بھارتی معیشت حالت نزع میں

پیر 13 اپریل 2020

Hammad Asghar Ali

حماد اصغر علی

ایک طرف تو باقی دنیا کی مانند مودی سرکار بھی کورونا جیسی عالمی وبا کے شکنجے میں آچکی ہے اوروہاں کی مجموعی صورتحال کسی بھی طور اطمینان بخش نہیں قرار دی جاسکتی مگر اس مرحلے پر بھی بھارتی حکمران گروہ مسلم دشمنی اور نہتے کشمیری عوام کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی پارٹی کانگرس اس ضمن میں مسلسل آنے والے خطرات سے بھی آگاہ کرتی نظر آرہی ہے۔

اس کا جائزہ لیتے اعتدال پسند حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کیا واقعی بھارت کی معیشت اگلے 6ماہ میں ڈوب جائے گی؟کیا واقعی اقتصادی سونامی آنیوالی ہے جو اربوں روپے ڈبو دے گی ؟کیا اس کیلئے مودی سرکار کی بے سمت اقتصادی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ کانگرسی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ بھارت میں معاشی تباہی آرہی ہے لیکن مودی سرکارکوئی توجہ نہیں دے رہی،اگر یہ ہی صورتحال برقرار رہی تو اگلے 6ماہ میں بھارت کو ناقابل تصور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

راہل گاندھی نے گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمنٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی تباہی آرہی ہے ،ہندوستان کو نا صرف کورونا وائرس بلکہ معاشی تباہی کے سونامی کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بار بار متنبہ کر رہا ہوں لیکن میری بات نہیں سنی جارہی ۔ادھر ماہرین کو بھی لگتا ہے کہ آنے ولا وقت بھارت کی معیشت کیلئے برا ہونے ولا ہے ۔

راہل نے بھارتی ایوان میں پوچھا کہ بینک سے لون لے کر نہ چکانے والے سرفہرست 50لوگوں کے نام بتائے جائیں اس پر واضح جواب دینے کی بجائے مودی سرکارنے کہا کہ ویب سائٹ پر نادہندگان کے نام دئیے گئے ہیں۔ گاندھی نے کہا میں نے جان بوجھ کر نادہندگان کے بارے میں کچھ آسان سوالات پوچھے،لیکن مجھے ان کا بھی واضح جواب نہیں ملے۔یاد رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے ہندوستانی وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے مبہم جواب دیا تھا کہ 2010سے 2014تک گروس ایڈونس دئیے گئے تھے،ہماری حکومت نے ان میں کمی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 50نادہندگان کی فہرست ویب سائٹ پر ہے اور 25لاکھ روپے سے زائد والے نادہندگان کے نام ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تمام نادہندگان کے نام پڑھنے اور ایوان کی میز پررکھنے کیلئے تیار ہوں۔
 اگرچہ دہلی کے حکمران معاشی خوشحالی، جمہوریت اور سیکولرازم کے بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر زمینی حقائق ان کے دعووں کی ہنڈیا بار بار بیچ چوراہے پھوڑدیتے ہیں۔

بھارتی اقتصادی ماہرین کے مطابق 8 نومبر 2016 میں مودی نے نوٹ بندی کرنے کا جو احمقانہ فیصلہ کیا، اس نے بھارتی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس فیصلے کے بعد ہندوستانی معیشت میں جو تباہی آنی تھی، ریزرو بینک آف انڈیا کے ریزرو فنڈ سے ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کی خطیر رقم لینا اس کا منطقی انجام ہے۔ یاد رہے کہ اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی سابق وزیراعظم اور ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ اس فیصلہ سے نہ صرف بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار میں دو فیصد کی سالانہ گراوٹ آئے گی بلکہ اسکے خطرناک اثرات دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے۔

