کامل علم کے دو زینے ۔۔اخذ اور عرفان

سوشل میڈیامیں جتنا منہمک ہو تا جاتا ہے وہ اتنا ہی اپنے ماحول اور حقیقی زندگی سےغیرسوشل ہوتا جاتا ہے۔ انفارمیشن کا معیار بھی بودہ ہوتا جارہا ہے چنانچہ ایک سادھواپنے کسی گیان کی زرق برق رنگ برنگے پھولوں پر مشتمل ایک پوسٹ بناتا ہے

لقمان انجم منگل جون

ksmal ilm ke do zeenay akhaz aur irfan
انسان ہمیشہ ہی سے انفارمیشن دینے اور لینے کا رسیا رہا ہے۔ انفارمیشن کےاس عمل کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان خود پرانا ہے۔ہزاروں سال قبل پتھروں پر کندہ تصویری زبان انفارمیشن کے ہی اس عمل کی ایک مثال ہے ۔انفارمیشن کا یہ عمل اس وقت ہزار چند ہوگیاجب سے انسان نے قلم کے ذریعہ لکھنا سیکھ لیا اور پھر قلم کے ذریعہ علم کا حصول کتاب کی اشاعت پر جا کر منتج ہوا۔

گزشتہ دوصدیاں قبل انسان نے انفارمیشن کے اس عمل کے لئے خلا کا استعمال شروع کر دیا اور ٹیلی گرافی ،ریڈیو،اور ٹیلی ویژن وغیرہ جیسی ایجادات سےانسانی معاشرہ کی شناسائی ہوئی۔
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں انفارمیشن کے لئے ایسے ذرائع کا قیام عمل میں آیا کہ گزشتہ زمانہ کے انسانوں نے اس کا تصور بھی نہ کیا ہو گا۔

(جاری ہے)

انفارمیشن کا یہ عمل وجودہ زمانہ کے معاشرہ کا جزو لا ینفک بن چکا ہے لیکن کیا نت نئے ایجاد ہوتے ذرائع سے ہم تک جو انفارمیشن پہنچ رہی ہے کیا اسے علم کامل کہا جا سکتا ہے ؟تواس کا جواب نفی میں ہے ۔

البتہ انفارمیشن کو کامل علم تک پہنچنے کا ایک زینہ کہا جا سکتا ہے۔کامل علم اخذ اور عرفان کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے جیسے نر اور مادہ کے اتصال سے ایک نئی زندگی کاآغاز ہوتا ہے ۔اخذ سے مرادمختلف ذرائع سے حاصل شدہ انفارمیشن یا روز مرہ کے مشاہدات مراد لیے جاسکتے ہیں جبکہ عرفان سے مرادانسانی فہم وادراک کی وہ قوت ہے جو قدرت نے حقائق الاشیاء جا نچنے کے لئے انسانی فطرت میں ودیعت کی ہے اور جو کوئی بھی فہم وادراک کے ذریعہ اس قوت کو جتنا صیقل کرتا ہے وہ اتنا ہی اس قوت میں کمال حاصل کرتا جاتا ہے۔

اخذ اور عرفان دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں ۔
روزمرہ کے مشاہدہ میں یہ بات ہمیں نظر آتی ہے کہ کسی بھی پھل آور درخت کی تخم ریزی سے لیکر ایک تناور درخت بننے کے عمل تک تین مظاہر قدرت یعنی مٹی، روشنی،اور پانی کا خاص عمل دخل ہوتا ہے ۔مختلف پھل آور درختوں کےبیجوں کے ساتھ ان مظاہر کا سلوک ایک جیسا ہی ہوتا ہے چونکہ ان بیجوں کے جوہر مختلف ہوتے ہیں اس لئے کوئی درخت میٹھا پھل دیتا ہے تو کوئی ترش اورکوئی نمکین ہوتا ہے۔

اس مثال میں مظاہر فطرت کو حصول علم کے حوالہ سے اخذ یعنی انفارمیشن سے تشبیہ دے لیں اور بیج کو مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے عرفان سے مشابہت دے لیں ۔ ایک ہی ماحولِ فطرت اور ایک ہی زمین پر رہنے کے باوجود ہر کوئی اپنے اپنےجوہر طبیعت کے تحت اخذ اور عرفان کے اتصال سے مختلف نتائج دیتا ہے جیسے ایک ہی طرح کے حالات میں نشوونما پاکر درختوں کے خواص مختلف ہوتے ہیں چنانچہ جب کوئی انسان درخت سے نیچے زمین کی طرف گرتے پھل کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس منظر کو اپنے عرفان کی کسوٹی پر پرکھتا ہے تو پھر وہ نیوٹن بن جاتا ہے۔

جب کوئی انسان ہستی باری تعالیٰ کی تلاش میں اس کائنات کے ذرات اور مشاہدات کو بنظر غائر دیکھتا ہے تواسے کائنات کے ذرہ ذرہ میں بس خدا ہی خدا نظر آتا ہے یہاں تک کہ وہ انا الحق کا نعرہ بھی لگا دیتا ہے ایسا شخص منصور حلاج ہو جاتا ہے ۔جب کوئی انسانی خودی کا بنظر غور مطالعہ کرتا ہے تو وہ خودی کے مستور رموز کی حقیقت کو پا لیتا ہےاور وہ اقبال بن جاتا ہے۔

