عالمی یوم ہائیڈروگرافی اور سمندروں کی نقشہ سازی

اتوار جون

World Hydrography Day
تحریر علی باسط
ہائیڈرو گرافی اطلاقی سائنس کی ایک شاخ ہے جو زمین کی سطح (بحر) اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں کے بحری حصے کی جسمانی خصوصیات کی پیمائش اور تفصیل سے متعلق ہے. یہ سمندر کے گہرائی کے اعداد و شمار کو جمع کرنے اور ان کا سروے کرنے کا عمل ہے جو ان کی نقشہ سازی کا باعث بنتا ہے جو سمندری فرش کی شکل اور اس کے اندر کی دیگر تمام جسمانی خصوصیات کو سمیٹتا ہے، جو حتمی مصنوع کو سمندری نقشہ کہتے ہیں۔

نیویگیشن کے علاوہ، مختلف سمندری سرگرمیوں، جن میں معاشی ترقی، سلامتی اور دفاع، سمندری وسائل سے فائدہ اٹھانا، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، سائنسی تحقیق، سمندری تحقیق، ماحولیاتی تحفظ اور ہمسایہ ممالک کے مابین سمندری حد بندی شامل ہیں.ہائیڈرو گرافک ڈیٹا کو مختلف جدید گیجٹس کا استعمال کرکے اکٹھا کیا جاتا ہے جس میں سیٹلائٹ پوزیشننگ سسٹم اور آواز اور لیزر رینجنگ کے اصولوں پر کام کرنے والے مختلف قسم کے گہرائی ماپنے کے نظام شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یہ سسٹم مربوط اور مختلف سمندری اور ہوائی پلیٹ فارم پر مشتمل ہیں۔
بین الاقوامی ہائیڈرو گرافک آرگنائزیشن (IHO) کے ذریعہ ورلڈ ہائیڈرو گرافی ڈے کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کے تمام ہائیڈرو گرافرز کے کام کو اجاگر کیا جاسکے اور ہائیڈرو گرافی کی اہمیت کے بارے میں دنیا بھر میں عوامی شعور اجاگر کیا جاسکے۔یہ دن ہر سال 21 جون کو منایا جاتا ہے اور یہ متحرک پلیٹ فارم بن گیا ہے جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں سے ایک کو پورا کرنے میں مدد کرتا ہے تاکہ دنیا کے سمندروں کی صحت کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس سال کے عالمی ہائیڈرو گرافی ڈے کا موضوع‘ہائیڈرو گرافی - خود مختار ٹیکنالوجیز کو فعال کرنا’ہے۔1921 میں، بین الاقوامی ہائیڈرو گرافک بیورو قائم کیا گیا تھا جس کے مقصد عالمی حکومتوں کے مابین محفوظ نیویگیشن، تکنیکی معیارات اور سمندری ماحول کے تحفظ جیسے امور پر مشاورت کے لئے ایک طریقہ کار مہیا کرنا تھا، تاہم، 1970 میں اس کا نام تبدیل کرکے بین الاقوامی ہائیڈرو گرافک تنظیم رکھ دیا گیا۔

2005 میں، IHO نے عالمی ہائیڈرو گرافی ڈے منا نے کا فیصلہ کیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اس فیصلے کا اپنی منظور کردہ قرارداد میں خیرمقدم کیا۔
پاکستان کے حوالے سے، پاک بحریہ IHO کے تحت بین الاقوامی ذمہ داری کواچھے طریقے سے پوری کررہی ہے تاکہ بحری جہازوں کو تازہ ترین معلومات کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے جوپاکستان کے ساحلی رستوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

پاکستان نیوی ہائیڈرو گرافک ڈیپارٹمنٹ (پی این ایچ ڈی) - جو 1949 میں قائم ہوا تھا - ملک کے ساحلی اور ساحل کے پانیوں کے ہائیڈرو گرافک سروے کرتا ہے اور ہائیڈرو گرافک سروس میں اعلی کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے سمندری نقشہ جاری کرتا ہے۔پی این ایچ ڈی کے پاس جدید گیجٹری کے ساتھ جدید ہائیڈرو گرافک سروے کے جہاز ہیں۔ یہ وہ بحری جہاز ہیں جو ملک کے پانی کے ساحلی اور گہرے علاقوں کے سروے کے اعداد و شمار کو جمع کرتے اور جو بعد میں سمندری نقشہ کی تیاری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

