فلسطینی بچوں کی نظر بندی۔۔۔۔ فلسطین کا مستقل ”قید“ کرنے کا صہیونی منصوبہ

سرائیلی قوانین کم عمر بچوں کو جیل میں بند کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکام ان بچوں کو قید کو ”ا نتظامی حراست یا تحویل“ قرار دیتے ہیں اور بعد ازاں بھاری جرمانہ وصول کر کے انہیں ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا جاتا ہے

پیر فروری

Palestini Bachoon Ki Nazar Bandi
اسرائیل کی حکومت نے مقبوضہ یروشلم میں 14 برس یا اس سے کم عمرکے بچوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ گزشتہ برس کے دوران میں ایک فسلطینی تنظیم کے پیش کردہ اعداد وشمار کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقبوضہ یروشلم کے 65 فسطینی بچوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کیا تھا۔ مجموعی طور وہاں کم وبیش 2 ہزار فلسطینیوں کو پابند سلاسل کیا گیا جن میں سے ایک تہائی تعداد کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔

ان میں زیادہ تر بچوں کو باقاعدہ اسرائیلی جیلوں میں ڈالا گیا تھا اور بعد ازاں ان کے والدین پر بھاری جرمانہ عائد کرکے ان بچوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں نظر بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔ اسرائیلی قوانین کم عمر بچوں کو جیل میں بند کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکام ان بچوں کو قید کو ”ا نتظامی حراست یا تحویل“ قرار دیتے ہیں اور بعد ازاں بھاری جرمانہ وصول کر کے انہیں ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)


کم عمر بچوں کو ”انتظامی حراست“ میں لینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح حکام کو فلسطینی بچوں پر الزام عائد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ الگ بات ہے کہ عالمی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی فرد کو بغیر کوئی الزام عائد کئے اور کسی مجاز عدالت کے حکم کے بغیر انتظامی حراست یا تحویل میں لیا جائے یا براہ راست جیل میں ڈال دیاجائے۔

اسرائیل نے فلسطین کے گھروں کو ہی ان کے بچوں کے لیے جیل بنا کر رکھ دیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی حکام حفاظتی تحویل یا حراست میں لیے جانے والے بچوں کویروشلم کی حدود سے باہر نکال دیتے تھے اور ان کے گھروں میں واپسی کو ناممکن بنا دیا جاتا تھا۔فلسطینی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اس طرح دراصل مقبوضہ یروشلم میں آباد فلسطینیوں کو جبراََ ان کے گھروں سے بے دخل کر کے وہاں یہودیوں کی اکثریت قائم کرنا چاہتا ہے ۔

اسرائیل ایک منظم منصوبے کے تحت یروشلم کی مسلم شناخت کو مٹانا چاہتا ہے تاکہ اسے گریٹر اسرائیل کا دارالحکومت بنا سکے۔
جہاں تک فلسطینی بچوں کو انتظامی حراست یاتحول میں لینے اور بعد ازاں انہیں گھروں میں نظر بند کرنے کے اسرائیلی اقدامات کا سوال ہے تو ان اقدامات کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی نفسیات پر اتنہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایسے بچے جارحانہ طرز عمل اختیار کر لیتے ہیں اور اپنا غصہ اپنے والدین پر اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسرئیل نے جب بھی فلسطینیوں کے خلاف کوئی کاروروائی کی تو اس کا سب سے پہلا ہدف فلسطینی بے اور نوجوان ہی ہوتے ہیں۔ دراصل اسرائیل فلسطینیوں کے مستقبل کو تاریک کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ فسلطینی بچوں کا قتل عام کر کے اپنے بچوں کا مستقبل سنوار لے حالانکہ اس کی یہ کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ تشدد کا نتیجہ سوائے مزید تباہی کے سوا کچھ نہیں برآمد ہو گا۔


اسرائیل اب تک ہزاروں کی تعداد میں معصوم فلسطینی بچو کو تہہ تیغ کر چکا ہے، لیکن نام نہاد مہذب دنیا اور خاص طور پر امریکہ کو اسرائیلی مظالم دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی فلسطینی مسلمانوں کی حالت زار کی طرف اس کا دھیان جاتا ہے۔ اسرائیل ڈھٹائی کے ساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسا رہا ہے اور اقوام متحدہ سمیت کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ اسرائیلی استعماریت پسندی کو لگام دے سکے ۔

اسرائیل ایک اسے عفریت کا روپ دھار چکا ہے جو چبوں کالہوپیتا ہے اور بستیوں کو ہی نہیں بلکہ ان کے مستقبل کو بھی تاراج کر دیتا ہے۔ دوسری جانب عرب ممالک اس عفریت کے خلاف متحدہ ہو کر لڑنے کی بجائے باہمی چپقلشوں اور تنازعات میں ڈ وبے ہوئے ہیں۔ اسلامی دنیا شیعہ سنی فساد میں الجھی ہوئی ہے اور صہیونی مسلمانوں کے گلے کاٹتے ہوئے ہر گزیہ نہیں دیکھتے کہ مقتول سنی تھا یا شیعہ۔ جب تک مسلمان فلسطینیوں کو انکا جائز حق دلوانے کیلئے اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرتے اس وقت تک اسرائیل فلسطینی بچوں کو قتل بھی کرتا رہے گا اور انہیں پابند سلاسل بھی کرتا رہے گا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Palestini Bachoon Ki Nazar Bandi is a international article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 February 2016 and is famous in international category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.