کامل علم تک پہنچنے کے لئے اخذ اور عرفان کے کے رشتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کامل علم کے لئے محض انفارمیشن حاصل کرنا سود مند نہیں تا وقتیکہ اس کے ساتھ عرفان کا اتصال نہ ہو۔اس بات کو اس مثال کے ساتھ باآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی کھانے میں زیادتی کرتا رہے اور معدہ کو وقت نہ دے کہ وہ کھانے کو ہضم کر سکے تو اُس وقت انسانی جسم کی کیا حالت ہو گی چنانچہ اسی طرح اگر انفارمیشن ہی حاصل کرتے چلے جائیں اور حاصل شدہ معلومات کو فہم وادراک کے ذریعہ عرفان کی کسوٹی پر نہ جانچا جائے تو ذہنی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوں گی اور ان میں خلل واقع ہوجائیگاَ۔

فہم وادراک سے عاری علم کی کوئی حیثیت نہیں یہی وجہ ہے کہ سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر منفعت بخش علم سے پناہ مانگی ہے۔ایک وقت تھا کہ جب بزرگ غیر ضروری معلمومات کے حصول یا بلا مقصد کسی کتا ب کے مطالعہ سے منع کرتے تھے اور اسے علمی آوارہ گردی گردانتے تھے چنانچہ اُس وقت کی علمی آوارہ گردی اکیسویں صدی میں information addictionکی شکل اختیار کر چکی ہے ۔

انفارمیشن addiction بڑی تیزی کے ساتھ معاشرہ میں سرایت کر رہی ہے ۔اس addiction کی وجہ سے کئی قسم کے ذہنی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ان میں سے ایک بڑا مسئلہ معاشرہ میں سطحی پن کا پیدا ہونا ہے اورمعاشرہ سے عمق بینی اور ژرف نگاہی جیسی خصوصیات معدوم ہو رہی ہیں۔
۔روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ہزاروں میسیجز،ای میلز اور سوشل میڈیا کی مختلف پوسٹوں کے مطالعہ کا پہاڑ سامنے ہوتا ہے جسے سَر کرنا ہوتا ہے اور ایک نئے دریا کا سامنا ہر روز ہوتا ہے اور بقول منیر نیازی کہ اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کومیں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھاآگاہی ،شعور اور انفارمیشن کے نام پر سوشل میڈیا کا بے ہنگم استعمال معاشرہ کےفہم و ادراک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

مشاہدہ بتا تا ہے جو بھی کوئی سوشل میڈیامیں جتنا منہمک ہو تا جاتا ہے وہ اتنا ہی اپنے ماحول اور حقیقی زندگی سےغیرسوشل ہوتا جاتا ہے۔ انفارمیشن کا معیار بھی بودہ ہوتا جارہا ہے چنانچہ ایک سادھواپنے کسی گیان کی زرق برق رنگ برنگے پھولوں پر مشتمل ایک پوسٹ بناتا ہےاور اس پوسٹ کے نیچے اپنی طرف سے کسی نامور دانشور یا بزرگ کا نام لکھ دیتاہے اور اور پھر اسے سوشل میڈیا کی گنگا میں بہا دیتا ہے جہاں اس سادھو کےگیان کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور آن ہی آن میں ایسی انفارمیشن سوشل میڈیا کے
مختلف فورمز کی زینت بنتی جاتی ہیں اور بغیر کسی تحقیق کے آگے ہی آگے بڑھتی اتی ہے۔

انفارمیشن کے حصول کے لئے گھنٹوں صَرف کیے جارہے ہوتے ہیں لیکن فہم وادراک کے لئے کوئی وقت نہیں ۔ انفارمیشن کو فہم وا دراک کی چھاننی میں
پرکھنا کم ہوتا جارہا ہے ۔ہر طرف آگاہی ہی آگاہی اور انفارمیشن کا اژدہام ہے لیکن فہم و ادراک مفقود ہے ۔موجودہ حالات میں نونہال نسل انفارمیشن کے حصول کی طرف ہی لگی رہی تو ان میں عرفان اور فہم و فراست کی صلاحیتیں ختم ہو جائیں گی
اور بقول شاعر کے
بچے میرے عہد کے وحشت گزیدہ ہیں
بے وقت کے شعور نے دانائی چھین لی
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اپنے اوقات کو صرف انفارمیشن کےسپرد کر دینا لائق تحسین امر نہیں بلکہ اپنے قیمتی اوقات کواحسن طور پرmanage کرنے کی ضرورت ہے اور انفارمیشن کے تند و تیز سیلاب پر فہم وادراک کا بند باندھنا ضروری ہو گیا ہےبصورت دیگر انسان کی حیثیت فہم وادراک سے عاری محض ڈیٹا محفوظ رکھنے والی مشین کی سی ہو گی۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

ksmal ilm ke do zeenay akhaz aur irfan is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 June 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.