ٹیچر تشدد کیس‘ذمہ دار کون؟

جس معاشرے میں تحقیر‘تذلیل ‘گالم گلوچ اور تشدد استاد کی گرہ سے بندھ جائے یقین کیجئے وہ معاشرے روشن مستقبل سے محروم ہو کر درندگی کی آمجگاہ بن کر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں

Rao Ghulam Mustafa راؤ غلام مصطفی پیر اگست

teacher tashadud case, zimmedar kaun ?
ارسطو نے کہا تھا کہ ایک استاد کا رتبہ والدین سے بڑھ کر ہے والدین کے ذریعے انہیں صرف زندگی ملتی ہے جب کہ اساتذہ انہیں زندگی گذارنے کا ڈھنگ سکھاتے ہیں۔پاکستان میں اساتذہ کی تحقیر‘تذلیل اور تشدد جیسے بڑھتے واقعات لمحہ فکریہ ہے ملک میں نجی و سرکاری اسکولز ‘یونیورسٹیز میں اساتذہ کو دھمکایا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے دنیا کے مہذب معاشروں میں استاد کا والد کی طرح احترام کیا جاتا ہے استاد کے برابر بیٹھنا اور چلنا استاد کی توہین کے زمرے میں آتا ہے ہے ادب و احترام کیساتھ آنکھیں جھکا کر استاد کیساتھ بات کرنیوالے کو باادب‘بانصیب جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔


دنیا کی ترقی ‘آزادی‘مساوات اور انسان کے معیار زندگی پر نظر دوڑا لیں یہ سب اساتذہ کی مرہون منت ہی ہے جنہوں نے اپنا خون جگر پلا کر انسان کو چاند پر قدم رکھنے کے قابل بنایا۔

(جاری ہے)

آج کا استاد بد تمیزی‘بد تہذیبی‘گالم گلوچ اور مار پیٹ سہہ کر بھی نسل نو کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے معاشرے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔میں اور آپ جس مقام پر آج کھڑے ہیں ذرا سوچئیے اس مقام تک پہنچانے میں کون مددگار اور معاون تھا جس نے مجھے اور آپکو صحافی‘ڈاکٹر‘وکیل‘انجینئر،سائنس دان‘جنرل‘خلا باز‘پائلٹ‘پولیس آفیسر‘کلرک‘سپاہی اعلی یا اوسط درجے پر فائز کرنے میں کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کا باوقار فرد بنایا یقیننا ایک استاد ہی کی مرہون منت ہی اس مقام کے قابل بنے ہیں۔

جس معاشرے میں تحقیر‘تذلیل ‘گالم گلوچ اور تشدد استاد کی گرہ سے بندھ جائے یقین کیجئے وہ معاشرے روشن مستقبل سے محروم ہو کر درندگی کی آمجگاہ بن کر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔آج پاکستان میں جو اساتذہ پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے یہ اس ملک کے اقتداری طبقات اور بائیس کروڑ عوام کے لئے غور و فکر کا متقاضی ہے۔چند
 روز قبل ضلع حافظ آباد میں میرے آبائی قصبہ کالیکی منڈی سے دو کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع نواحی گاؤں ٹھٹھہ پیراں میں گورنمنٹ پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر ریاض احمد کو اس گاؤں کے مقامی با اثر زمیندار ظفر اقبال نے سکول کے صحن میں جانورباندھنے سے منع کرنے کی پاداش میں ڈنڈوں کے پے در پے وار کر کے تشدد کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا ۔

سکول کا میں نے خود وزٹ کیا اس سکول کی چار دیواری تک نہیں اور یہ مقامی زمیندار دعویدار ہے کہ سکول کی اراضی میری وراثت ہے حالانکہ یہاں پر سکول قائم ہوئے قریب عرصہ تیس سال ہو چکے ہیں اور اسی مقامی زمیندار کی وجہ سے سکول کی چار دیواری تعمیر نہیں ہو سکی چار دیواری نہ ہونے کے باعث کوئی بھی خاتوں ٹیچر اس سکول میں اپنی تعیناتی کروانے سے گریزاں ہیں۔

 ٹیچر ریاض احمد کا قصور یہ ہے کہ وہ اس پسماندہ گاؤں میں بسنے والے سینکڑوں افراد کے بچے بچیوں کے مستقبل کو روشن کل میں بدلنے کے لئے اپنے خون جگر کی لو سے ان کی تراش خراش میں مصروف عمل ہے۔اس دلدوز واقعہ پر متشدد ذہنیت کے حامل ملزم کیخلاف قانون کو حرکت دینے میں ڈی پی او حافظ آباد ساجد کیانی کا کلیدی کردار ہے پولیس کی بروقت قانونی کارروائی کے باعث ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد میں نے متاثرہ ٹیچر ریاض احمد سے مل کر اس کی عیادت کی اور اس وقوعہ کی بابت اس سے بات چیت کی تو ریاض احمد کو میں نے اس سوچ کے کٹہرے میں کھڑا پایا جہاں بہت سے خدشات کا حصار اس کے مستقبل پر سوال اٹھائے کھڑے تھا جن کو وہ اپنے تےئں الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر تھا سوال اٹھتا ہے کہ ملزم جب جیل کی سلاخوں کی اسیری سے رہائی پائے گا تو ممکن ہے کہ ٹیچر ریاض احمد جس نے محکمہ کے عدم تعاون کے باعث اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروایا اس بااثر ملزم کے عتاب سے بچے بغیر اسی سکول میں اپنے تدریسی فرائض سر انجام دے سپائے گا۔

