منتخب نمائندگان دیر کے لیے غیرت کا سوال

پیر اکتوبر

Muhammad Hussain Azad

محمد حسین آزاد

 کاروباری اور سماجی و اقتصادی لحاظ سے دیر بالا ایک پسماندہ ضلع ہے۔ نوابی دور میں یہاں کے لوگوں کو محدود رکھا گیا تھا۔ ضلع سے باہر جانے پر پابندی تھی، باہر کے لوگ بھی یہاں نہیں آسکتے تھے، اگر آتے تو بڑی احتیاط سے یہاں وقت گزارتے۔ یہاں کے بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ اس طرح یہاں کے لوگوں کو پسماندہ اور جہالت کی اندھیروں میں رکھا گیا۔

یہاں کے لوگ اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ جیسا کہ آج کل بھی کچھ لوگ اپنی بنیادی حقوق پر سودا بازی کرتے ہیں۔
 قارئین، دیر کو جس طرح نواب دیر نے پسماندہ رکھا، اس طرح نواب دیر کے بعد آنے والے یہاں تمام منتخب نمائندگان نے دیر کو پسماندہ رکھنے کی پوری پوری کوشش کی۔ سکولز و ہسپتال بنانے کے بارے میں سوچا اور نہ انفرا سٹرکچر کو بہتر بنایا۔

(جاری ہے)

کھیل کود کے میدان ، سٹیڈیم وغیرہ بنانا تو یہاں پر عیاشی سمجھا جاتا تھا۔یہاں کے کلچر و تہذیب کو دفن کردیا، اور یوں یہاں کے لوگ صرف "زندہ باد مردہ باد" کے نعرہ بازی کرنے کے لئے رہ گئے۔الیکشن کے وقت کوئی سیاست دان لوگوں کے پاس جاتے، ان سے ووٹ لینے کے لئے انہیں سبز باغ دکھاتے اور یہ سادہ لوح لوگ ان پر آندھا اعتماد کرکے انہیں ووٹ دیتے، پھر الیکشن جیتنے کے بعد وہ غائب ہوجاتے اور اگلے الیکشن میں ہی دکھائی دیتے۔

لیکن پھر بھی ان کی چالاکی و مکاری دیکھ کر لوگ ان پر اعتماد کرتے۔ اس طرح ہمارا ضلع دنیا سے بہت پیچھے رہ گیا۔ یہاں کی پسماندگی کی وجہ سے بہت سارے لوگوں نے ہجرت کیا اور دوسرے شہروں میں آباد ہوگئے۔ رفتہ رفتہ یہاں کی تقریباً آدھی آبادی دوسری شہروں میں منتقل ہوگئی۔اور یہاں پر حکومت کرنے والا خاص ٹولہ یہاں کی پسماندگی سے بے خبر اپنے عیاشوں میں مصروف چلا آرہا تھا۔

قارئین،دنیا نے بڑی ترقی کی۔ لوگ چاند پر چلے گئے، اور ہم نے بھی ترقی کرتے ہوئے لوگوں کا چاند پر جانے کے بارے میں سنا۔ ہم غاروں سے نکل کر زمین پر آگئے۔لیکن ہم اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں نہیں جان سکے تھے۔ رفتہ رفتہ ہمارے بچوں نے تعلیم حاصل کرلی، ہم سوشل اور مہذب ہوگئے اور ہمارے کو اپنے حقوق کے بارے میں بھی تھوڑا بہت علم ہوا۔ لیکن جب ہم اپنے حقوق کے بارے میں جان گئے تو ہمارے حقوق کسی اور کو مل چکے تھے۔

ہم سے ہمارا حق چھین لیا گیا تھا جو اب کسی بھی حال پر ہم وہ حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ 
لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے ساتھ اتنا بڑا ظلم کس نے کیا ؟ ہمارے ساتھ یہ ظلم سب سے بڑھ کر ہمارے مقامی سیاست دانوں نے کیا جنہوں نے ہمیشہ سے صرف اپنے مفاد کے بارے میں سوچا ہے۔دیر کی ترقی اور پسماندگی سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔دوسری ہماری ناسمجھی اور جہالت کی وجہ سے بھی ہمارے حقوق چھین لیے گئے۔

لیکن اب دیر ”دیر“ نہیں رہا جیسے پرانے زمانے میں لوگ کہتے تھے ”دیر“ جس کا لفظی معنی ہے ”لیٹ“ یعنی پیچھے۔اب دیر کے لوگ ناسمجھ نہیں ہیں، اپنے حقوق کے بارے میں جانتے ہیں اور اپنا حق حاصل کرنا بھی جانتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو صرف اپنی فکر رہتی ہے، انہیں علاقے کی ترقی سے زیادہ اپنا عہدہ اور حیثیت کی بقا عزیز ہوتی ہے، انہیں صرف اپنی سیاست کی پروا ہوتی ہے۔

قارئین، قدرتی حسن کی تقسیم پر قدرت دیر پر مہربان ہوئی ہے۔ دیر بالا قدرتی حسن لے لحاظ سے ایک ماڈل ضلع ہے جہاں سیر سپاٹے کے لئے قسم قسم کے خوبصورت مقامات پائے جاتے ہیں۔جس میں کمراٹ، جاز بانڈہ، لام چڑھ ،سیدگئی ڈنڈا، سکائی لینڈ وغیرہ دوسرے ایسے بہت سے مقامات ہے جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ لیکن ان سب میں کمراٹ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت مشہور ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان بار بار کمراٹ کی خوبصورتی کی تعریف کر چکے ہیں۔ لیکن کمراٹ جتنا خوبصورت ہے اس سے زیادہ وہاں پر جانا مشکل ہے۔وہاں پر سب سے بڑا مسلہ سڑک کا ہے۔ چند دن پہلے سینئر اور سیر و سیاحت کے صوبائی وزیر عاطف خان نے کمراٹ کا دورہ کیا اور وہاں کی خوبصورتی کی بڑی تعریف کی۔ 
انہوں نےکہا کہ کالام سے کمراٹ تک سڑک بنایا جائے گا جس پر تقریباً پانچ ارب روپے خرچ آئےگا۔

قارئین، سڑک کمراٹ کی سب سے پہلی ضرورت ہے لیکن کالام سے کمراٹ تک کاسڑک بنانے کا مطلب دیر کے عوام کو گھاس ڈالنے کے مترادف ہے۔یہ دیر اپر اور دیر لوئر کے لوگوں کی معاشی استحصال ہے۔ اس کی وجہ سے دیر کی حیثیت ختم ہوجائے گی اور دیر کمراٹ سے سوات کمراٹ بن جائے گا۔دیر کے سب لوگوں خاص کر منتخب نمائندوں کو اس منصوبے کو روکنا چاہیئے اور اس کی جگہ دیر سے کمراٹ تک روڈ بنانے پہ غور کرنا چاہیئے۔

خاص کر ایم این اے صاحبزادہ صبغت اللہ کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔اگر منتخب نمائندگان نے اس منصوبے کو روک کر دیر ٹو کمراٹ سڑک بننے پہ غور نہیں کیا تو یہ اس بات کی واضح ثبوت ہوگی کہ ہم اب تک ناسمجھ اور جاہل لوگ ہیں اور ہمیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔لہذا یہ آپ لوگوں کی غیرت کا سوال ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Muntakhib Numaindgan Deer Ke Liye Ghairat Ka Sawal Column By Muhammad Hussain Azad, the column was published on 07 October 2019. Muhammad Hussain Azad has written 6 columns on Urdu Point. Read all columns written by Muhammad Hussain Azad on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.