تشکیل کے بعد، سمندری نقشہ قومی / بین الاقوامی شپنگ کے لئے دستیاب ہوجاتے ہیں۔ ہائیڈروگرافی سیٹ اپ کو بڑھانے کے علاوہ، پی این ایچ ڈی، NAVAREA-IX کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے بھی حصہ ڈال رہا ہے - جو 1976 سے بحیرہ عرب کے خطے کے 16 ممالک پر مشتمل ہے اور اسی وجہ سے، جہازوں کی منتقلی کی حفاظت سے متعلق تمام متعلقہ سمندری معلومات کی ترسیل کو مربوط کرتا ہے۔


پاکستان طویل ساحل سے لے کر دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی (K2) تک پھیلے ہوئے متنوع قدرتی سرمایے کا حامل ہے۔ 1000 کلو میٹر سے زیادہ کی ساحلی پٹی اجتماعی طور پر ساحلی صوبوں سندھ اور بلوچستان کے ساتھ مشترکہ ہے۔اورcontinental shelf تین سوپچاس سمندری میل تک بڑھا ہوا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ توسیع پاکستان کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیوگرافی (این آئی او) اور پاکستان نیوی ہائیڈرو گرافک ڈیپارٹمنٹ (پی این ایچ ڈی) کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے دی گئی تھی۔

دونوں نے اقوام متحدہ میں مذکورہ بالا دعویٰ پیش کیا کہ بحری وسائل کو تلاش اور توانائی کے پیداواری سمندری وسائل کے استعمال کے لئے سمندر کے کنارے اور ذیلی سرزمین پر خصوصی حقوق حاصل کریں۔ اس اہم کارنامے کے علاوہ، پی این ایچ ڈی باقاعدگی سے ساحلی علاقوں کا سروے کر رہا ہے اور چارٹس کی نئی سیریز کو اپ ڈیٹ کررہا ہے۔ اس نے پاکستان کے ساحل پر سمندری بندرگاہوں کی تعمیر کی صلاحیت کے حامل تمام مقامات کی باقاعدہ نقشہ سازی کی ہے۔

اس کے علاوہ، پی این ایچ ڈی نے ایران اور عمان کے ساتھ سمندری حدود کے کامیاب حل میں مدد کی۔ مزید یہ کہ، بھارت اور پاکستان کے مابین سمندری حدود کے تنازعہ کو حل کرنے کے لئے، پی این ایچ ڈی اور ہندوستانی ہائیڈرو گرافک ڈیپارٹمنٹ کے ذریعہ سر کریک ایریا کا مشترکہ سروے۔ پی این ایچ ڈی نے سمندر میں ہائیڈرو گرافک سروے کے علاوہ مختلف اندرون ملک سروے بھی کیے ہیں۔

پی این ایچ ڈی کے ذریعہ کئے گئے اندرون ملک سروے میں دریائے سندھ میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے لئے ڈیموں کے سروے شامل ہیں۔ وزارت برائے سائنس و ٹکنالوجی کے (SWI) Sea Water Intrusion کے منصوبے کا ممبر ہونے کے ناطے، PNHD اس موضوع پر اپنی متعلقہ ماہر کی رائے کی حمایت اور اشتراک NIO کے ساتھ کررہا ہے.سرکاری ذرائع کے مطابق، پاک بحریہ نے سمندروں کے پائیدار استعمال کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے.جبکہ عالمی ہائیڈرو گرافک ڈے کے موقع پر ہائیڈرو گرافی کے جدید طریقوں سے safety of the maritime shipping کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان نیوی PNHD کی کاوشوں اور ہائیڈرو گرافی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اس دن کے موضوع کو آگاہی بڑھانے کے لئے متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کرکے اس سال کا عالمی ہائیڈرو گرافی ڈے منا رہی ہے۔اس دن کا تقاضا ہے کہ ہم کہ ہم اپنے سمندری نقشہ سازی کے نظام کو جدید بنانے کے لئے پائیدار جدت طرازی پر عمل کریں.جبکہ سمندری انفراسٹرکچر، مضبوط فشریز اور سمندری تفریحی شعبہ (سیاحت)، ماحولیات کے امور وغیرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے۔یہ وہ وجوہا ت ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان(Innovation for Autonomous Technologies)کو اپنی نیشنل پالیسی کا حصہ بنائیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

World Hydrography Day is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 21 June 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.