مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ثقافت کے فروغ، تحفظ ورثہ اور سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں محفلِ مشاعرہ اور سمپوزیم کا انعقاد

مادری زبان پنجابی کے حوالے سے مقررین کہنا تھا کہ پنجابی زبان بہت میٹھی زبان ہے۔ پنجاب نے اپنے تشخص کو پاکستان سے وابستہ کر لیا ہے

Rana Zahid Iqbal رانا زاہد اقبال جمعہ اپریل

Madi Zubbanoon Ka Aalmi Din
پنجاب آرٹس کونسل فیصل آباد، کرسچین سٹڈی سینٹر راولپنڈی اور لائل پور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر نصرت فتح علی آڈیٹوریم فیصل آباد میں ثقافت کے فروغ، تحفظ ورثہ اور سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں محفلِ مشاعرہ اور سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمانِ خصوصی سینئر بینکر اور سماجی و ادبی شخصیت جناب دلبر حسین چوہدری تھے جب کہ زاہد اقبال ڈائریکٹر آرٹس کونسل، ڈاکر جعفر مبارک، شیخ محمد اکرم، محترمہ رخشندہ حسن اور جناب غلام مصطفیٰ کمال ا نے مہمانانِ اعزاز کے طور پر شرکت کی۔

شعراء کرام میں بابا نجمی (لاہور)، طاہرہ سراء (شیخوپورہ)، ناصر مجید، اے ایک عاطف، سمیع اللہ عرفی، نعیم ثاقب، عارف حسن بخاری، گلفام نقوی، الیشخ ایاز، آصف سردار ارائیں، نائیلہ ادریس، ندا مقبول، نرگس رحمت، عرفان گل اور رابعہ مقبول شامل تھے، نقابت کے فرائض نوجوان شاعر مجیب الرحمان ساحل نے ادا کئے۔

(جاری ہے)


شعراء کرام نے اپنی شاعری سے کے ذریعے اپنے شاندار قومی ورثے کو اجاگرکیا تمام شعراء نے اپنی خوبصورت پنجابی شاعری اور بولیوں سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا، حاضرین نے شعرا کرام کو دل کھول کر داد دی۔

شاعری ایک لطیف جذبہ ہے جو ایک دسرے کو قریب کونے کا باعث بنتی ہے، محبت، امن و آشتی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب کہ مقررین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کمپوزٹ ہیریٹیج ایک بہت اہم موضوع اور یہ کہ انسانی جذبات و احساسات ایک دائمی حقیقت ہے ان کا حسن کبھی ماند نہیں پڑتا اسی طرح تصورات کی کہکشاں اتنی ہی پرکشش ہے جو انسان کی زندگی کو فطری حسن کے سحر سے آراستہ رکھتی ہے۔

عہدِ حاضر اور خاص طور پر تیسری دنیا کے انسان کی یہ آرزو ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا کو جنم لیتے ہوئے دیکھے جو چند قوموں کی مادی، تجارتی اورا یٹمی اجارہ داری سے آزاد ہو جس میں رنگا رنگ ثقافتیں امن و آشتی سے رہتی ہوں اور پر امن بقائے باہمی کے جذبوں سے سرشار ہو۔ کلچر کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ یہ زندگی کی روحانی فکری، مذہبی اور اخلاقی قدروں کی مجسم تصویر کا نام ہے۔

سچائی، حسن، لطافت اور محبت اسی کلچر کی کرنیں ہیں۔ ثقافت نام ہے ایک طرزِ فکر، تخلیقی روایت اور طرزِ معاشرت کا جس میں زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ راست بازی، نگاہ کی بلندی اور کردار کی پاکیزگی قرار پاتی ہے۔ کلچر کا تعلق اپنی سر زمین، مقامی رہن سہن، رسم و رواج اور زبان و ادب سے بھی ہوتا ہے، مثلاً آج پاکستان اورا نڈونیشیا ایک مذہب اور اس کی بلند قدروں پر یقین رکھتے ہوئے بھی مختلف کلچر رکھتے ہیں جس کے سانچے مقامی زبانوں شعر و ادب اور رہن سہن کے طور طریقوں نے تیار کئے ہیں، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستانی کلچر کے خدو خال کو سنوارنے میں جہاں وارث شاہ، شاہ عبدالطیف بھٹائی، خواجہ غلام فرید، رحمان بابا، عالمہ اقبال اور فیض احمد فیض کا ہاتھ ہے وہاں اس کلچر کے رگ و پے میں معین الدین چشتی میر اور مرزا غالب کے افکار بھی دوڑے پھر رہے ہیں۔