ریاض احمد کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اس ملزم کے خلاف قانونی پیروی کو جاری رکھ سکے اور نہ ہی اتنی طاقت رکھتا ہے کہ اپنے ناتواں کندھوں پر دشمنی کا بار اٹھا سکے۔قانون نے اپنی عملداری کو یقینی بنا دیا پنجاب حکومت کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے ایک ٹوئٹر بیان کے ذریعے ملزم کی گرفتاری پر اس واقعہ پر اٹھتے سوالات کا جواب دے دیا لیکن اس کے باوجود معاشرے میں کون ایسا فرد ہے جو ریاض احمدکیساتھ کندھے سے کندھا ملا کر اپنے وسائل اور وقت کو قربان کریگااور اس کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بنے گاجب کہ جس محکمہ کے فرائض کی بجا آوری کے عوض اپنے رزق کو حلال کر کے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہا ہے وہ محکمہ بھی اس کی پشت پر نہیں کھڑا۔

دو چار دن بعد زندگی پھر اسی ڈگر پر رواں ہوگی ٹیچر ریاض احمد کیساتھ پیش آنیوالا واقعہ قصہ پارینہ بن کر اس بے حس معاشرے کا ماضی بن جائے گا۔ملک کے طول و عرض میں کتنے ریاض احمد ایسے ہیں جو نسل نو کے روشن مستقبل کا بار اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
 لیکن اس کے باوجود اس مقدس رشتے کو سربازار پامال کیا جا رہا ہے آخر اس کا ذمہ دار کون ہے کوئی ملک میں ایسا قانون اور قاعدہ نہیں جس کے تحت ایسے ملزمان کو عبرت کا رزق بنایا جائے تاکہ ایسے بد نما کردار وں کو کوئی مہذب معاشرہ قبول نہ کرے۔

حکومت کو چاہیے کہ ملک میں اساتذہ کیخلاف بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات کے پیش نظر ایسی قانون سازی عمل میں لائی جائے کہ اساتذہ کی تحقیر‘ٹذلیل اور تشدد کرنے والے مکروہ ملزمان کے مقدمات انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چلائے جائیں تاکہ کسی کو اساتذہ کی عزت و تکریم کی نفی کرنے کی جرات نہ ہو۔ملک میں کتنے ایسے واقعات ہیں جو اس معاشرے اور حکومت کی بے بسی کا منہ چڑا رہے ہیں۔

المیہ یہ ہے ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں جو معاشرے کے ایسے قبیح کرداروں کو نوشتہ دیوار بنا سکے۔ٹیچر ریاض احمد کوئی پہلا استاد نہیں جو اس بے حس معاشرے کے رویوں کا شکار ہوا ہے لاٹھی چارج‘تشدد‘گالم گلوچ‘بد تمیزی اور بد تہذیبی کے بے شمار واقعات ایسے ہیں جو کتاب دوست استاد کی گرہ سے بندھے نظر آئینگے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسے واقعات کے تدارک کے لئے حکومتی سطح پر ترجیحی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یقین جانئیے اس معاشرے میں بسنے والی نسل نو کے روشن مستقبل کی ضمانتیں ضبط ہو جائیں گی۔

ایک استاد کی تدریس انسان کو بہتر زندگی سے روشناس کرواتی ہے کسی بھی قوم کی ترقی اور تقدیر استاد کے ہاتھ میں ہوتی ہے اگر ہم نے اس معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اس راستے پر قدم بڑھانے سے پہلے ظفر اقبال جیسے خاردارکانٹوں سے راستے کو صاف کرکے استاد کو قوم کے معمار کا حقیقی معنوں میں درجہ دینا ہو گا ایسا نظام تعلیم وضع کرنے کی ضرورت ہے جس میں استاد اور طالب علم کا رشتہ عزت و تکریم سے جڑا ہو تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے کردار کو اہمیت دینی ہو گی کیونکہ ایک طاقتور قوم بننے کے لئے طاقتور فوج اور جدید ہتھیاروں کی نہیں بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے بہر حال حکومت کو ملک میں اساتذہ پر بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے پارلیمان میں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جو استاد کے تحفظ کی ضامن ہو ایسا نہ ہو کہ ظفر اقبال اور اسلم مڈھیانہ جیسے کردار نسل نو کے مستقبل کو روندھتے ہوئے ملکی معاشرے کو تباہی سے دوچار کر دیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

teacher tashadud case, zimmedar kaun ? is a Educational Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 August 2019 and is famous in Educational Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.