پولیس اصلاحات خرابیاں کہاں ہیں۔۔۔۔تحریر:بشیر احمدنعیم

میں یقین کہہ سکتا ہوں اگر آج بھی پولیس کو وہ سہولتیں دیں جدید سائینٹیفک طریقوں سے تفتیشی نظام متعارف کروائیں پولیس ملازمین کا معیار زندگی بلند کریں ڈیوٹی ریسٹ اور چھٹی کا طریقہ کار مناسب بنایا جائے۔ یہ وہی پولیس ہو گی جو اپناکام ایمانداری سے بھی کرے گی اور عام کی توقعات پر پورا بھی اترے گی

اتوار اکتوبر

police islahat kharabian kahan hain
میرے ایک دوست عاطف مسعودجو کہ ریڈیو ایکس ایل (یو کے) کے سینئر آر جے ہیں ۔ان سے ایک ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ وہاں کی پولیس کے بارے میں آپ پاکستانی کیا کہتے ہیں۔وہاں کی پولیس کا تفتیش کا طریقہ کار کیا ہے ۔عدالتیں پولیس کے بارے میں کیا کہتی ہیں۔کیا عوام پولیس سے تعاون کرتی ہیں ۔کیا وہاں بھی سفارشی کلچر ہے ۔کیا پولیس کو وہاں بھی رشوت دی جاتی ہے کیا پولیس وہاں بھی رشوت لیتی ہے۔

کیا مجرموں کو پناہ دینے والے لوگ وہاں بھی موجود ہیں ۔کیا عوام مدعی سے زیادہ ملزم کا ساتھ دیتی ہے۔میرے اتنے سارے سوالوں کے بعد ان کا ایک معنی خیز جواب تھا کیا آپ پاکستان کی بات کر رہے ہیں یا انگلینڈ کی۔جو آپ نے سوال کیے ان کا وجود انگلینڈ میں کہیں نہیں۔ انگلینڈ کی عوام اپنی پولیس پر بے پناہ اعتماد کرتی ہے۔

(جاری ہے)

جب پولیس کسی وقوعہ پر پہنچتی ہے تو عوام مطمئن ہو جاتی ہیں کہ ان کا کام میرٹ پر ہو گا۔

پولیس کسی شخص کو آف دی ریکارڈ گرفتار نہیں کرتی چاہے کسی نے کتنا بھی بڑا جرم کیا ہو۔ہتھکڑی کا استعمال انتہائی ناگزیر حالات میں کیا جاتا ہے۔ جب پولیس کسی کو حراست میں لیتی ہے تو ان کے گھر والوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ فلاں شخص پولیس کی محفوظ حراست میں ہے اور اس پر یہ الزام ہے۔اس کے بعد وہاں کی پولیس ویسے شخص کو سرکاری وکیل مہیا کرتی ہے جس سے وہ اپنا سارا معاملہ ڈسکس کرتا ہے اس کے بعد پولیس ملزم اور سرکاری وکیل کی موجودگی میں ویسے شخص سے دو گھنٹے آن دی ریکارڈ آڈیوویڈیو کیساتھ ملزم کا بیان کرتی ہے اس کے بعد ویسے شخص کو گھر تک باحفاظت پہنچانا پولیس کی ذمہ داری ہے البتہ ویسے شخص کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس حدود سے باہر نہیں جا سکتا جب تک پولیس اپنی چھان بین مکمل نہ کر لے۔

وہاں کا نظام ایسا بلکل نہیں کہ ایک شخص کے پولیس سٹیشن پہنچنے سے پہلے اس کے سفارشی پہلے پہنچ جائیں۔کوئی چوہدری نمبردار تھانے نہیں پہنچتا۔رشوت گناہ کبیرہ سمجھی جاتی ہے۔ملزم سے کئے گئے دو گھنٹے کے سوالات اور ان کے جوابات پر پولیس تفتیش کرتی ہے۔اور انہی سوالات اور جوابات سے کھوج لگاتی ہے۔اور سارے حقائق عدالت کو دیتی ہے۔وہاں نہ کسی جھوٹے گواہ کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ سفارش کی۔

عدالتیں پولیس پر اندھا اعتماد کرتی ہیں۔جب پولیس فائل عدالت میں پہنچتی ہے اسی فائل کو سامنے رکھ کر عدالتیں اپنا فیصلہ سناتی ہیں وہاں کوئی ٹارچر سیلز نہیں ہیں۔
میرے ذہن کے اندر بے تحاشا سوالات تھے۔لیکن جب وہی سوالات میں نے اپنے ادارے کو سامنے رکھ کر اپنے آپ سے کیئے تو جوابات انتہائی مایوس کن تھے۔ ہمارے نظام کی خرابیوں کی وجہ سے پولیس سارے غلط کام کرتی ہے ہماری پولیس آف دی ریکارڈ گرفتاریاں کیوں کرتی ہے۔

نجی ٹارچر سیلز کیوں بنائے جاتے ہیں۔سفارشی کلچر کا شام کو تھانے کے بعد میلہ کیوں لگ جاتا ہے۔عدالتیں پولیس پر اعتماد کیوں نہیں کرتیں۔عوام پولیس سے کیوں نفرت کرتی ہے۔مجرم پولیس کسٹڈی سے زیادہ جیل جانا کیوں پسند کرتے ہیں۔
ہمارے سرکاری وکیل کیا کردار ادا کرتے ہیں۔تفتیشی افسران دوران تفتیش غلطیاں کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔عوام ججز کو کیسے خرید لیتے ہیں۔

