں اور کشمیری چائے سے مہمانوں کی تواضع ہونے لگی۔ اسی کی دہائی میں بسنت کے تہوار کو بہت فروغ ملا۔ کاروباری اداروں اور کارپوریٹ سیکٹر نے بسنت منانا شروع کردی اور اس میں پیسہ ڈالنا شروع کردیا۔

لاہور میں حکومت کی طرف سے جشن بہاراں کی تقریبات ہوں یا شہر کی تاریخی عمارات میں کیے جانے والی نجی بسنت پارٹیاں کوئی نہ کوئی ملٹی نیشنل اس میں شامل ہوتی تھی جن کے پاس لاکھوں اور کروڑوں روپے کے بجٹ ہیں۔آ ہستہ آہستہ بسنت عوامی تہوار سے اونچے طبقہ کا تہوار بن گیا ۔ روایتی اور عوامی بسنت میں پتنگ بازی کو مرکزی اہمیت تھی جبکہ اونچے طبقہ کی کارپوریٹ بسنت میں پتنگ بازی اس کا ایک حصہ ہے، رقص اور گانے کی محفلیں جو بسنت کے موقع پر منعقد کی جاتی ہیں وہ کسی اور تہوار سے مناسبت نہیں رکھتیں۔اسلام کے نام پر قائم ہونیوالے ملک کا یہ معاشرہ کسی لغو یا فضول تہوار کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ اس تہوار پر لگی پابندی کو برقرار رکھا جائے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

basant saqafati tehwar nahi is a khaas article, and listed in the articles section of the site. It was published on 21 December 2018 and is famous in khaas category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.