عظمیٰ کو انصاف کس سے لے کر دینا ہوگا

آجکل فیس بک پر ایک نئی مہم کا آغاز ہوا ہے عظمی کو انصاف دو۔۔۔

Afshan Khawar افشاں خاور منگل جنوری

Uzma Ko Insaaf Kis Se Ley Kar Dena Ho Ga
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انصاف ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اسے ملنا چاہئے۔سوال صرف یہ ہے کہ انصاف کس سے لے کر کسے دیا جائے؟
ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا جسے ہم سزا دے رہے ہیں وہی اکیلا مجرم ہے؟
کیا شریک جرم ،جرم کی زمہ داری سے مبرا ہوتے ہیں؟
اگر کوئی ایک انسان یا کچھ انسان مل کر کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو کیا  اُنکے قرب و جوار میں موجود لوگوں کی یہ ذمداری بھی بنتی کہ وہ خود اسے روکیں یہ متعلقہ حکام تک یہ مسئلہ پہنچائیں؟
کم سن ملازمین پر جب ظلم کی بات ہوتی ہے تو یہ ظلم  ۲ طرح کا ہوتا ہے۔


ہمارا معاشرہ صرف ایک طرح کا ظلم دیکھ سکتا ہے جیسے کہ بچہ یا بچی کو بری طرح مارنا پیٹنا،جلانا،سر کے بال  کاٹ دینا ،بجلی کے کرنٹ لگانا،ہڈیاں توڑنا اور بہت حد سے گزرے تو قتل کر دینا شامل ہے۔

(جاری ہے)


جنابِ عالی یہ تو تشدد کی وہ اقسام ہیں جو کہ کسی اندھے کو بھی نظر آ سکتی ہیں۔
تشدّد کی کچھ اور اقسام بھی ہیں جو کہ ہمارے معاشرے کے آنکھوں والے اندھوں کو نظر نہیں آتیں ۔

۔۔۔مثلاً ۹_۱۲ سال کے بچے یا بچی سے پورے گھر کی صفائی کروانا،کپڑے دھلوانا،ٹھنڈے پانی سے برتن دھلوانا،کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ یہ بچی ایک غریب گھر سے آتی ہے جہاں انکو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا۔ کیا اس بچی کے جسم میں اتنی ہمت یا طاقت  ہو سکتی ہے کہ وہ با خوشی اتنا  کام کر سکے۔
تشدّد کی ایک قسم یہ ہے کہ جب آپکے بچے بیگ اٹھا کر اسکول جاتے ہیں تو ایک بچہ جھاڑو پوچا اٹھا کر آپکا گھر صاف کرنا شروع کرتا ہے ۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس لمحے اس کا قصوروار کو ہوتا ہے ،اُسکے والدین یا آپ یا دونوں؟
ایک اور قسم یہ ہے کہ جب آپ کے بچے آپکے ساتھ بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تو ایک بچہ کچن کے ایک کونے میں بیٹھا بچے ہوئے کھانے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
جب آپ ملازم بچے یا بچی کو کسی کام کے لیے باہر دوکان پر یا گیٹ پر ڈرائیور کے پاس بھیجتے ہیں تو  کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کوئی برا آدمی اس بچے کو sexually harrass کر  سکتاہے۔

کیا ملازم بچے کو جسمانی یہ جنسی طور پر محفوظ رکھنا آپکی زمہ داری نہیں۔۔۔
یہ تو ہو گئی تشدّد کی کچھ اقسام پر بات۔
اب ہم تشدّد کے زمہ داران  کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
اس طرح کے واقعات کے زمہ داروں کی  تین اقسام ہیں۔۔۔
سب سے پہلے والدین جو اپنے بچوں کو اس طرح کے حالات کے حوالے کرتے ہیں۔
دوسرا وہ انسان جو اپنے ہاتھوں سے اس طرح کا تشدّد کرتا ہے۔


تیسرا ہر وہ منافق جو اس طرح کا ظلم دیکھ کر نظر انداز کرتا ہیں۔اور جب حالات بہت برے ہوجاتے ہیں تو پھر یہی لوگ رونا پیٹنا مچا دیتے ہیں۔
اب بات ہو جائے سب سے پہلے ذمہ دار  یعنی والدین کی۔
بچے کی پیدائش کو امر  الہی کا نام دے کر جب بچہ پانچ  سے چھے سال کا ہوتا ہے تو وہ اسے وسیلہ خدا سمجھ کر مشقت کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔اگر لڑکی ہو تو 6-8 سال اپنی ہڈیاں گھسا کر انکو کما کر دیتی ہے اور بارہ تیرہ سال کی عمر  میں یا  تو اسے پیسوں کے عوض باپ کی عمر سے بھی بڑے شخص سے  بیاہ دیا جاتا ہے یا یہ  نکمے بھائ  یا  باپ کے وٹے میں چلی جاتی ہے۔

  اور اگر کسی شدید تشدّد کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار جائے تو صلح نامے کی صورت میں پھر  باپ کو کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔یعنی ہاتھی مرا  بھی تو  سوا لاکھ کا۔
تشدّد کا دوسرا ذمہ دار انسان وہ ہوتا ہے جس نے اپنے ہاتھوں سے اس بچے کو ذہنی،جسمانی یہ جنسی طور پر تکلیف دی ہوتی ہے۔یہ لوگ عام طور پر بہت بڑے نفسیاتی مریض ہوتے ہیں اور اگر کوئی فلاحی نظام موجود ہو تو شاید ان لوگوں کو سزا کی بجائے ذہنی امراض کے مرکز میں جمع کرایا جائے اور انکے اپنے بچوں کے حقوق بھی ان سے واپس لئے لئے جائیں۔