اس طرح کے اور بہت سارے سوالات میرے ذہن کو ٹارچر کر رہے تھے۔لیکن ان سب سوالوں کا میرے ذہن میں ایک ہی جواب تھا۔کہ شاید یہ سب ہماری ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے ہم نے 1860 سے بنائے گئے رولز کو موجودہ حالات کے مطابق نہ ڈھال کر نہ صرف پولیس ادارے کو عوام کی نظروں میں بدنام کیا ہے بلکہ معاشرے کا اعتماد بھی یکسر کھو دیا ہے۔کمیونٹی پویسنگ ختم ہو چکی ہے۔

اگر ایک پولیس افسر سے کام اس کی انسانی بساط کے مطابق لیا جائے تو یقینا نتائج اچھے ہونگے۔ایک تفتیشی افسر کو 30/40 مقدمات کی تفتیش جب ایک وقت میں دی جائے گی اور اس سے کہا جائے گا کہ 14 دن کے اند ر تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں بھیجیں تو وہ کیا کرے گا۔کیسے میرٹ پر تفتیش ہو گی جس کو سز ا کا ڈر ہو گا وہ اپنا کام جلدی میں مکمل کر کے جان چھڑائے گا۔

 عدالتیں 14 یوم کے اندر پولیس سے میرٹ کی توقع کر کے خود کیس کو یکسو کرنے میں چار چار سال کیوں لگا دیتی ہیں۔ خرابی کہاں ہے پولیس میں نہیں ہماری عدالتوں میں نہیں خرابی صرف اور صرف ہمارے موجودہ نظام میں ہے ۔ پولیس پر تنقید آپ کا حق ہے لیکن آپ اگرمدعی مقدمہ ہیں تو کیا آپ پولیس سے تب ہی خوش ہوتے ہیں جب تک آپ اپنی موجودگی میں ملزم کو چھتر نہ مروالیں۔

کیا آپ کے گواہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر حقائق نہیں چھپاتے لیکن آنے والے دنوں میں اس بات سے کام نہیں چلے گا کہ پولیس کو مورود الزام ٹھہرا کر باقی سب بری الزمہ ہو جائیں گے۔ کبھی کسی نے ریسرچ کی ہے کہ ایک مقدمے کی بہترین تفتیش کے لئے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔جتنا بوجھ ایک تفتیشی پر ہوتا ہے کیا وہ درست ہے۔کیا ا س کے اندر کوئی خود کار مشین یا روبوٹ نصب ہے۔

ہماری اشرافیہ اور سیاست دانوں نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ڈی پی ا و صبح ایک کانسٹیبل کا تبادلہ کرتا ہے شام سے پہلے اسے سفارش کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑتا ہے۔ورنہ اگلے دن خود اس کا ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔فنڈز خوری روٹین کا مسئلہ ہے۔کبھی انکوائری کی ضرورت پڑے بھی تو ماتحت اور رینکر کے گلے کاناپ لے کر اسے تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے چند تجاویز پیش ہیں شاید اس سے بہتری کی گنجائش نکل آئے۔

ٹرانسفر پوسٹنگ اور ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔تین بار سے زیادہ کانسٹیبل سے سنیئرز تک کوکسی ایک جگہ یا تھانہ میں تعینات نہ کیا جائے۔ تفتیشی افسران سے کارکردگی اور تفتیشی ورک انسان سمجھ کر لیا جائے۔عدالتیں 14 کا ریمانڈ کم از کم دو قسطوں میں دیں۔مداخلت و سفارش کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کر کے قانون بنایا جائے۔رینکرز صوبائی کوٹہ کے افسران کو کوٹہ کے مطابق پوسٹنگ دی جائے۔

کانسٹیبل سے آئی۔جی تک کے لئے پروموشن کا ایک اصول وضح کیا جائے۔
تفتیشی افسران کو تفتیشی خرچ کی مد میں ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ میں یقین کہہ سکتا ہوں اگر آج بھی پولیس کو وہ سہولتیں دیں جدید سائینٹیفک طریقوں سے تفتیشی نظام متعارف کروائیں پولیس ملازمان کا معیار زندگی بلند کریں ڈیوٹی ریسٹ اور چھٹی کا طریقہ کار مناسب بنایا جائے۔

یہ وہی پولیس ہو گی جو اپناکام ایمانداری سے بھی کرے گی اور عام کی توقعات پر پورا بھی اترے گی۔۔حکومت کو بھی چاہیے جھوٹے گواہوں اور کالی بھیڑوں کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ہر اندارج مقدمہ کی فیس اندارج مقدمہ سے فیصلہ تک رکھی جائے اور یہ فیس مدعی اور ملزم دونوْں سے وصول کی جائے اگر مدعی ملزم اندارج مقدمہ فیس نہیں دے سکتا تو حکومت ادا کرے ۔کیس کے فیصلے کے بعد ویسی فیس بے گناہ کو واپس کر دی جائے۔ آپ عوام ایک کام کریں باقی پولیس پہ چھوڑ دیں۔سفارش کی ضرورت صرف دو صورتوں میں ہوتی ہے۔
1. جب آپ کو حق نہ ملے 2. جب آپ اپنے حق سے زیادہ چاہتے ہوں
ایک کام آپ عوام کریں ایک ہم پولیس کرتے ہیں ۔پہلی صورت ہم پیدا نہیں ہونے دیں گے دوسری صورت آپ پیدا نہ ہونے دیں ۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

police islahat kharabian kahan hain is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 06 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.