کرونا وائرس کی دوسری لہر اور پاکستانی عوام

جمعہ اکتوبر

Kiran Samad

کرن صمد

 کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا اور بہترین معاشرہ وہی ہے جس کے تمام تر افراد صحت مند ہوں اور زندگی کے ہر شعبے میں آگے ہوں۔ ایسے میں اگر کوئی ایسا مہلک وائرس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو اس معاشرے کا ترقی کرنا ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔بات ہو رہی ہے کرونا وائرس کی جس کا پھیلاؤ چین کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 میں شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے تقریبا ہر ملک کے باشندے اس کا لقمہ اجل بنتے چلے گئے۔

یہ وائرس دنیا کے 152 ممالک تک رسائی حاصل کر چکا ہے اس کی علامات میں نزلہ, کھانسی, سانس لینے میں دشواری, تیز بخار اور شدید سر درد شامل ہیں۔26 فروری 2020 کو پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا پھر مذہبی زیارتوں سے واپس آنے والے زائرین میں کرونا کی تصدیق ہونا شروع ہوئی یوں کرونا پورے ملک میں پھیل گیا۔

(جاری ہے)

15 مارچ 2020 کو وزیراعظم عمران خان نے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جس میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے, ہوٹل ,ریستوران, شادی ہال اور گھر سے باہر اور گھر میں کی جانے والی تمام تر سرگرمیوں اور کہیں بھی افراد کے مجمعے پر پابندی عائد کردی گئی۔

تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو کم سے کم کیا جاسکے اس لاک ڈاؤن میں سب سے زیادہ دیہاڑی دار طبقہ, مزدور اور نجی نوکریاں کرنے والے ملازمین متاثر ہوئے.کئی گھروں میں فاقے کی نوبت آئی تو کہیں علاج معالجے کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ مرض کٸی غریبوں کی جان لے گیا۔
جون میں کرونا کی وجہ سے حکومت نے جب یہ اعلان کیا کہ اگر اس کی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ملک کے تمام ہسپتالوں میں بستر کم پڑ جائیں گے اور ملک کی سڑکیں تک مریضوں سے بھر جائیں گی ایسے میں پاکستانی عوام نے  نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے بتائی گئی تمام احتیاطی تدابیر کو اپنایا اور گھروں سے غیر ضروری آمدورفت کا سلسلہ کم کیا۔

بالآخر 15 ستمبر 2020 کو وہ دن آیا جب ملک میں تمام تر تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ سے کرونا کے ایس او پیز کے ساتھ بحال کر دی گئیں تمام تفریحی مقامات مرحلہ وار کھولے گئے اور یوں ملک عزیز دوبارہ صرف اپنے باشندوں کی احتیاط کی بنا پر زندگی کی طرف رواں دواں ہوا۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کی کرونا میں ملک دوست پالیسیوں بالخصوص سمارٹ لاک ڈاؤن پر تعریف کی گئی۔

جس میں اس بات کا اظہار کیا گیا کہ دنیا کو کرونا سے نمنٹنے کے لیے پاکستان کی طرف دیکھنا چاہیے۔ مگر ماہرین صحت کا یہ بھی کہنا تھا کہ موسم کی تبدیلی پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر کو جنم دے گی۔
وہی ہوا جس کا ڈر تھا اکتوبر کے مہینے میں پاکستان میں کرونا کے نئے مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 27 اکتوبر کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 26 سندھ میں615  خیبر پختونخواہ میں 57 اور اسلام آباد میں ایک سو ایک نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

جس کی وجہ سے ملک میں تمام تفریحی مقامات کو شام 6 بجے ,ہوٹلوں اور شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ملک میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔کرونا کی دوسری لہر میں مریضوں کی تعداد میں زیادتی اس وجہ سے سامنے  آئی کہ ہم نے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا چھوڑ دیا ہے, ہم نے ماسک پہننا چھوڑ دیا ہے, ہم نے زیادہ ہجوم والی جگہوں پر سماجی فاصلے کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے, ہم نے دعوت و اور شادیوں کی تقاریب میں ایس او پیز نظرانداز کیے ہیں۔ اگر ہمارا زندگی اور صحت کی طرف یہی وطیرہ رہا تو ہم اپنی تباہی کے ذمہ دار خود ہوں گے کیونکہ یہ ایک ایسی وبا ہے جس کا علاج ہمیں خود پتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Corona Ki Dosri Leher Or Pakistani Awam Column By Kiran Samad, the column was published on 30 October 2020. Kiran Samad has written 2 columns on Urdu Point. Read all columns written by Kiran Samad on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.