پولیس کا قومی کردار

صدیوں پر محیط معلو مِ انسانی تاریخ کے دوران مختلف ناموں سے پولیس ہی معاشرے سے جرائم کے خاتمے ،امن کے قیام اور قانون کی بالا دستی کے لیے اپنامتعین کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے۔ جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گیرائی اور گہرائی ضرور پیدا ہوئی ہے تا ہم کوئی بھی اور ادارہ اس کی جگہ نہیں لے سکا

منگل فروری

Poice Ka Qoumi Kirdar
صدیوں پر محیط معلو مِ انسانی تاریخ کے دوران مختلف ناموں سے پولیس ہی معاشرے سے جرائم کے خاتمے ،امن کے قیام اور قانون کی بالا دستی کے لیے اپنامتعین کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے۔ جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گیرائی اور گہرائی ضرور پیدا ہوئی ہے تا ہم کوئی بھی اور ادارہ اس کی جگہ نہیں لے سکا ۔ہاں البتہ سہولت کاری کے لیے ریاست کے مختلف ادارے ،پولیس کی معاونت کی ذمہ داریاں ضرور نبھاتے ہیں ایک عرصے سے جنگ و جدل کی آماجگاہ بنے پاکستان میں پولیس کی ذمہ داریوں میں معتدبہ اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ علیٰحدہ بات ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس قومی ادارے کو مناسب وسائل کی فراہمی ، قوانین میں تبدیلی ،میرٹ کی بالادستی ،تربیت کی مناسب سہولتیں ،آزاد ی عمل اور پوسٹنگ اور ٹرانسفرز میں اشرافیہ اوربر سر اقتدار طبقات سے وہ آزادی حاصل نہیں ہو سکی ۔

(جاری ہے)

جو کسی بھی جمہوری اور فلاحی معاشرے کا طرہ امتیاز سمجھی جاتی ہے اور اسی المیے کی طرف ہی گزشتہ دنوں آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ نے قوم کی توجہ دلائی ہے۔


کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر انتظام ایک اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ نے کہا ہے کہ 1996ء کا آپریشن کامیاب بنانے والے افسران کو چن چن کر سڑکوں ،گلیوں اور مسجدوں میں قتل کیا گیا اور ظلم تو یہ ہے کہ پولیس افسران کے یہ قاتل اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں پہنچ گئے۔ اب پولیس سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کراچی کو رینجرز کی بیساکھیوں پر کب تک چلایا جائے گا ؟تا ہم اس سوال سے قبل ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ مذکورہ آپریشن توپولیس نے تن تنہا کامیابی سے سر انجام دیا تھا لیکن اسے سیاست کی نظر کر دیا گیا۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس والے خوف کے مارے منہ چھپاتے پھرتے تھے اور کوئی بھی اہلکار وردی میں ڈیوٹی پر جانے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ پولیس کا مورال اس قدر گر چکا تھا کہ کراچی میں امن قائم رکھنے کے لیے رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کا سہارا لینا پڑا پولیس ایکٹ 1861ء میں تبدیلی وقت کا تقاضا ہے۔ تا کہ محکمہ کو انتظامی لحاظ سے خود مختار اور فعال بنایا جاسکے کیونکہ ڈیڑھ صدی پرانے ایکٹ کے ذریعے آج کے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ہماری خواہش ہے کہ پولیس کو فورس کی بجائے دیگر آزاد قوموں کی طرح پاکستان میں بھی خدمت گارادارہ بنایا جائے۔


آئی جی سندھ پولیس نے ماضی کے حوالے سے تمام حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے ہیں اگر چہ کراچی میں ایک عرصے سے لاقانونیت کا دور دورہ رہا ہے تا ہم 1996ء میں اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے پوری نیک نیتی کے ساتھ قانون کو اپنا راستہ بنانے اور جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے کے لیے جامع کوششیں کی تھیں، جس کے نتائج پر پوری قوم نے اطمینان کا اظہار کیا تھا تا ہم بد قسمتی سے جلد ہی ملک میں جمہوریت کی جگہ آمریت نے لے لی اور اقتدار سنبھالنے والے فوجی حکمرا ن نے اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ایم کیو ایم کی قیادت کو اپنی چھتری کا سایہ فراہم کر دیا۔

اگرچہ این آر او کا معاہدہ پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کے مابین ہوا تھا تا ہم اس معاہدے کا سب سے زیادہ فائد ہ ایم کیو ایم نے اٹھایا جس کے ہزاروں جرائم پیشہ لو گ جیلوں سے باہر آگے اور کراچی میں قتل و غارت گری کا ایسا بازار گرم کیا کہ جس کی پاکستان کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 1996ء کے آپریشن سے وابستہ سبھی پولیس افسران کو چن چن کر قتل کر دیا گیا صرف وہی افسران بچ گئے جنہوں نے کراچی کی بجائے کہیں اور جا کر پناہ ڈھونڈی ایس ایس پی رآ انوار بھی انہیں میں سے ایک پولیس افیسر ہیں ۔

جو پہلے اسلام آباد اور بعد میں بلوچستان میں خاموشی کے ساتھ اپنی ملازمت کے دن پورے کرتے رہے۔
حالیہ سالوں کے دوران ملک میں عمومی طور پر امن و امان کی صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے کیونکہ مذہبی انتہا پسندوں ،دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کے لیے ریاست نے پوری قوم کی ٹھوس حمایت کے ذریعے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں ،بلوچستان اور کراچی میں قانون کی عملداری کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ رینجرز کی ہمہ وقت کی چوکسی اور قربانیوں کی بدولت کراچی کے حالات میں کافی بہتری آئی ہے جس کے نتیجے میں سندھ خصوصاً کراچی میں پولیس سے وابستہ افسرا ن کا مورال بھی بلند ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے رینجرز اور پولیس کے باہمی تعاون اور مناسب انٹیلی جنس شیئرنگ کے نتیجے میں آج کراچی کی روشنیاں کافی حدتک بحال ہو چکی ہیں جنہیں دائمی شکل دینے کے لیے ریاست پاکستان اوروفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
ملک کے دیگر صوبوں میں پولیس آرڈر 2002ء پر کافی حد تک عملدرآمد ہورہاہے جبکہ کے پی کے میں تو صوبائی حکومت نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے وہاں کی پولیس کو سیاست سے پاک اور مکمل آزادی عمل دے رکھا ہے ۔

جس کے نتائج بھی مثبت شکل میں پوری قوم کے سامنے آرہے ہیں جبکہ بد قسمتی سے سندھ کی صورتحال اس لحاظ سے خاصی مخدوش ہے کہ وہاں اب بھی پولیس کو صدیوں پرانے قوانین کی روشنی میں کام کر نا پڑرہا ہے۔ حالانکہ جرائم کی سنگینی اور وسعت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اس لیے صوبے میں امن و امان کی مکمل طور پر بحالی،قانون کی یقینی عملداری اور رینجرز کو واپس بھیجنے کے لیے ضروری ہے کہ سندھ حکومت در پیش صورتحال اور چیلنجز کا مقابلہ کر نے کے لیے ناصرف ضروری قانون سازی کرے۔

بلکہ پوسٹنگ ،ٹرانسفر اور ٹریننگ کے نظام میں میرٹ کی بالا دستی کو یقینی بنائے صرف اسی صورت میں ہی سندھ پولیس کسی بھی بیساکھی کے بغیر حقیقی معنوں میں اپنا قومی کردار ادا کر سکتی ہے۔
اچھے وقتوں میں پولیس سروس آف پاکستان ناصرف اندرون ملک، بلکہ عالمی سطح پر بھی اچھی شہرت کا حامل ایک ایسا اہم پاکستانی ادارہ تسلیم کیا جاتا تھا جس کے دامن سے و۱بستہ افسران بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف ممالک میں فساد کے خاتمے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

تاہم کمزور جمہوری حکومتوں اور آمروں کی مداخلت کے نتیجے میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح پولیس کا ادارہ بھی روبہ زوال ہو۱ہے۔ وسائل کی کمی ،نت نئی شکل میں سامنے آنے و۱لے جرائم کے خاتمے کے لیے ناگزیر قانون سازی سے اجتناب ،جزاء و سزا کے کمزور پڑتے محکمانہ رویے ،وی وی آئی پیز موومنٹ کے لیے پولیس کی پہروں ڈیوٹیاں ،پوسٹنگ ،ٹرانسفر میں سیاسی مداخلت ،بر سر اقتدار سیاسی جماعتوں کی طرف سے پولیس کو سیاسی اور گروہی مقاصد کے لیے استعمال کر نے کے بڑھتے ہوئے ہمارے قومی رجحانات ۔

منتخب عوامی نمائندوں کی بے جا مداخلت ،نچلی سطح کے پولیس اہلکاروں کی گھروں سے سینکڑوں میل دور تقرریاں،ڈیوٹی کے دوران مناسب آرام کے لیے وقفہ نہ ملنا ،نا پید ہوتا ہوا محکمہ میں چھٹی کا تصور اور مجسٹریسی نظام کی غیر موجودگی میں ملک میں پیدا ہو نے والے کسی بھی شر یا ہنگامی صورتحا ل کا مقابلہ کر نے کے لیے پولیس کا بے دریغ استعمال جیسے عوامل نے سلامتی سے وابستہ اس ادارے کی کارکردگی پرانتہائی مضر اثرات مرتب کیے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ شہداء کے وارث پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کوبھی بحیثیت ایک قومی ادارہ، قوم کے لیے بائنڈنگ فورس افواج پاکستان اور دیگر سکیورٹی اداروں کی طرح سیاست سے مبرہ رکھااور مالی اور انتظامی سطح پر مکمل خودمختاری دی جائے۔

اس سے ناصرف ملک میں مثالی طور پرامن قائم ہو سکے گا بلکہ عام آدمی کی زندگی میں در آنے والی پولیس کے ادارے سے وابستہ شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہے بصور ت دیگر ایم ڈی خواجہ جیسے قومی درد رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسران اشاروں کنائیوں میں قوم سے شکایات کرتے رہیں گے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Poice Ka Qoumi Kirdar is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 February 2017 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.