آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اور پولیس اصلاحات

عوام کو انصاف اور ریلیف دینے ،قانون پرعملدرآمد کو یقینی بنانے والاایک ذمہ دار پولیس کا ادارہ ہے جسے ماضی میں سیاست دان اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جائز اور ناجائز مقاصد میں استعمال کرتے رہے

Akhtar Sardar Chaudhry اختر سردارچودھری منگل مئی

IG Punjab Or Police Islahat
پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں آئی ایس آئی ، فوج کے تینوں ادارے اور پولیس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔اس کے ساتھ کئی اور ادارے اور فورسززبھی شامل ہیں ۔یہ وہ ادارے ہیں جن کو آئین پاکستان نے حق دیا ہے کہ وہ پاکستان کی سرزمین پہ قانون کے نفاذ کو یقینی بنائیں ۔ہر صوبے میں پولیس کے محکمے قائم ہیں مثلاََخیبر پختونخوا پولیس،پنجاب پولیس،سندھ پولیس،بلوچستان پولیس،آزاد کشمیر پولیس اور گلگت بلتستان پولیس وغیرہ ۔

پولیس کا صوبائی سربراہ آئی جی کہلاتا ہے ۔جو انسپکٹر جنرل آف پولیس (Inspector General of Police) کا مخفف کہا جا سکتا ہے ۔یہ پاکستانی پولیس کا تین ستارہ افسر ہوتا ہے جو وزیر اعلیٰ کے ماتحت کام کرتا ہے۔ہر صوبہ کا مرکزی دفتر اس صوبہ کے مرکز میں قائم کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اور تھانوں کا جال پورے صوبے میں بچھا ہوا ہے۔مثلاََپنجاب پولیس کے تھانے پنجاب کے مختلف شہروں میں قائم کیے گئے ہیں۔

لیکن صوبائی مرکز پاکستان کے دل لاہور میں ہے۔پنجاب کا موجودہ آئی جی پی کیپٹن (ر) عارف نواز خان ہے ۔
جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب دو سری بار پنجاب کے آئی جی مقرر ہوئے ہیں ۔اس سے پہلے (جولائی 2017ء)میں اس عہدے پر کام کر چکے ہیں۔ان کے بعد آئی جی پی ڈاکٹر سید کلیم امام (جون 2018 ء)آئی جی پی ایم طاہر (ستمبر 2018ء)آئی جی پی امجد جاوید سلیمی 2018ء)صوبے کے سربراہ رہے ہیں ۔

حال میں ہی انہیں (اپریل 2019ء) کودوسری بار یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب کے والد گرامی محمد نواز صاحب اور تایا محمد الطاف صاحب ریٹائرڈ سیشن جج ہیں اور ریٹائرڈ جسٹس آف سپریم کورٹ محمد منیر صاحب کے داماد ہیں۔
ان کا تعلق چیچہ وطنی کے نزدیکی قصبہ کسووال کے قریب 18/14 ایل اقبال نگر سے ہے ۔کیپٹن(ر)عارف نواز 1961ء میں پیدا ہوئے اور1986ء میں بطور اے ایس پی پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔

انہوں نے بطور اے ایس پی،ایس ڈی پی او لودھراں، پاکپتن اور فیروزوالہ شیخوپورہ میں فرائض سر انجام دیے ۔1992ء میں ایس پی کے عہدہ پر ترقی کے بعد وہ ایس پی گوجرانوالہ، راجن پور، چکوال،سرگودھااورخیبر پختونخواہ تعینات رہے۔انہوں نے 2000 ء میں ایس ایس پی، 2009 ء میں ڈی آئی جی اور 2014ء میں ایڈیشنل آئی جی کے عہدہ پر ترقی پائی اس دوران انہوں نے بہاولپور، فیصل آباد،سپیشل برانچ، وی وی آئی پی سکیورٹی، ڈی آئی جی ٹریننگ پنجا ب، بلوچستان اور سنٹرل پولیس آفس پنجاب لاہورمیں اہم عہدوں پر فرائض سرانجام دئیے۔


کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے بطور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے پو لیس میں اصلاحات بارے بہت اہم اعلانات کیے ۔انہوں نے کہا پولیس کو مظلوموں کی داد رسی کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا۔ انصاف کی فوری فراہمی پولیس کی ترجیح ہونی چاہئے۔ ہمیں پولیس کا امیج بہتر بنانے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا، ہمارے پاس کام کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔

