آئی جی کے اغواء پر سندھ حکومت کی دروغ گوئی

قائد کے مزار پر ہلڑ بازی کرنے والوں نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے

پیر نومبر

IG k agwa per sindh hakomat ki darogh goi
آر ایس آئی
اپوزیشن الیون کے کراچی میں جلسے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری و رہائی کے موقع پر کھیلا جانے والا مذموم سیاسی کھیل جہاں جھوٹ اور جھوٹوں کی دیدہ دلیری کا ایک شاہکار تھا،وہیں اس ایک ایکٹ کے ڈرامے نے جھوٹ کے بہت سے پاؤں بھی ظاہر کر دیئے ہیں سب سے پہلا جھوٹ یہ بولا گیا کہ قائداعظم محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ کے مزار کی بے حرمتی کرنے پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی آر غیر ضروری اور غیر قانونی تھی،اس جھوٹ کا پاؤں تب پکڑا گیا جب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانت کرنے والی معزز عدالت کے روبرو سندھ حکومت کے پراسیکیوٹر نے اپنا موٴقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزار قائد کی بے حرمتی پر ایف آئی آر کاٹنا ازحد ضروری ہے کیونکہ مزار قائد کے تقدس کو یقینی بنانے کیلئے 14 اکتوبر 1971 کا آرڈینس اور 1993ء تحفظ مزار قائد ایکٹ کا خصوصی وفاقی قانون موجود ہے جسے صوبائی قانون پر بھی واضح فوقیت حاصل ہے،اس کا مطلب یہ ہوا کہ مزار قائد رحمة اللہ علیہ کی ہونے والی بے حرمتی پر اگر سندھ پولیس کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے میں اپنی روایتی سیاسی جانبداری اور غیر قانونی تساہل سے کام نہیں لیتی تو وفاقی اداروں کو آئی جی سندھ پولیس مشتاق مہر کو ایف آئی آر کاٹنے کیلئے قائل کرنے کی کبھی زحمت ہی نہیں اٹھانا پڑتی،دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی اداروں پرمزار قائد رحمة اللہ علیہ کی بے حرمتی کے ملزم کیپٹن ریٹائر صفدر کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے کیلئے شدید عوامی دباؤ تھا اس دباؤ کا اندازہ معروف ادیب،دانشور اور ڈرامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کے اس مبینہ کھلے خط کے مندرجات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو مزار قائد کی پامالی کے غم میں بطور احتجاج لکھا گیا تھا۔

(جاری ہے)


مستنصر حسین تارڑ اپنے احتجاجی خط میں لکھتے ہیں کہ ”میں بہت دُکھ میں ہوں،میں نے اپنی آنکھوں سے اسلامیہ کالج لاہور میں قائداعظم رحمة اللہ علیہ کو تقریر کرتے دیکھا تھا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے تھے اب انہیں آنکھوں سے دیکھا کہ قائداعظم رحمة اللہ علیہ کی قبر کے گرد ایک ہجوم ہے اور وہ پاگلوں کی مانند سیاسی نعرے لگائے جا رہا ہے،خواتین ان نعروں کو احترام سے سن رہی ہیں۔

قائداعظم کی قبر کو روندا جا رہا ہے،اس قوم کے باپ کی بے عزتی کی جا رہی ہے اور وہاں نعرہ زن جو بھی لوگ تھے میں ان پر۔۔۔بھیجتا ہوں۔میں آج خود اپنے آپ کو مجرم سمجھتا ہوں کہ میں اس قوم کا حصہ ہوں جس نے اپنے باپ کی تذلیل کی، مجھے سنگسار کر دیجئے،مجھے دار پر چڑھا دیجئے،مجرم میں ہوں اور اس جرم کی معافی نہیں مل سکتی“،صر ف مستنصر حسین تارڑ ہی کیا معروف اداکار خالد انعم،فخر امام اور آمنہ الیاس سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مزار قائد کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا ایک بار نہیں بلکہ بار بار مطالبہ کیا لیکن جب 17 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی سندھ حکومت اور سندھ پولیس کے کان پر کوئی جوں نہ رینگی تو چارونا چار وفاقی اداروں کو ایک چھوٹی سی ایف آئی کار کٹوانے کے لئے بھی دباؤ ڈالنا پڑا تو وفاقی اداروں کی اس قابل تحسین کوشش کو جس انداز سے سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی گئی وہ ہر ذی شعور شخص کیلئے سمجھ سے یکسر بالاتر تھی۔