اگر چہ ان کا تعلق پاکستان کی سر زمین سے نہیں ہے۔ ایسے ہی ہم اپنے کلچر پر تاج محل کے حسن اور لال قلعہ کے شکوہ کے اثرات سے بھی انکار نہیں کر سکتے۔ اسی طرح ہمارے شعر و ادب اور ذوقِ جمالیات کو سنوارنے میں حافظ سعدی اور رومی نے جو کردار ادا کیا اس کا کون انکار کر سکتا ہے، الغرض ہمارے کلچر کی جڑیں اپنی آفاقیت کے باوجود اس دھرتی میں پیوست ہیں جس پر ہم رہتے ہیں اس سرزمین پر علم و ثقافت، فکر و نظر اور حکمت و دانش کے جو کارواں گزرے ہیں ہم ان کے وارث ہیں اور اس سرزمین پر بسنے والے انسان کے حصہ میں تاریخ کی صبح سے لے کر آج تک جو کامیابیاں، ناکامیاں، دکھ درد اور مسرتیں آئی ہیں یہ سب کچھ ہماری میراث ہیں۔

اپنی میراث کا گہرا شعور ہمیں ایک صحت مند اور باوقار زندگی بسر کرنے کا حوصلہ اور ولولہ عطا کرتا ہے۔ برِ صغیر کے ماضی کے حکمرانوں نے جو عظیم ورثہ ہندوستان میں تعمیری، معاشرتی، مذہبی اور ثقافتی میدان میں قوم کو عطا کیا۔

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ قوم سے متعلق فیصلوں کا اختیار گو حکمرانوں، سیاست دانوں اور دیگر اربابِ اختیار کو ہوتا ہے لیکن ان فیصلوں کے اہم عناصر اور بنیادیں اہلِ فکر فراہم کرتے ہیں۔

اہل فکر کسی بھی قسم کی قید و بند سے آزاد ہوتے ہیں، ان کی وفاداری کسی کے ساتھ نہیں ہوتی ان کی وفاداری صرف حقیقت سے ہوتی ہے۔ انہیں جہاں کہیں بھی حقیقت نظر آتی ہے وہ اس کی نشاندہی کر دیتے ہیں ۔ اہلِ فکر معاشرے میں ا قلیت میں ہوتے ہیں یہ وہ اقلیت ہوتی ہے جو قوم کو افکارِ تازہ فراہم کرتی ہے، فکری جمود پیدا نہیں ہونے دیتی ۔ اب اگر کسی قوم کے دانشور یا اہلِ فکر خاموش ہو جائیں یا ان کو خاموش کر دیا جائے تو وہ قوم فکری گھٹن کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔

اس کی فکر مسخ ہو جائے گی اور پھر ایسی قوم پستیوں میں لڑھک جائے گی۔
پاکستان کی بنیادیں نظریاتی ہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان بعض واضح اصولوں اور نظریات کا علمبردار ہے یہ اصول تمام پاکستانیوں میں ایک جذبے کے ساتھ مقبول ہیں۔ مشترک زاویہ کی پیداوار میں اقبال کی نثر اور نظم میں ا ن اصولوں اور نظریات کی بہترین تشریح ہے۔

پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ ایک روشن خیال ریاست کا قیام جہاں تمام مذاہب اور مختلف طبقہٴ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر ملکی ترقی کے لئے یکساں جد و جہد کریں گے اور اس عظیم ملک کی ثقافت کو مزید پروان چڑھائیں گے۔ مکمل مساوات اور معاشرتی، معاشی اور ذہنی ترقی سے ہی انسانیت کے مقصد کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور باہمی اخوت و محبت کے ساتھ مل جل کر رہنے میں عافیت ہے اور یہی اخلاقی بلندی ہے۔

اگر کہیں ہم مذاہب، فرقوں اور مختلف خیالات کی بنیاد پر افراط و تفریط کا شکار ہوں تو یہ نہ صرف قومی یکجہتی کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ ملک کے عروج و ارتقاء کی سربلندی کے لئے خطرہ بھی۔ معاشرتی ہم آہنگی ایک مستحکم، پائیدار اور روادار پاکستان کی آئینہ دار ہے۔ اس حوالے سے آپس میں محبت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں ہماری ثقافت اور شاندار ورثہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


مادری زبان پنجابی کے حوالے سے مقررین کہنا تھا کہ پنجابی زبان بہت میٹھی زبان ہے۔ پنجاب نے اپنے تشخص کو پاکستان سے وابستہ کر لیا ہے۔ پنجابیوں نے پاکستانی قومیت کے تصور میں اپنی پنجابیت کی حقیقت کو اس حد تک جذب کر دیا کہ پنجابی کہلانا اور اس نسبت سے پہچانے جانا ان کے لئے کوئی فخر کی بات نہ رہی بلکہ اپنے روز مرہ معاملات میں پنجابی زبان کو اردو میں میں سمو دیا ہے یہ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی عظیم مثال ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Madi Zubbanoon Ka Aalmi Din is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 02 April 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.