پاکستان میں ای ہیلتھ کئیر کی بگڑتی صورتحال تباہی کا باعث بھی ہو سکتی ہے

دنیا اس وقت وبائی بیماری کے پھیلاؤ کے دور سے گزر رہی ہے جہاں 20 لاکھ لوگ اس وبائی مرض کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں

پیر فروری

eHealth Situation is getting worst in Pakistan
دنیا اس وقت وبائی بیماری کے پھیلاؤ کے دور سے گزر رہی ہے جہاں 20 لاکھ لوگ اس وبائی مرض کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس معاملے کا بدترین پہلو یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ابھی مزید کتنی جانوں کی قربانی دی جانی ہے ۔اس وبا نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈاون لگا دیا گیا۔ لوگ اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا رہے ہیں اور خود بھی موت کے خظرے سے دوچار ہیں۔

اس کوویڈ 19 کی وبا کے دوران بہت سارے سبق ہم نے سیکھے مگر ان میں سب سے اہم سبق جو ہم نے سیکھا وہ ای ہیلتھ کئیر کی اہمیت کا تھا
اگر ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو اس حوالے سے ہمیں شرمناک صورتحال کا سامنا ہے دنیا کے 194 ممالک میں سے پاکستان صحت کی صورتحال کے حوالے سے 154 نمبر پر ہے۔ جہاں ہر سال دس لاکھ افراد صرف اس لیۓ ہلاک ہو جاتے ہیں کہ ان کی پہنچ صحیح ڈاکٹر تک نہیں ہو سکتی جب کہ اسی دوران ملک بھر میں چھ لاکھ جعلی عطائی ڈاکٹر مریضوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

صحت کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک کے مقابلے میں پاکستان سہولیات اور کوالٹی کے حساب سے بہت پیچھے ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نےکبھی بھی صحت کے شعبے میں وہ اقدامات نہیں کیۓ جو ان کو کرنے چاہیے تھے اور اسی وجہ سے ہم لوگ ٹیکنالوجی اور ای ہیلتھ کئیر کے شعبے میں بہت پیچھے رہ گۓ ہیں جب کہ دنیا ای ہیلتھ کئیر کے شعبے میں تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ مریضوں کا علاج تیزی سے درست انداز میں کیا جا سکے اور صحت کی سہولت ہر انسان کے دسترس میں اس کی گنجائش کے مطابق فراہم کی جا سکے جب کہ بدقسمتی سے پاکستانی اب تک پتھروں کے دور میں جی رہے ہیں مگر اب بھی پانی سر سے نہیں گزرا ہے اور ایسے اقدامات کیۓ جا سکتے ہیں جس سے صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں لائی جا سکیں۔


ای ہیلتھ کئیر کا شعبہ اس کرونا وبا کے دنوں میں روشنی کی کرن کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کا فائدہ نہ صرف ڈاکٹروں کو ہے بلکہ اس سے مریض بھی گھر بیٹھے اپنے وقت اور پیسے کی بچت کرتے ہوۓ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور پاکستان کے بربادی سے دوچار صحت کے نظام کو سنبھالا دے سکتے ہیں ۔ اس کے ذریعے نہ صرف گھر بیٹھے ڈاکٹروں سے فوری رجوع کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے پیسے اور وقت دونوں کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔


اس حوالے سے اس وقت پاکستان میں کئی ڈیجیٹل ای ہیلتھ کئیر کے ادارے کام کر رہے ہیں جو کہ مریضوں کو آن لائن اپائنٹمنٹ ، ویڈیو کنسلٹیشن ، آن لائن ادویات کی ترسیل جیسی اہم سہولیات فراہم کر رہے ہیں جس سے مریضوں کو گھر بیٹھے بہترین سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔
ڈیجیٹل ہیلتھ کئیر سہولیات فراہم کرنے والے اداروں میں   
سر فہرست اور بانی ادارہ ہے جو کوویڈ 19 کے اس دور میں  Marham.pk
پہلی صفوں میں موجود ہے اور عوام کو صحت کی بہترین ترین سہولیات فراہم کر رہا ہے اور ہزاروں لوگوں کو سیکڑوں کوالیفائڈ آن لائن ڈاکٹرز کے ذریعے صحت کی بہترین ترین سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔

ایسے وقت میں جب کہ ہسپتالوں میں جا کر معائنہ کروانا کوويڈ 19 کے خطرے میں کئی گنا اضافے کا باعث ہوسکتا ہے۔ لوگ آن لائن سہولیات سے فائدہ اٹھا کر کوالیفائڈ ڈاکٹروں سے مشورہ کر سکتے ہیں اس سہولت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہاں موجود ڈاکٹر بہترین کوالیفائڈ اور تجربہ کار ہیں کیوں کہ جعلی عطائی ڈاکٹر ان حالات میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس صورت میں اپنی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے مستند ڈاکٹر سے گھر بیٹھے رجوع کرنا ایک ایسی سہولت ہے جو آپ کو ایک بڑے خطرے سے بچا سکتی ہے۔
عام طور پر پاکستان میں ہم ہر کام کے نہ ہونے کا الزام حکومت پر لگا دینے کے عادی ہو چکے ہیں مگر ای ہیلتھ کئیر کو اپنانا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے ٹیکنالوجی کو سیکھ کر اور اس کو استعمال کر کے ہم اپنی حالت خود بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہمارا ملک جس کی آبادی 63 فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے وہ آئی ٹی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تو پھر ایسی صورتحال میں ای ہیلتھ کئیر کو اپنا کر نہ صرف ملک کی صحت کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ کرونا کے خطرے کا بھی سامنا بہتر انداز میں کیا جا سکتاہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

eHealth Situation is getting worst in Pakistan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.