وقتی محاسبے اور قیاس آرائیاں

جمعہ دسمبر

Muhammad Abaid Manj

محمد عبید منج

مشکلات میں مزید اضافہ کرتیں ہیں
وکلا اور ڈاکٹرز کا کوئی قصور نہیں!
حکومت وقت کے نقشے قدم پہ چلتے ہوئے ایک مخصوص طبقے نے دوسرے طبقے کا تمسخر اڑا کر اپنے بڑوں کی ریت کو تقویت بخشی۔ مذاق ریاست بنی۔ وکیل اور ڈاکڑز نہیں جیتے،جیتے تو مغربی عناصر جیتے جو ملک کو ہی نہیں بلکہ اپنی پرانی ڈاکٹرائن کالونزم کو پورا ہوتے دیکھ رہیں ہیں۔

حکمرانوں اور کریندوں کو سر سے اتار پھینکے ذرا اپنے فرائض منصبی اور وقتی ضرورتوں کی طرف توجہ دیں۔ کھانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے طریقوں پہ اور جرائم کو گناہ سمجھنے سے نہ کوئی ڈاکٹر بدمعاش ہو گا نہ ہی کوئی وکیل بدمعاش ہو گا۔اسلام میں ان کا حل ایک ہی اصول اور دلائل پہ مبنی ہے پھر نہ کوئی حسن نیازی وکلا کے ساتھ ہو کے بھی پرچوں سے بری اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر ذیشان کسی وکیل بھائی کا تمسخر اڑائے گا۔

(جاری ہے)

ہر کرسی کے کچھ فرائض ہوتے ہیں لیکن اگر کرسیاں ہی سڑکوں اور چوکوں سے حاصل کی جاتی ہوں اور علاج معالجوں کے لئے پاکستان بھر سے ڈاکٹر کے فقدان پائے جاتے ہوں تو بے چاری لاچار عوام کے لئے پانچ پانچ بلڈنگز کے ہسپتال لوٹنے کے لئے بنائے گئے ہیں جہاں پرچی پہلے دو روپے کی رکھی گئی کہ دُکان ابھی کھولی ہے تو رش پڑ جائے؟
 وقت کے ساتھ عوام کے کپڑوں اور اب ان کی زندگیوں کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے ان چند لوگوں نے! بچی کسر تو نظام تعلیم کے بھی ڈاکے شروع کر دئیے کیا یہ اچھے فیوچر میں آپ کے کام آ سکیں گیں؟کیا تعلیم عام کی جا رہی ہے؟پرائیوئٹ کالج یونیورسٹیوں کا بھونچال سا آ گیا ہے آخر کیوں یہ ساری محنت اسی سکیٹر پہ ہی ہو رہی ہے؟ بہت سارے سوالات ایسے ہیں جو آپ کو سوچنے پہ مجبور کر سکتے ہیں؟ گیس، بجلی،سبزی، گھر،زمین یہاں تک کے معاشرتی اقدار کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔

اگر حاکم وقت سٹیج پہ دوسروں کی نقلیں اُتارے گا تو رعایا تو بینڈ باجا بارات لے کر ہی جائے گی۔؟؟؟
 عمران صاحب یورپ اسلام کے قوانین پہ اپنے قوانین اخذ کرتا ہے اس کی مثالیں دے کر خود کو شرمندہ مت کریں! مقابلہ کرنا ہے اسلامی نفاذ کے لئے کریں موازنہ کرنا ہے تو خود کو موازنہ کے قابل بنائیں تقاریر سے کام نہیں چلتے عملاً اپلائی کریں۔

کسی ذات کو اس کے منہ پہ اس کی کرتوت بتائیں نہ کہ کیمروں کے سامنے! یہ علمیہ وکیلوں کو ہسپتالوں اور ڈاکڑوں کو سڑکوں پہ لے آیا! کیا اس کے ذمہ دار آپ نہیں؟ کیا آپ نے سڑکوں کی راہ نہیں دیکھائی؟ آج دیکھ لیں پھر دو سے اڑھائی سو لوگوں آپ کی ریت جو اسلام آباد میں آپ نے ڈالی اس پہ عمل پیرا نہیں ہوئے؟اس وقت جس ڈھٹائی کا مظاہرہ نواز شریف نے کیا گر کرسی چھوڑ کر آپ کے ہاتھ پہ بیعت کر لیتے تو آپ کی یہ رسمیں آگے نہ نکلتیں! یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ملک کو ایسے مسائل درپیش ہیں جن کی بنیاد اور ذمہ داری لینے کے لئے نہ پہلے کوئی راضی تھا نہ اب کوئی؟ سب آتے ہیں اپنی باری کھیلتے ہیں آوٹ ہونے پہ بھی نوبال کروا لیتے ہیں! گھیسٹا جاتا ہے تو اداروں کو آخر کیوں؟ کیا اداروں کی پختگی ہونی چاہیے یا نجکاری؟؟ اپنے انداز بیان بدلنے کے ساتھ جن غلطیوں کے مرتکب آپ ہوئے ہیں ان کے ازالہ کرنے کا وقت ہے نہ کہ گوروں کے دخول کے راستوں کو پختہ کرنے کا؟؟ ایکٹنگ اور گردوگربیاں ہونا چھوڑیں عوام کی نہیں اپنی ہی آخرت کو سنوارنے کا کام شروع کر دیں شاید کوئی اچھی ریت چل پڑے ورنہ جن سٹوڈینٹ یونینز اور نمائندوں کو یونیورسٹیوں سے آپ نے ڈی چوک تک علامہ قادری صاحب اور آپ نے محافل سماں سجوائیں تھیں ان کے بھی پر آپ کی وجہ سے پر نکل آئیں ہیں۔

!ایسے بیشتر عناصر آپ کے بتائے ہوئے فارمولوں استعمال کریں گیں تو ملکی سلامتی حقیقتاً لال لکیروں میں گھیری رہے گی! خدارا اسلام کے امیج کو متاثر ہونے سے بچائیں گر نہیں کر سکتے تو اپنی نگرانی میں ایک الیکشن ایسا کروائیں جس میں عوام اور قابل لوگ پارلیمنٹ کا حصہ بنیں کیا خان صاحب آپ کر سکتے ہیں؟ پہلے والے قافلے میں جو مسافر جان کی پناہ کے لئے آپ کے شریک سفر بنے ان کو اتار سکتے ہیں؟ کیوں کہ اب وقت اور زور کی لگام آپ کے ہاتھ ہے اب مظلوم کی چیخ وپکار سے آپ آشنا ہے انگاروں سے سفر جو آپ نے تنہا سر کیے آج رنگ بدلتے موسموں کا بسیرا کیوں سجائے بیٹھے ہیں؟ خان صاحب یہ وقت ہے گزر جائے گا لیکن قائد رحمتہ اللہ کے گزرنے کے بعد بھی اصول وضوابط ان سے منصوب ہیں۔

اگر نعرہ لگایا ہے تو تسبیح کے ساتھ قول و فعل میں تضاد نہ رکھیں۔ سیاست کو ریاست کے قوانین پہ فوقیت مت دیں۔ سیاست آنے جانے والی چیز ہے لیکن ریاست نہیں: اس ریاست میں تین سو کنال سے ہٹ کر کسی کی جھونپڑی تو کچا مکان بھی ہے! کسی کی ریڑھی تو کسی تختہ بھی ہے! کوئی سائیکل کے پنکچر سے تنگ ہے تو کوئی بھوک وافلاس کے چکر میں، خاں صاحب ریاستیں نہیں ملتیں سیاستیں رات کو ایک جگہ پہ مل جاتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا سوچیے۔۔۔۔۔۔ذرا سمجیھئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔ذرا رکیے۔۔۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Waqti Muhasebe Aur Qayas Araiyan Column By Muhammad Abaid Manj, the column was published on 13 December 2019. Muhammad Abaid Manj has written 8 columns on Urdu Point. Read all columns written by Muhammad Abaid Manj on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.