نوول کورونا وائرس کے خلاف چینی اقدامات ہی اس وقت بہترین ڈھال ہیں

اس وقت، چین میں مشکل کاوشوں کی وجہ سے صورت حال مستحکم ہے لیکن دوسری طرف یہ وباء اب دنیا کے مختلف ممالک میں سر اٹھا رہی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ضرورت ہے کہ چین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور تجربات سے استفادہ حاصل کیا جائے

پیر 2 مارچ 2020

novel coronavirus ke khilaaf cheeni iqdamat
تحریر : زبیر بشیر

چین کی جانب سے نوول کرونا وائرس کوویڈ-انیس کی روک تھام کے لئے اختیار کئے گئے چینی اقدامات کی پوری دنیا کی جانب سے تحسین کی جا رہی ہے۔ میں اس وائرس سے سب سے متاثر ہونے والے شہر ووہان میں اکثرلوگوں سے مسلسل رابطے میں ہوں۔ وہاں ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود مقامی حکومت اور طبی عملے کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی،مشکلات کے باوجود ووہان شہر اور صوبہ ہوبے کے لوگ حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہیں،چین کی جانب سے اختیار کئے جانے والے ان انتہائی جراتمندانہ،بروقت اورفعال اقدامات کی تاریخ میں اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان اقدامات کی تحسین اور توثیق انتیس فروری کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی ایک مشترکہ تحقیقاتی روپورٹ میں کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

یہ رپورٹ چین، جرمنی ، جاپان، جنوبی کوریا، نائیجیریا، روس، سنگاپور، امریکہ، اور عالمی ادارہ صحت سے تعلق رکھنے والے 25 ماہرین کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔

ڈاکٹر بروس ایلورڈ، جوکہ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کے سینئر مشیرہیں، وہ اس مشترکہ ٹیم کے سربراہتھے۔

حال ہی میں، بیجنگ اور جنیوا میں منعقدہ دو پریس کانفرنسوں میں، انہوں نے کہا کہ میں نے چین میں خودحالات کا جائزہ لیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ "اگر میں اس وباء سے متاثر ہوتا ہوں تو میرا چین میں بہترین علاج ہو سکتا ہے"۔ اب تک کی ہماری معلومات کے مطابق "چینی طریقہ وہ واحد طریقہ ہے جسے ہم فی الحال جانتے ہیں اور یہ کامیاب ثابت ہوا ہے"۔

باقی دنیا کو چینی پیشہ ورانہ ردعمل کا طریقہ کار سیکھنا چاہئے"...
ڈاکٹر ایلورڈ اور ان کے ساتھی اس نتیجے پر کیوں پہنچے ہیں؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم نے خود دیکھا ہے کہ چین نے اس وباء کی روک تھام کے لئے صف اول میں اہم کردار ادا کیا۔ چین سمیت دنیا کومعلوم تھا کہ اس وائرس کی روک تھام کے لئے کوئی ویکسین یا دوا موجودنہیں ہے۔

لہذا احتیاط کے ساتھ موجود وسائل سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے اس کے پھیلاؤ کو روکا گیا، چین کی جانب سے لوگوں کی جان بچانے کو اولین ترجیح دی گئی۔ اس وباء کے خلاف چین نے دفاعی حکمت عملی اپنائی، یہ حکمت عملی چین کے نظام کے فوائد کا اہم مظہر بھی ہے۔
چین کے صدر شی جن پھنگ نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ لوگوں کی زندگی اور جسمانی صحت کی حفاظت کو ہمیشہ اولین ترجیح حاصل ہونی چاہئے۔

وبا کے ابتدائی دنوں میں ووہان میں، صرف دس روز میں، 3000سے زیادہ بستروں کی کل صلاحیت کے حامل دو خصوصی اسپتال تعمیرکئے گئے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام اور کنٹرول نیٹ ورک کے بارے میں، جو زندگی کے احترام اور تحفظ پر مبنی ہے، چین کی مضبوط متحرک ہونے کی صلاحیت، فیصلہ کن عملدرآمد کی اہلیت اورعظمت کی اجتماعی مرضی نے معائنہ کرنے والی ٹیم پر گہرا اثر چھوڑا۔

چین نے مریضوں کے علاج کے لئے بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، 5 جی اوردیگر تکنیکی طریقوں کا مکمل استعمال کرنے کی کوششوں سے ماہرین کومتاثر کیا۔ 
اس کے علاوہ، انسانی جانوں کو بچانے کے لئے، طبی سامان اوردیگر شعبوں میں چین کی زبردست سرمایہ کاری کو مشترکہ معائنہ کرنے والی ٹیم نے بھی تسلیم کیا۔اس وقت، چین میں مشکل کاوشوں کی وجہ سے صورت حال مستحکم ہے لیکن دوسری طرف یہ وباء اب دنیا کے مختلف ممالک میں سر اٹھا رہی ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ضرورت ہے کہ چین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور تجربات سے استفادہ حاصل کیا جائے۔ چین نے ووہان کے "شہریوں کی بندش کی"ملک بھر میں متاثرہ افراد کی موثر تلاش کی اور ان کو صحت مند افراد سے الگ تھلگ رکھنے کو یقینی بنایا۔ عالمی برادری کو ان اقدامات سے سیکھناچاہیے۔
ہم جانتے ہیں کہ وائرس اور وباء کی کوئی سرحد نہیں ہے، لیکن اس سے زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب تک اس بیماری کی ویکسین تیار نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرارہنے کی ضرورت ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

novel coronavirus ke khilaaf cheeni iqdamat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 02 March 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.