ہمیں ظلم کا شکار افراد کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اب ٹیم کا حصہ وہی رہے گا جو کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ٍکیونکہ پنجاب پولیس کے پاس کارکردگی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، سستی اور کاہلی برداشت نہیں ہو گی۔انہوں نے پولیس افسران سے کہا اللہ کے سامنے جھکیں، یہ عہدہ میرے لیے امتحان ہے، کیونکہ عوام کی خدمت عبادت سے کم نہیں ہے۔

انہوں نے عہد کیا کہ تھانہ کلچر کی تبدیلی میرامشن ہے، پولیس اصلاحات کا نفاذہر صورت یقینی بنایا جائیگا۔پولیس کی ذمہ داری بارے کہا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے، تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کی سخت مانیٹرنگ ہوگی۔غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔ جب سے انہوں نے اپنے عہدے کا چارج لیکر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں پولیس کی کارکردگی میں بہتر ی نظر آئی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان شا ء اللہ مزید بہتری آئے گی ۔
جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب کا پولیس کے محکمہ میں اصلاحات لانے کا اعلان خوش آئند ہیں ۔پولیس کے محکمہ میں اس وقت اس کی شدید ضرورت ہے ۔محکمہ پنجاب پولیس میں اگر درج ذیل اصلاحات لائی جائیں تو اسے حقیقی معنوں میں عوام دوست ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔پولیس کا محکمہ اگر سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو جائے تو قانون کے مطابق کام کرنے کے قابل ہو سکے گا ۔

عام طور پر پولیس کے بارے میں رشوت ستانی اور سفارش کا الزام لگایا جاتا ہے اس الزام میں کافی حد تک حقیقت بھی ہے ۔لیکن اس کی بنیادی وجہ عوام ہی ہے ۔کیونکہ کرپٹ صرف پولیس ہی نہیں ہمارا معاشرہ،ہماری عوام زیادہ کرپٹ ہے۔اگر تھانے میں کوئی مقدمہ درج کروانا ہو تو دونوں فریقین سفارش کے لیے ایم این اے یا ایم پی اے کی طرف دوڑتے ہیں یا پھر پیسے لے کر تھانے پہنچ جاتے ہیں ۔

تاجر حضرات اپنی دکانوں کے سامنے ریڑھیاں اور ٹھیلے خود لگواتے ہیں۔ جب پولیس والے انکو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو سفارش یا رشوت سے حل نکالا جاتا ہے۔اگر محکمہ پولیس کو سیاسی دباؤسے مکمل آزاد کر دیا جائے تو اس برائی کا خاتمہ ممکن ہے ۔جب رشوت دینے یا سفارش کرنے پر پولیس کو اختیار ہو کہ وہ مقدمہ درج کر سکے اور کوئی ایم پی اے یا ایم این اے اس کا تبادلہ نہیں کرواسکتا تو رشوت اور سفارش کا سدباب ممکن ہے ۔


اسی طرح جھوٹے مقدمات اور جھوٹی درخواست بازی پر قابو پایا جانا بہت ضروری ہے ۔جھوٹے مقدمے درج کروانے پر مدعی کو اگر سزا کا قانون ہو اور اس پر سختی سے عمل ہو تو بہت سے مقدمات درج ہی نہیں ہوں گے جس سے پولیس کو اصل اور حقیقی جرائم کی سرکوبی کے لیے وقت ملے گا ۔آئی جی پنجاب جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب اگر پولیس کے محکمے میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں اور یقینا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے تمام پولیس اہلکاروں کو اس کا یقین دلانا ہوگا کہ وہ سیاسی تسلط سے آزاد ہو چکے ہیں ۔

پولیس اہلکاروں کی قانونی ذمہ داری میں یہ شامل کیا جائے کہ وہ کسی بھی ممبر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، سینیٹ یا کسی بھی دوسرے محکمے کے اعلی افسر کی کسی بھی سفارش کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی رشوت قبول کریں گے بلکہ رشوت دینے والے کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے ۔اسی طرح پولیس کے اہلکاروں کوتفتیش کے پرانے طریقوں کو ترک کرکے جدید سائنسی اور نفسیاتی طریقوں کو استعمال کرنے کی تربیت دی جائے۔


ہر تھانے کے ایس ایچ او کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے علاقے کی گشت کرے۔علاقے کے عام افراد سے ملاقات کر ئے اور تھانے تک ہر کسی کی رسائی کو ممکن بنایا جائے ۔ایس ایچ او اپنے علاقے میں ہونے والی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھے، ہر واقعے پر رپورٹ تیار کرے اور تمام غیر قانونی و غیر اخلاقی سرگرمیوں پر فوری ایکشن لے۔ پولیس کے عوام کے ساتھ تعاون کو یقینی بنایا جائے ۔

