چین کی معاشی پالیسیاں امریکہ کیلئے درد سر

افغان امن مذاکرات کی معطلی ‘خطے کا مستقبل داؤ پر لگ گیا!

جمعرات ستمبر

China Ki Muashi Policiyan - America K Liye Dard Sar
 محبوب احمد
8ستمبر کو ٹرمپ نے ٹویٹس کے ذریعے طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا جو اعلان کیا ہے اس سے خطے میں کشیدگی کی ایک نئی لہر جنم دیتی نظر آرہی ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 18برس سے جاری جنگ کے خاتمے کے لئے طالبان سے ہونے والی بات چیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے ۔امریکی فوجی کی افغانستان میں ہلاکت کے بعد نا صرف کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں بلکہ افغان صدر سے طے شدہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے مجوزہ امن معاہدے کے مطابق طالبان کی طرف سے سکیورٹی کی ضمانت کے بدلے تقریباً5ہزار امریکی فوجی20ہفتوں میں افغانستان سے چلے جائیں گے،اس وقت تقریباً14ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔

(جاری ہے)


2001ء میں امریکی حملے کے بعد افغانستان میں اب تک بین الاقوامی اتحادی افواج کے تقریباً35سوار کا ن ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 23سو سے زائد امریکی ہیں ،دوسری جانب اس جنگ میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں ،عسکریت پسندوں اور سر کاری افواج کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

اقوام متحدہ نے2019ء کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 32ہزار سے زائد افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔براؤن یونیورسٹی میں واٹسن انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس جنگ میں 58ہزار سکیورٹی اہلکار جبکہ42ہزار مخالف جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں امن معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہونا تھے جن میں جنگ بندی،افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام،آئینی ترمیم،حکومتی شراکت داری اور طالبان جنگجوؤں کے مستقبل سمیت کئی مسائل پر بات چیت شامل تھی لیکن گزشتہ ہفتے امریکہ اور افغان طالبان افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کے بظاہر بالکل قریب آنے کے بعد یہ معاملہ اب پھر کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

”امن مذاکرات “کی منسوخی کے بعد طالبان کا یہ رد عمل کہ اب سب سے زیادہ نقصان امریکہ کا ہو گا لمحہ فکر یہ سے کم نہیں ہے۔
دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ اور چین کی اقتصادی ترقی نے دنیا کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔امریکہ ایک طرف معاشی تنزلی کا شکار ہے جبکہ دوسری طرف چین اپنی معیشت کو نئے خطوط پر استوار کرنے کے لئے کوششوں کو مزید تیز کررہا ہے،اس سلسلے میں یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارت ،سرمایہ کاری اور با صلاحیت افراد کی منتقلی میں تعاون کے معاہدے بھی منظر عام پر آرہے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک وشبے کی گنجائش نہیں ہے کہ چین نے عسکری محاذ پر الجھنے کے بجائے امریکہ کے اقتصادی غبارے سے ہوا نکالنے کی ٹھان لی ہے اور اس میں وہ کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کر چکا ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے ایشیائی بینک کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کیونکہ اس سے مستقبل قریب میں ترقی پذیر ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے شکنجے سے نکلتے نظر آ رہے ہیں،اگر یہ معاشی نظام کامیابی سے ہمکنار ہو گیا تو واقعی یہ صدی ایشیاء کی صدی بن جائے گی یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے لب ولہجے میں کر ختگی ظاہر ہوتی جارہی ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ امریکہ سوویت یونین سے کہیں زیادہ بڑی طاقت ہے اور اس کی عالمگیر بالادستی کا رعب اس وقت پوری دنیا پر طاری ہے ،چنانچہ اس کے زوال کے ذکر پر کوئی چونکتا ہے تو کوئی طنز سے مسکراتا ہے اور کوئی ناراض ہو جاتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج امریکہ نے عالمی افق پر اقتدار کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جو جال بنا تھا اس میں وہ بری طرح پھنس چکا ہے ۔

چین فی کس آمدنی کو دو گنا کرنے کی حتمی کوشش میں مصروف ہے۔چینی صدر کی دو ترجیحات ہیں،پہلی اگلے پنج سالہ ترقیاتی پروگرام کا مسودہ تیار کرنا اور دوسری یورپ کے سامنے یہ واضح کرنا کہ چین ایک عالمی سٹیک ہولڈر کی حیثیت سے اپنا کس طرح کردار ادا کرے گا۔
2001ء میں چین کی عالمی تجارتی ادارے (ڈبلیوٹی او)میں شمولیت کے بعد جو پہلا مرحلہ سامنے آیا تھا درحقیقت ترقی کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر اس وقت باہمی تجارت کا حجم 76.6ارب ڈالر تھا اور 2014ء کے اختتام پر یہ 615ارب ڈالر تک پہنچ گیا،اب چین اور یورپی یونین کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ باہمی شراکت داری کی بنیاد مضبوط کریں،اگر فریقین مضبوط وژن اور پختہ ارادے ظاہر کریں تو وہ مزید آگے بڑھیں گے ۔