پاکستان کے سیاستدانوں نے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے سیاسی گفتگو میں اتنا زیادہ خلط مبحث کر دیا ہے کہ اب عوام جھوٹ کو ہی سچ سمجھنے لگے ہیں،بس یہ جان لیجئے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ کو ہر ضابطہ،قانون اور حدود وقیود سے مکمل طور پر مادر پدر آزاد کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور نیوز چینلز جھوٹ کی سواری بن چکے ہیں،سیاستدان اس جھوٹی سواری کے شہہ سوار ہیں اور جھوٹ کا اصل ہدف و منزل سادہ لوح عوام کے اذہان اور قلوب ہیں۔

جھوٹ کو اتنا سازگار،مناسب اور پرکشش ماحول تاریخ انسانی میں شاید ہی کبھی میسر آیا ہو،جتنا کہ آج کے دور پر فتن میں حاصل ہو چکا ہے،ہر روز سورج طلوع ہوتے ہی جھوٹی خبر،جھوٹا بیان اور جھوٹا دعویٰ باہم مل جل کر ذرائع ابلاغ کی ”ڈیجیٹل سواری“ پر سوار ہو کر عام آدمی کے ذہن اور دل کو اپنا شکار بنانے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور رات کے آخری پہر تک یہ شکاری بلا کسی روک ٹوک کے ساتھ دندناتے پھرتے رہتے ہیں جبکہ بے چاری سچائی پابجولاں جھوٹ کے کٹہرے میں کھڑی بے بسی سے آنسو بہاتی رہتی ہے،ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جھوٹ کے پاؤں ہوتے ہیں؟کہ کسی طرح ان میں بھی بیڑیاں ڈالی جا سکیں یا اسے بھی پاؤں سے پکڑ کر اُوندھے منہ گرایا جا سکے۔


تاکہ سچ کی عزت و ناموس جھوٹ کی بے محابہ”سیاسی دست درازی“سے محفوظ و مامون ہو سکے،یاد رہے کہ جھوٹ کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا اس لئے بھی ضروری ہو چکا ہے کہ اَب جھوٹ اور اس کی پروردہ سیاسی قوتوں نے وطن عزیز پاکستان کی سالمیت کے ذمہ دار اداروں کے دامن کو بھی اپنے ”سیاسی جھوٹ“ سے آلودہ کرنے کی جسارت شروع کر دی ہے،دوسری دروغ گوئی مریم نواز نے پریس کانفرنس میں یہ فرمائی کہ”سندھ رینجرز نے ان کے ہوٹل کا گھیراؤ کیا اور کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو گرفتار کرکے لے گئے“اس جھوٹ کا پاؤں بھی آخر کار ہوٹل میں لگی سی سی ٹی وی فوٹیج کے منظر عام پر آنے کے بعد بے نقاب ہو ہی گیا کیونکہ فوٹیج کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے لئے تمام ترکارروائی پولیس اہلکاروں نے کی تھی جبکہ کمرے کا تالا توڑنے کا مقدس ترین فریضہ مریم نواز کے ذاتی محافظ نے فقط اس لئے انجام دیا تاکہ بوقت ضرورت مریم بی بی کی سیاست کا چاند چڑھانے کے لئے صورت حال میں جھوٹ کے سیاہ رنگ بھر کر اسے مزید رنگین سے سنگین تر بنایا جا سکے اب بس!ایک آخری سچ یا پھر جھوٹ کا ثابت ہونا باقی رہ گیا ہے کہ کیا آئی جی سندھ مشتاق مہر کو اغواء کیا گیا تھا یا نہیں؟یقینا آئی جی سندھ کے گھر میں اور باہر بھی سی سی ٹی وی کیمرے ضرور نصب ہوں گے۔


سندھ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کیمروں کو فوٹیج بھی منظر عام لے آئے یا پھر آئی جی سندھ کے اغواء کی ایک عدد ایف آئی آر سرکاری مدعیت میں درج کروا کر اپنے ادھورے سچ کو پورے سچ میں بدل کر وفاقی حکومت کے مقابلہ میں شاندار اخلاقی و سیاسی برتری حاصل کرلے،بہر کیف اگر سندھ حکومت ان دو بے ضرر سے کاموں میں سے ایک بھی نہیں کرنا چاہتی تو پھر خاطر جمع رکھیئے کہ پکڑنے والے اس جھوٹ کے پاؤں میں بھی بیڑیاں ڈالنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے لیکن اگر خدانخواستہ جھوٹ کے پاؤں میں سچ کی بیڑیاں نہ پہنائی جاسکی تو پھر ابھی تو صرف ملکی اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے مگر ڈر ہے کہ کہیں اگلی بار واقعی ملکی اداروں کی اینٹوں سے اینٹیں بجانے کا برسوں پرانا خواب حقیقت میں نہ بدل دیا جائے۔


”جھوٹ کے پاؤں بھی ہوتے ہیں اگر تو بولے
آج مجھ کو تری تقریر سے اندازہ ہوا“

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

IG k agwa per sindh hakomat ki darogh goi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 November 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.