ذیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذمہ دار کون؟

پیر ستمبر

Ahtsham Ijaz Bhalli

احتشام اعجاز بھلی

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگر کیا واقعی ہم مجموعی طور پر اسلامی اقدار پر بانی اسلام حضرت محمد ص کی تعلیمات کے مطابق عمل کر رہے ہیں یا ہم شیطان کے پیروکار بن کر معاشرے کے اخلاقی طور پر زوال پزیر ہونے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟
پاکستان میں بدقسمتی سے کئ قسم کی برائیوں اور جرائم میں سے ایک اہم اور سنگین علت عورتوں اور بچوں سے زیادتی کے واقعات ہیں جن میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔


پچھلے دنوں موٹروے پر ایک خاتون سے اس کے بچوں کی موجودگی میں شیطان صفت انسانوں نے زیادتی کی جس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔اس واقعہ کو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کی بدولت پزیرائی مل گئ اور پولیس اور حکومت ایکشن میں آ گئ ورنہ ہو سکتا ہے یہ بھی لاتعداد دوسرے واقعات کی طرح دب چکا ہوتا مگر ابھی میرے کالم لکھنے تک ایک ملزم عابد کو پولیس پکڑنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور ایک یا دو مرتبہ تو ایسا ہوا کہ وہ پولیس سے کچھ فاصلہ پر تھا اور وہاں سے بھی بھاگ گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ابھی تک ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے دکھائ دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)


اس کے بعد دیگر کئ واقعات کی طرح ایک اور اندوہناک زیادتی کا واقعہ ایک دوست نے سوشل میڈیا پر مجھے بھیجا جس کی تفصیل پڑھ کر دکھ میں مزید اضافہ ہوا اور میں سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا ان درندوں کا جو بھی زیادتی کے مجرم ہیں اور جو ان واقعات پر کاروائی نہ کر کے ان کو فروغ دیتے ہیں ان کا کسی دین سے اور انسانیت سے کوئ ناطہ ہے بھی یا نہیں؟
تفصیل کے مطابق یہ سانحہ بہاولپور میں پیش آیا جہاں وہی روایتی طاقتور اور کمزور کی کہانی دہرائ گئ۔

ملزم لقمان مقامی زمیندار ہے جس نے طاقت اور پیسے کے نشے میں دھت ہو کر اپنے علاقے کے محنت کش کی بیٹی کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنا ڈالا۔
رپورٹ کے مطابق مظلوم اور بے بس لڑکی کے والد نے تھانے میں ایف آئ آر درج کرانے کے لیۓ اندراج مقدمہ کی درخواست دی مگر مقامی پولیس نے بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجاۓ لیت و لعل سے کام لینا شروع کر دیا اور متاثرہ خاندان کو مزید ذلیل کرنے کے لیۓ تھانے کے چکر لگوانے شروع کر دیے۔

اس روز روز کی ذلالت سے تنگ آ کر متاثرہ لڑکی نے خودکشی کر لی۔اس کے بے بس والد کے مطابق پولیس کے رویے سے تنگ آ کر اور ملزمان کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی وجہ سے اس کی بیٹی نے اسپرے پی کر خودکشی کر لی ہے۔
اس بدنصیب لڑکی نے اپنے باپ کے نام مرنے سے قبل ایک کاغذ بھی چھوڑا جس پر لکھا تھا کہ ابا! آپ کل سر اٹھا کر جیو گے۔
واقعہ کا علم ہونے پر متعلقہ ڈی پی او نے ایف آئ آر درج نہ کرنے پر ایس ایچ او اور محرر کو حوالات میں بند کروا دیا اور ملزمان کے خلاف ایف آئ آر درج کرنے کا حکم دیا۔


اس واقعہ میں جہاں متعلقہ تھانے کے عملے نے روایتی رشوت خوری کا مظاہرہ کیا وہاں ڈی پی او نے اپنا فعل قانون کے مطابق کیا۔مگر کیا اس سب کے باوجود بھی اس باپ کی بیٹی اور اس کی کھوئ ہوئ عزت واپس مل جاۓ گی؟
امید ہے کہ ڈی پی او بہاولپور نے متعلقہ پولیس کے راشی افسران کے خلاف قانون کے مطابق عمل نہ کرنے کے علاوہ،رشوت لینے اور لڑکی کی موت کی دفعات بھی شامل کرائ ہوں گی کیوں کہ ان سب کے بغیر انصاف کہ تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

متاثرہ باپ کو بااثر ملزمان کے خلاف تحفظ فراہم کرنا بھی پولیس کی ذمہ داری ہے۔
ویسے اگر ڈی پی او صاحب کے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کے لیۓ کھلے ہوں اور مظلوم شخص بھی اپنی فریاد لے کر بلا جھجک وہاں جا سکے اور اسے یقین ہو کہ اس کی درخواست پر قانون اس کی مدد کرے گا تو جرم تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو جاۓ۔
ان تمام واقعات کا بحیثیت قوم ہم سب بھی کچھ حد تک ذمہ دار ہیں کیوں کہ کبھی ہم میں ہی موجود عالم دین یہ کہہ دیتے ہیں کہ زیادتی کے واقعات مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے ہوتے ہیں اور کبھی ہم میں ہی موجود پولیس افسر یہ بیان دے دیتے ہیں کہ اکیلی عورت کو رات کو موٹروے پر سفر نہیں کرنا چاہیۓ اگر وہ زیادتی سے بچنا چاہتی ہے تو۔


وہ متعلقہ پولیس افسر بھی ہم میں سے ہی ہیں جن کا جینا اور مرنا رشوت کے لیۓ ہوتا ہے اور وہ کسی بے بس کی مدد کرنے کی بجاۓ اپنی توندیں حرام کی کمائ سے بھر رہے ہوتے ہیں جبکہ زیادتی کے مرتکب درندے دندناتے پھرتے ہیں۔
ہمارے علماۓ دین کو بھی ہر سطح پر ایسے واقعات کی مزمت کرنی چاہیۓ۔ہماری عدالتوں کو بھی ایسے درندوں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیۓ کیوں کہ ایسے افراد قوم کے مجرم ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Ziyadti K Bharte Hue Waqiyat Ka Zimedar Kon Column By Ahtsham Ijaz Bhalli, the column was published on 21 September 2020. Ahtsham Ijaz Bhalli has written 6 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ahtsham Ijaz Bhalli on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.