چاہے اس کے لیے قانون سازی کی جائے تاکہ کوئی پولیس والا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے کسی بھی شخص کے ساتھ بدتمیزی سے پیش نہ آئے، گالم گلوچ، مار پیٹ نہیں کر سکتا ۔ ہر تھانے میں عوامی شکایات سیل قائم کیے جائیں ۔جن پر عمل کو یقینی بنایا جائے ۔جیسا کہ ماہ رمضان آ چکا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ ماہ رمضان میں اشیاء ضروریات کی قیمتیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔

اس کے ساتھ ہی مضر صحت اور دو نمبر یا ملاوٹ شدہ اشیاء کی بھر مار ہو جاتی ہے ۔پولیس کا محکمہ اگر چاہے تو اشیاء کی قیمتوں کو مناسب حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔بلکہ دو نمبر اشیاء کی فروخت سے بھی روکا جا سکتا ہے ۔تھانوں میں پولیس ملازمین کی نفری کی کمی کو بھی ہنگامی بنیادوں پر پورا کرنا چائیے ۔
جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔

اسی طرح چونکہ ماہ رمضان میں مسجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔جس مناسبت سے سیکورٹی خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔موجودہ آئی جی پنجاب جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب نے چند دن پہلے اس مسئلہ کی طرف پولیس کی توجہ دلاتے ہوئے پولیس آ فیسر ان کو تاکید کی کہ وہ رمضان المبارک کے مہینے میں رمضان بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں اور تمام عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لیے پلان تیار کر کے بھیجیں تا کہ اس کے لیے بھی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

ان کے اس عمل سے پولیس کارکردگی پر بھی مثبت اور نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔
عوام کو انصاف اور ریلیف دینے ،قانون پرعملدرآمد کو یقینی بنانے والاایک ذمہ دار پولیس کا ادارہ ہے جسے ماضی میں سیاست دان اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جائز اور ناجائز مقاصد میں استعمال کرتے رہے، جس سے پولیس کا حقیقی مقصد ختم ہوتا گیا ۔محکمہ پولیس میں موثر اصلاحات کی اشد ضرورت تھی ،ایک ایسا غیر جانبدار اور غیر سیاسی نظام پولیس جو کہ عدم تحفظ کا شکار شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنا سکے۔

پولیس کے رویوں کو دیکھتے ہوئے اور عوام کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ،نظام پولیس میں موثر اصلاحات اور ویلفیئر کے لئے پولیس آئی جیز، ریٹائرڈ پولیس آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جیز پر مشتمل ایسوسی ایشن آف فارمر انسپکٹر جنرل پولیس (اے ایف آئی جی پی) کا قیام عمل میں لایا گیا ، جس کا مقصدپولیس کی جدید خطوط پر اصلاحات، پاکستان بھر میں پولیس کی محکمانہ ترقی کے لئے اہم مشاورت اور خدمات فراہم کرنا، پولیس کو ہرقسم کے سیاسی دباؤ سے بالا تر اور منصفانہ طور پر خدمات کی آزادی، رویوں میں بہتری، عوام اورپولیس کاآپس میں تعلق شامل ہے، اور اس نیک مقصد کے لیے (اے ایف آئی جی پی) کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔


آئی جی پنجاب جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب کا شمار ملک کے ان چند فرض شناس پولیس آفیسر ان میں ہوتا ہے ۔جو کسی بھی قسم کے دباؤ کو نظر انداز کر کے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے سر انجام دینے میں شہرت رکھتے ہیں ۔انہوں نے ایماندار ،ذمہ دار،فرض شناس پولیس آفیسر کے طور پر اپنی پہچان بنائی ہے ۔ہمارے ملک میں پولیس کے محکمے میں ایسے پولیس آفیسر انتہائی کم ہیں جو عوام کی خدمت کو اپنا اوڑھنا پچھونا سمجھتے ہیں ۔

آئی جی پنجاب جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب اپنی انہی خوبیوں کی وجہ سے عوامی حلقوں میں بے پناہ مقبولیت رکھتے ہیں ۔عوام کی اکثریت نے انہیں دوبارہ آئی جی پنجاب بننے پر خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ہم جناب کیپٹن (ر) عارف نو از خان صاحب کے دوسری بار آئی جی پنجاب بننے پر نیک خواہشات کے ساتھ انہیں دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں اوران کی کامیابی و کامرانی کے لیے دعا گو ہیں ۔

Your Thoughts and Comments

IG Punjab Or Police Islahat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 07 May 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.