یہ جو دس کروڑ عوام ہیں۔۔۔

جمعرات دسمبر

Murad Ali Shahid

مراد علی شاہد

ستر کی دہائی میں جب صدر ایوب خان نے ملک میں آٹے کی قیمت میں اضافہ کیا تو ملک کے طول وعرض سے صدائے احتجاج بلند ہونا شروع ہوگیا۔اس نوائے احتجاج میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شمولیت اختیار کرنا شروع کردی۔سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ اہل دانش نے بھی حکومت کی طرف سے قیمتوں کی گرانی کے خلاف ایسے ایسے مظاہرے گئے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔

خاص کر ایسے شعرا کرام جو مزاحمتی ادب یا انقلابی شاعری کے سرخیل تھے۔ان شعرا میں سے حبیب جالب ایسا نام ہیں جنہوں نے اپنے قلم وقرطاس کو حکومت کے خلاف ایسا استعمال کیا کہ ان کے قلم سے نکلنے والا ایک ایک حرف حکومتی ایوانون میں آگ لگا دیتا۔خاص کر ان کی یہ نظم نہ صرف زبان زد عام ہوئی بلکہ ان دنوں آمریت کے خلاف ترانہ کی سی صورت اختیار کر گئی۔

(جاری ہے)


بیس روپے من ہے آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
صدر ایوب زندہ باد
یعنی آٹے کی قیمت صرف بیس روپے من ہوئی تو عوامی احتجاج کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کی کوچہ و بازار میں اس مہنگائی کے خلاف آوازیں سنائی دینے لگیں۔جالب نے نہ صرف اس حکومتی فعل کے خلاف آواز بلند کی بلکہ انہوں نے اس کا ذمہ دار ان لوگوں کو بھی ٹھہرایا جو حکومتی اقدامات کے حق میں تھے۔

اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ
 میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
 جہل کانچوڑ ہیں
حالیہ حکومتی جلسوں اور حزب مخالف کے احتجاجی جلسوں میں عوام کا کرونا کو لے کر ایس او پیز کا خیال نہ کرتے ہوئے بے دریغ شامل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ شائد جالب کے دس کروڑ اب بائیس کروڑ ہو چکے ہیں۔لیکن فکر ان کی اب بھی سو ئی ہوئی ہے،جہالت کا آج بھی راج ہے۔

واقعی بے شعور قوم ہے،ایسے لوگ زندگی کا روگ اور معاشرہ پر ماسوا بوجھ کے اور کچھ نہیں ہوتے۔وہ اس لئے جو عوام شخصیت پرستی میں بت پرستی کی حد تک چلی جائے اس کی اخلاقی اقدار کا جنازہ تیار اور لاش دفنانے کے قریب ہوتی ہے۔یہ جہالت ایسے ترقی پزیر ممالک میں زیادہ تر دیکھنے میں آتی ہے جہاں ابھی تک جمہوری نظام حکومت کا تجربہ کیا جا رہا ہو۔جیسا کہ پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ راہنما جو جمہوریت،جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں وہ اپنے ہی ہاتھوں جمہور کی خواہشات کا قتل بھی کررہے ہوتے ہیں،وہ قتل حکومتی ایوانوں میں مہنگائی کی صورت میں ہو سکتا ہے،سماجی و سیاسی استحصال کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے یا پھر عوام میں ذہنی انتشار پیدا کر کے بھی کیا جا سکتا ہے۔

اور یہی جمہور کا جمہوری قتل حزب مخالف کی طرف سے حکومت کے خلاف تحاریک میں صورت میں عوامی اجتماعات میں ایک بریانی کی پلیٹ پر ذلیل ورسوا کر کے بھی کیا جا سکتا ہے۔تھوڑی دیر کے لئے حالیہ اپوزیشن کے جلسوں میں عوامی کو تحریک دلانی والی پی ڈی ایم کی تمام پارٹیوں کی بصیرت کا اندازہ لگائیں کہ دو بڑی جماعتیں جب اقتدار میں رہیں تو ان بھوکے ننگے لوگوں کے لئے کیا اقدامات کئے۔

ملکی وسائل کے کس حد تک قابل استعمال لایا گیا،قرض پر قرض لے کر ملک کو بین الاقوامی اداروں کے ہاں گروی رکھ کر آج اپنے سیاسی جلسوں میں ملک اور جمہوریت کے مامے بن کر ایک بار پھر سے عوام کو ”پھدو“بنانے نکل پڑے ہیں۔
لیکن قصور ایسے راہنماؤں کا نہیں ہے۔قصور ان کی بھوک،ننگ افلاس،بے روزگاری،عدم استحکام اور ذہنی انتشار کا ہے جو انہیں سیاستدانوں کی پیدا کردہ ہیں۔

مگر عوام شعور نہیں رکھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایک دن یہی راہنما ہمارے دکھوں کو مداوا کریں گے۔ارے سیدھی سادھی بدھو عوام اگر ان لوگوں نے ایسا کرنا ہوتا تو چالیس سالوں میں کرچکے ہوتے۔ہر مشکل وقت میں دبئی اور انگلینڈ کی سرزمین کو اپنا ٹھکانہ نہ بناتے۔طرح طرح کے حیلے بہانے کر کے ملک سے راہ فرار اختیار نہ کرتے۔اپنی جگہ اپنے بچوں کو مسند نشینی کے خواب نہ دکھاتے،انہیں اپنا جانشین نہ بناتے۔

باپ کے بعد بیٹا اور بیٹی سیاسی وراثت کے امین نہ ہوتے۔لیکن میں پھر کہوں گا کہ قصور ایسے راہنماؤں کا نہیں ہے بلکہ جالب کی بات بالکل سچ ہے کہ دس کروڑ بے شعور ہیں جو اب بڑھ کر بائیس کروڑ ہو گئے ہیں۔ان بائیس کروڑ عوام کو جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہے اور وہ کیسے ہوں گے ؟بالکل ویسے ہی جیسے کہ مغربی ممالک میں ہوتے ہیں کہ کبھی ایک پارٹی تو کبھی دوسری پارٹی،یعنی عوام اپنا احتجاج اپنے ووٹ کے صحیح استعمال سے کرتے ہیں۔

وہ اس لئے کہ ایسے ممالک میں عوامی شعور یہ ہے کہ ہم ان راہنماؤں کے غلام نہیں ہیں۔اگر ایک سیاستدان ملک اور عوام کی فلاح کے لئے اچھا کام نہیں کررہا ہے تو اسے دوسری بار منتخب نہ کیا جائے اور اس انتخاب کا حق عوام کے پاس ہوتا ہے اور عوام اپنے ووٹ کے ذریعے سے ایسے نمائندوں کو رد کر دیتے ہیں۔یہی عوامی جمہوری سوچ پاکستان میں بھی پنپنے کی ضرورت ہے۔جب تک عوام میں یہ شعور پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک عوام،جالب کی اس نظم کی صداقت ہوتی رہے گی کہ
 یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Yeh Ju 10 Crore Awam Hain Column By Murad Ali Shahid, the column was published on 03 December 2020. Murad Ali Shahid has written 160 columns on Urdu Point. Read all columns written by Murad Ali Shahid on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.