آج حالت یہ ہے کہ ہندوستان میں عوامی اداروں سے سرمایہ کی نکاسی ، تھکے ہارے عوام پر طرح طرح کے ٹیکس لگا دینے ، ہندوستان تاریخ میں سب سے سستا خام تیل خرید کر اسے سونے کے بھاؤ بیچنے کے باوجود ہندوستان کی معیشت میں استحکام نہیں آ رہا۔ بیروزگاری کی شرح بچاس برسوں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے ، کاروبار ٹھپ پڑے ہیں، کسان دھڑا دھڑ خودکشی کر رہے ہیں مگر مودی چین کی بانسری بجا رہے ہیں ، BJP کے رہنما حقائق کو توڑ مروڑ کر یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ہم جلد ہی پانچ ٹریلین معیشت بننے والے ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ عالمی بینک نے آپ کو ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے کیوں نکال دیا؟، تاریخ میں سب سے زیادہ غیر ملکی قرض مودی سرکار نے کیوں لیا؟، ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے ” ہندوانتہا پسندی“۔

گذشتہ دنوں جھارکھنڈ میں بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر کے جواں سال بیٹے نے نوکری جانے کے خدشے سے خودکشی کر لی، کہنے کو تو یہ ایک معمولی خبر ہو سکتی ہے لیکن قریب قریب ہر لحاظ سے بھارت میں جس طرح روزگار جا رہے ہیں، ملازمین کی چھانٹی ہو رہی ہے، لاکھوں لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹے ہیں ، لاکھوں کے سر پر نوکری جانے کی تلوار لٹک رہی ہے، بیروزگاری کی شرح 50 سالوں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے، یہ بھارتی بالادست طبقات کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔


    اگرچہ کمال ہوشیاری سے مودی سرکار اور RSS کی پراپیگنڈہ مشینری جارحانہ انتہا پسندی پر قوم پرستی کا پردہ ڈالے ہوئے ہے، لیکن عالمی صحت تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر پانچواں شخص ڈپریشن کا شکار ہے جس کی اہم وجوہات میں سے ایک مستقبل کی تاریکی، بے یقینی اور سماجی پرابتری ہے جو مودی سرکار کا ہندوستان کیلئے ایک عظیم’ تحفہ‘ ہے۔

ہر 39 منٹ بعد ایک کسان خودکشی کر رہا ہے، چھوٹے اور متوسط کاروبار برباد ہو رہے ہیں، تعمیراتی سیکٹر بے موت مر چکا ہے، افسروں اور انجینئروں سے لے کر مستری مزدوروں تک کو بیروزگاری جھیلنی پڑ رہے ہیں، اب بھارت کا آٹو سیکٹر بھی اس عفریت کی زد میں آ چکا ہے۔ ٹاٹا ماروتی اور دیگر آٹو کمپنیوں کے پلانٹ اور شو روم بند ہو رہے ہیں اور ان میں کام کرنے والے لاکھوں لوگ سڑکوں پر آ رہے ہیں۔

بھارت کے اقتصادی امور کے ماہر ”مرلی رام شرما“ نے کہا ہے کہ بھارت کو مسئلہ صرف بیروزگاری کے محاذ پر ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا معاشی ڈھانچہ چرمرا کر رہ گیا ہے۔ عالمی بینک نے بھارت کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے نکال کر افریقی ملکوں کے زمرہ میں رکھ دیا ہے۔ ” پی بال کرشنن“ نے کہا کہ مودی سرکار بننے کے بعد 2014 سے ملک کی مائیکرو معاشی پالیسیاں معیشت کو سکیڑ رہی ہیں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کساد بازاری اور بیروزگاری کا پچاس برسوں کی بلند ترین شرح پر پہنچنا لازمی تھا۔

یہاں یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اگرچہ معاشی محاذ پر وطن عزیز کی صورتحال بھی کسی طور قابل رشک نہیں ہے، جس کا بروقت ادراک انتہائی ضروری ہے ورنہ یہ کساد بازاری ہمارے لئے بھی کئی نئے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس حوالے سے خطے کے سبھی ممالک اپنی انسانی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :