جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

الیکشن سر پر تھے۔ ہر سیاسی جماعت گلی کونوں سے میدانوں اور سڑکوں تک پنڈال سجا نے میں مصروف تھی۔ماضی کی صورتِ حال دیکھ کر 2013 کے الیکشنز کو اہم معرکہ قرار دیا جا رہا تھا اور بلا شبہ جیتنے والی جماعت اگلے پانچ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کی خالق بنتی

پیر فروری

Jo Teri Bazm Se Nikla So Pareshan Nikla
کفیل رانا:
الیکشن سر پر تھے۔ ہر سیاسی جماعت گلی کونوں سے میدانوں اور سڑکوں تک پنڈال سجا نے میں مصروف تھی۔ماضی کی صورتِ حال دیکھ کر 2013کے الیکشنز کو اہم معرکہ قرار دیا جا رہا تھا اور بلا شبہ جیتنے والی جماعت اگلے پانچ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کی خالق بنتی۔اس الیکشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایک پارٹی کا بہت چرچا سنائی دیا۔

طویل عمر کے باوجود،اس جماعت پر شباب کا دور اب نمودار ہوا تھا۔بحیثیت طالبعلم،ہم بھی سیاست میں اک نئی صبح کی امید کر رہے تھے اور ہمارے ساتھی بھی اسی جماعت کے حامی تھے۔چنانچہ لاہور میں جتنے بھی جلسے ہوئے،ہم نے ان میں بلا توقف شرکت کی۔جلسوں میں عوام کی بھاری تعداد دیکھ کر حیرانی ہوتی کہابھی یہ جماعت سیاست کے افق پر اک تازہ ستارہ ہے۔

(جاری ہے)

ہمارے لیے باعثِ تسکین بات یہ تھی کہ ہماری طرح بہت سے نوجوان اس جماعت کی صفوں میں شامل تھے اور عرصے بعد کوئی جماعت نوجوانوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ پارٹی کاسرخ و سبز جھنڈا اٹھائے اور چہروں پر رنگین تبسم کا امتزاج لیے نئے پاکستان کا خواب دیکھا جا رہا تھا
تقریروں میں کرپٹ سیاستدانوں اور ملکی اشرافیہ کو جیت کی صورت میں زندانوں کی نوید سنائی جاتی۔

نوجوانوں کو ملک کا اثاثہ قرار دیا جاتا اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے ہنگامی بنیادوں پر نئی پالیسوں کا راگ آلاپا جاتا رہا۔کسان اور مزدور طبقے کے لئے تو ایسے طلسماتی نظام کی خوشخبری تھی جس میں مسائل ہونے کی گنجائش محض اک خواب کی صورت تھی۔
جو قوم ستر برس سے رائج نعروں کو ازبر کر چکی ہو اس کے لئے یہ سب کچھ نیا نہیں تھا۔لیکن اب کی بار اک نئی تکنیک کا استعمال کیا گیا تاکہ نعروں کی سیاست کو جدت کا لباس پہنا کر اسے موسیقی کے روپ میں پیش کیا جائے۔

مجھ سمیت ہر نوجوان اس نئی طرز کی سیاست کا اسیر ہوتا چلاگیا۔دن بدن اس جماعت کی ساخت بھی مضبوط ہو رہی تھی چنانچہ ہم مصرتھے کہ اب کی بار موروثی سیاست کا سدِ باب ہوگا اور ہماری جماعت ملک میں اک فلاحی انقلاب کا موجب بنے گی۔11 مئی کی شام تھی۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ہماری جماعت کلی سطح پر محض ایک صوبے میں ہی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

میں اس قوم کی سوچ پر مایوس تو ہوا لیکن جو ایک بات ہمارے لئے باعثِ تسکین بنی وہ یہ تھی ہم اک مضبوط آپوزیشن کی صورت میں نمودار ہوئے۔اور مختلف اوقات میں ہماری جماعت،مخالفین کے طرزِ سیاست پر چوٹ کرتی رہی۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر اس جماعت کے تضادات کھلنے لگے۔مفاہمتی پالیسیاں،فکری نا پختگی اور سیاسی کم فہمی وغیرہ تو درکنار اپنے صوبے کے مسائل سے نا آشنائی نے مجھے اس جماعت سے بھی بددل کر دیا۔

وہ تمام وعدے جو بطورِجماعت پوری قوم سے کئے گئے تھے ان کا نبھا اک صوبے کی عوام تک سے نہ کیا گیا۔اور کچھ روز قبل جب مال روڈ پر میں نے حکومت مخالف الائنس دیکھا تو گزرے دنوں کی یادیں ذہن میں ابھرنے لگیں۔وہ اک جماعت جو اپنے مخالفین کی مفاہمتی پالیسوں کے خلاف گوشہ بر آواز رہتی وہ مفاہمتی سیاست پر کس طرح رضا مند ہو گئی۔
کس طرح کرپشن اور لوٹ مار کے دلدادہ افراد سے ایک سٹیج پر ہاتھ ملائے گئے۔

پنجابی زبان میں کہا جاتا ہے۔مجاں مجاں دیاں پیناں
ہندیاں نیں (بھینس، بھینس کی بہن ہوتی ہے)۔ اور حالیہ سیاست کا منظر بھی کچھ یہی ہے۔مگر اب میرا سیاست اور سیاسی پارٹیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ اورچونکہ اب بھی الیکشن سر پر ہیں تو نئے پاکستان کا نعرہ بس کچھ ہی دنوں میں دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے گا۔
لیکن پاکستان روایتی سیاست میں سانسیں لیتا رہے گا اور نتیجہ ہمیں معلوم ہے۔

۔۔
سیاست کے موضوع پر مصطفی زیدی کچھ یوں رقمطراز ہوئے تھے
یہ اپنا ملک،کون سنائے اب اسکا حال
ان کے خداوٴں کی نہیں ملتی کوئی مثال
ان کی وفا شعار نگاہوں میں پانچ سال
ایسے کٹے ہیں جیسے کسی کی شبِ وصال
اور اس جلسے کو میں غالب کے اک شعر سے بیان کروں گا
بوئے گل،نالہء دل،دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
نوٹ:مندرجہ بالا تحریر ایک نوجوان کے خیالات ہیں۔جس سے کل شب مال روڈ کے ایک چائے خانے پر ملاقات ٹھہری۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Jo Teri Bazm Se Nikla So Pareshan Nikla is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 February 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.