ڈبلیو ٹی وی میں چین کی شمولیت چین ویورپی یونین کے تجارتی و اقتصادی تعلقات کے لئے فائدہ مند تھی ،اب بیجنگ اور برسلز سالہا سال تک فائدہ اٹھانے کے بعد ان تعلقات میں نئی تحریک پیدا کرنے کے لئے فوری قدم اٹھانے کی ضرورت سمجھ چکے ہیں۔فریقین باہمی سرمایہ کاری مذاکرات کو تیز کرنے اور رواں برس کے اختتام تک مذاکرات کے لئے مسودے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے،دونوں نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کررکھے ہیں۔

عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میں امریکہ،برطانیہ اور یورپ شدید اقتصادی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ چین اور یورپی یونین لگ بھگ 2.5ارب سے زائد کی آبادی رکھتے ہیں اور عالمی معیشت کے تقریباً ایک تہائی کے حامل ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ اگر رکاوٹیں ہٹادی جائیں تو اس مارکیٹ میں کتنا دم اور صلاحیت موجود ہے۔
عراق اور افغانستان کی جنگیں امریکی تاریخ کی مہنگی ترین جنگیں قرار پائی ہیں کیونکہ ان 2جنگوں میں ہونے والے اخراجات کا تخمینہ 4سے6کھرب ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے ۔

امریکہ اور اس کے اتحادی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ 2001ء میں شروع ہونے والی افغان جنگ تاریخ کی طویل جنگ میں تبدیلی ہو جائے گی ۔امریکہ اور نیٹو مالی اخراجات اور جانی نقصانات بری طرح شکست سے دوچار ہو چکے ہیں اور اگلے کئی برس تک اس کے اثرات رہیں گے۔افغانستان اور عراق کی جنگوں میں برطانیہ کی مداخلت پر اس ملک کا30ارب پاؤنڈ کا خرچہ آیا جو ہر برطانوی گھرانے کیلئے ایک ہزار پاونڈ کے برابر ہے ،اسی طرح امریکہ کے دوسرے اتحادی ممالک میں شائع ہونے والی مالی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جانب سے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی کو جاری رکھنے سے گریز کرنے کی بڑی وجہ اس جنگ میں ہونے والے عظیم اخراجات ہیں جن کے وہ اب مزید متحمل نہیں ہو سکتے ۔


معیشت اور مالیات کے شعبے میں امریکہ کا سب سے بڑازوال یہ ہے کہ وہ قرض دینے والے ملک کے بجائے ”مقروض “ملک میں تبدیل ہو گیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے دفاعی اور سماجی شعبے کے منصوبوں سے متعلق اخراجات بڑھ رہے ہیں ۔افغانستان پر قبضے کے بعد سوویت یونین کی معیشت بری طرح تباہ ہوئی تھی آج امریکہ بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال سے دو چار ہے۔

سابق صدر بل کلنٹن کے دور حکومت میں ملک کا مجموعی قرضہ 5.7کھرب ڈالر تھا لیکن جب امریکہ عالم اسلام کو فتح کرنے کے جنون میں مبتلا ہوا تو عراق اور افغان جنگ کے نتیجے میں اس کے حاصل کئے گئے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو تا چلا گیا ۔2003ء کے بعد امریکہ پر قرضوں کے بوجھ میں مسلسل تقریباً500ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ ہوا۔
اعداد وشمار کے مطابق 2008ء میں قرضوں میں ایک کھرب ڈالر2009ء میں 2کھرب ڈالر2010ء میں 1.7کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ 2018ء تک امریکہ کے واجب الاد اقرضوں کا حجم مجموعی طور پر 30کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

سلطنت برطانیہ کے زوال کی بڑ ی وجہ بھی یہی ہے۔برطانیہ نے اپنے ہاتھ پاؤں اتنے پھیلا لئے کہ اس کے اخراجات آمدنی سے بڑھ گئے ہیں اور اب آمدنی اور خرچ کے اس عظیم فرق کو قرضوں سے پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لہٰذا آمدنی واخراجات کا یہ عدم توازن برطانیہ کے عسکری زوال کا سبب بن رہا ہے۔یورپی یونین کے کئی ممالک امریکہ کی مخالفت کے باجود بیجنگ کی زیر قیادت ایشیائی انفرااسٹر کچرانویسٹمنٹ بینک کے بانی رکن بن چکے ہیں ،پہلے سے متحرک اقتصادی وتجارتی سر گرمیوں کے بعد اب ایک باہمی سرمایہ کاری معاہدہ ،ایک مشترکہ حکومتی زیر نگرانی فنڈاور نئے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئندہ برسوں میں چین اور یورپی یونین کے درمیان انتظامات کے لئے تیار ہیں،باہمی سرمایہ کاری معاہدہ اور مشترکہ فنڈ ایک دوسرے کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی سہولت دیں گے گوکہ اس کو حقیقت کا روپ دینا باقی ہے اور یہ2020ء تک عملی میدان میں نظر آسکتے ہیں۔


Your Thoughts and Comments

China Ki Muashi Policiyan - America K Liye Dard Sar is a international article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 September 2019 and is famous in international category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.