اس تشدّد کے تیسرے زمہ داران ہمارے نزدیک اصل مجرم ہیں۔
جب کسی گھر کا  نوعمر لڑکا گھروالوں سے چپ کر سگریٹ پیتا ہے تو پورا محلہ اُسکے والدین تک یہ خبر پہنچنے میں دیر نہیں لگاتا؟ کسی بیوہ کے گھر کوئی مرد دو بار آ جائے تو عصر  کی نماز کے بعد پوری جماعت اُسکے گھر باز پرسی کے لیے پہنچ جاتی ہے ۔اگر بہو ذرا سی بد زبانی کرے تو ساس پورے محلے میں شکایت کر کے اُسکے اصلاح کی کوشش کرتی ہے۔


میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جہاں لوگوں کے پاس صرف وقت کی ہی  کثرت  ہے اور جہاں دوسروں کے معاملات میں ناک گھسیڑنا بلکل معمول کی بات سمجی جاتی ہے وہاں جب ایک کم سن ملازم پر ظلم کیا جاتا ہے تو سب لوگ گونگے،بہرے اور اندھے کیوں بن جاتے ہیں۔
ملازم بچے کے والدین تو غربت،جہالت اور کم عقلی کی وجہ سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ تشدّد کرنے والے مالکان بھی ایک  فرد یا ایک فیملی ہوتے ہیں اور ہم انکو بھی نفسیاتی یا ذہنی مریض قرار دے سکتے ہیں۔


لیکن کیا ایک پورا  محلہ یہ پورا معاشرہ  پاگل،اندھا اور ذہنی مریض ہوتا ہے کہ وہ سب دیکھ کر چپ رہتا ہے؟
 جب بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو ساتھ والے ہمسائے کہتے ہیں ایسا بہت بار ہوا، ایسے بہت سے بچوں کے ساتھ ہوا،ہمیں روز آواز آتی تھی۔
کیا کبھی کسی نے انکو عدالت لے جانے کی بات کی جنہوں نای مجموعی طور پر ظلم دیکھا اور چپ رہے۔


یقین مانیے اس جرم کے سب سے  گھناؤنے کردار یہی لوگ ہیں۔
مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ غیر حساس بن چکا ہے۔
بہت زیادہ ہوا تو ہم اپنے گھروں میں چھوٹے بچے ملازم نہ رکھیں گے لیکن ہماری زمہ داری کیا صرف یہیں ختم ہوجاتی ہے؟
جب ہم کسی کے گھر جاتے ہیں تو ٹھنڈے یخ فرش پر ننگے پاؤں صفائی کرتی کم سن بچی کے لیے بولنا کیا ہماری ذمہ داری نہیں؟
آپ  غور کیجئے کہ لوگ کمسن بچیاں کیوں رکھتے ہیں؟
 کیونکہ بڑی عمر کی عورت اپنے حق کے لیے بول سکتی ہے، آپ اس سےایک حد سے زیادہ کام  نہ کے سکتے،وہ آپ سے سوال پوچھ سکتی ہے لیکن چھوٹی بچی کو آپ ڈرا دھمکا کر اور سختی سےکام لئے سکتے ہیں۔


ہمارے معاشرے میں عام طور پر جو خاندان تھوڑے سے مالی  طور پر خوشحال ہوتے ہیں اُن میں خواتین صرف بچے پیدا کرتی ہیں۔ انکو سنبھالنا ،اٹھانا،کھیلنا پلانا ان ہی کم سن ملازمین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
آپ کسی شادی،ڈنر ہوٹل  مال کہیں بھی چلے جائیں یہ منظر آپکو کثرت سے نظر آئیں گے۔بے حس خواتین کے بھاری بھرکم بچے چھوٹی چھوٹی کمزور جسامت والی لڑکیوں نے اٹھائے ہونگے اور آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے افراد اس منظر کو دیکھ رہے ہونگے لیکن مظلوم کے لیے بولنے والی زبانیں بہت عرصہ پہلے گونگی ہو چکی ہیں۔


اب ایک اور طرف آتے ہیں بہت سارے لوگ  نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کے خادم حضرت زید بن حارث علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہیں جو کہ کم سنی میں بطور خادم  نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمات میں آئے۔اور وہ لوگ اس حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کم عمر بچوں کو ملازم رکھنا اسلامی لحاظ سے درست ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جو  بنی اسرائیل کی طرح دین کو توڑ مروڑ   کر اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔


 ہمیں اسلام کے اصولوں کو سمجھنا ہے۔اسلام میں ہر چیز کی حدود ہیں۔ ملازم کے بھی حقوق ہیں،جو خود کھاؤ وہی اسے کھلاؤ،جیسے خود پہنو ویسے اسے بھی پہناؤ، دن میں ۷۰ بار  اُس کی غلطی معاف کرو اور  اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اُسکے حق ادا کر دو۔
  یہ تو ایک ملازم کے حقوق ہیں،ذرا سوچئے اس کم سن ملازم کے ساتھ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاؤ کیسا ہوگا جو آپکے منہ  بولے بیٹے کی طرح تھا اور جس نے اپنے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمات میں رہنا چن  لیا۔


 ‏اب ذرا دل پر ہاتھ رکھیں اور سوچیں کیا آپ اور ہم اس قابل ہیں کے یہ حق ادا کر سکیں؟
 ‏ ‏اگر نہیں تو خدا کے لیے  اسلام  کے نام کو اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کرنا بند کر دیں۔

Your Thoughts and Comments

Uzma Ko Insaaf Kis Se Ley Kar Dena Ho Ga is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 29 January 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.