خاک سے افلاک تک

اتوار فروری

Sahibzadah Shams Munir Gondal

صاحبزادہ شمس منیر گوندل

1945 میں جب انڈو پاک کے مسلمان اپنے جداگانہ تشخص اور بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، دوسرے لفظوں میں پاکستان عدم سے وجود میں آنے کے لئے پر تول رہا تھا، اس وقت دنیا کے نقشے پر کئی تبدیلیاں وقوع پزیر ہونے جا رہی تھیں۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہو چکی تھی، امریکن اور برٹش مشترکہ بلاک اپنی مرضی کی کانٹ چھانٹ میں لگا ہواء تھا، ہٹلر نے خود کشی کر لی تھی، جرمنی اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا تھا، جرمن فوج ختم ہو چکی تھی، جرمن قوم کو دیوار سے لگا دیا گیا تھا، ملک کو مشرقی اور مغربی جرمنی میں تقسیم کر دیا گیا تھا، درمیان میں دیوار برلن تعمیر کر دی گئی تھی، کوشش کی گئی کہ جس طرح قوم کے حصے بخرے کیے گئے اسی طرح دلوں کے درمیان بھی دیوار کھینچ دی جائے۔


 جنگ سے لے کر ملک کی تقسیم کی کشاکش میں 75 لاکھ شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

(جاری ہے)

جرمنی کے 114 چھوٹے بڑے شہروں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا تھا، ملک کی تقریبا 20 % عمارتیں مکمل طور پر خاک کا ڈھیر ہو چکی تھیں، جبکہ کئی زیادہ جزوی طور پر تباہ و برباد ہو چکی تھیں، زراعت کی بدحالی بھی نمایا ں تھی ، 65% زراعت کو نابود کر دیا گیا تھا، کارپٹ بمبنگ کی بدولت کھڑی فصلیں تباہ ہو کر رہ گئیں۔

بجلی بند تھی ، سڑکیں تباہ و برباد ہو چکی تھیں، بندرگاہیں یا تو نا قابل استعمال تھیں یا بمباری سے پشتے ٹوٹ پھوٹ چکے تھے، انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا گیا تھا، ملک کی کرنسی ختم ہو چکی تھی دوسرے لفظوں میں کرنسی کے بدلے ایک ڈبل روٹی بھی نہیں ملتی تھی، لوگ اپنے گھر وں کی اشیاء کو بیچ ضروریات زندگی کا حصول ممکن بناتے تھے یعنی دوسرے لفظوں میں بارٹر سسٹم رائج تھا۔

حالات اس حد تک خراب اور بدحالی اس درجہ اتم کو پہنچ گئی تھی کہ 1945 ء سے لے کر 1955 ء تک جرمنی کے تقریباْ ایک کروڑ اور چالیس لاکھ افراد تقریبا دس سال تک کیمپوں میں پناہ گزین رہے، ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، ان کی روز مرہ ضروریات اور گذر بسر کا دارومدار بیرونی امداد پر تھا، 1962 ء تک جرمنی امریکی امداد پر چلنے والا سب سے بڑا ملک تھا، جبکہ دیگر 14 ممالک بھی جرمنی کو امداد دیتے تھے ، اور ایک بہت حیران کن امر یہ کہ ان امداد دینے والے ممالک میں پاکستا ن بھی شامل تھی۔

بزبان اقبال 
 کبھی اے نوجوان مسلم تدبر  بھی کیا تو نے 
 وہ کیا گردوُں تھا جس کا تھا تو اک ٹوٹا ہواء تارہ 
پاکستان کے صدر مملکت ایوب خان کے دور میں جرمنی نے پاکستان سے جب مدد کی اپیل کی تو صدر پاکستان نے 20 سال کے لئے جرمنی کو 12 کروڑ روپیے قرض دیا تھا، جرمنی نے اس امداد کے بدلے حکومت پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ، جس کا ثبوت یعنی شکر گزاری کا خط آج بھی پاکستان کی وزارت خارجہ کے آرکائیو ز میں محفوظ ہے۔

 
60ء کی دہائی میں جرمنی کی یہ حالت تھی کہ جرمنی نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ ہم کو تقریبا 10 ہزار ہنر مند دئیے جائیں تاکہ انفراسٹرکچر میں قدرے بہتری کا کچھ ہو سکے، مگر حکومت پاکستان نے اپنے کار آمد ہنر مندوں کو باہر بھیجنے سے انکار کر دیا، اور جواب یہ دیا گیا کہ ہنر مند افراد قوم کا فخر اور اثاثہ ہیں اس لئے دوسروں کو نہیں دئیے جا سکتے۔

ہاں ہاں یہ ہی پاکستان تھا اور پاکستان کی حکومت کا جواب ہی آپ کو بتایا گیا ہے۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں جرمن حکومت نے حکومت ترکی سے درخواست کی حکومت ترکی کو رحم آگیا اس نے اپنے ہنر مند افراد جرمنی کو دیئے۔
 آج تقریبا 30 لاکھ سے زیادہ ترک شہری جرمنی میں باعزت روزگار کے لئے مقیم ہیں۔ میں نے آپ کو ایک پہلو یہ دکھایا یہ 50 سال قبل کے حالات تھے ۔

اب زرا موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے۔ آج جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی اور مضبوط معیشت ہے، جبکہ پاکستان دنیا میں معاشی لحاظ سے 41 نمبر پر ہے۔ جرمنی کا جی ڈی پی 3400 بلین ڈالر ہے، جبکہ پاکستان کا جی ڈی پی صرف 271 بلین ڈالر ہے۔ آپ کو پتا ہے کسی ملک کی برآمدات ملکی ترقی و خوشحالی میں کتنا اہم کردار ادا کرتی ہیں ، جرمنی کی سالانہ برآمدات 2100 ارب ڈالر ہے ، جبکہ ہماری برآمدات صرف 29 ارب ڈالر ہے، جرمنی کے زرمبادلہ کے زخائر 203 بلین ڈالر ہیں، جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے زخائر 21 بلین ڈالر یا اس سے زیادہ ہیں۔

جرمنی کی فی کس آمدنی 41178 ڈالر ہے، جبکہ ہماری کم و بیش فی کس آمدنی 1434 ڈالر ہے، آپ سوچیئے کہ 50 سال پہلے ہم نے جرمنی کو 12 کروڑ کا قرضہ دیا تھا، جبکہ آج جرمنی روزانہ کی بنیاد پر تقریباٰ 12 کروڑ کی پیپرز پن بناتا ہے، وہ خاک سے افلاک پر پہنچ گئے جبکہ ہم دعوے تو کرتے رہے مگر ترقی معکوس کی طرف زیادہ رجحان رہا، میں اس کی سب سے اہم وجہ جرمنی کے حکمرانوں کی سادگی کو قرار دوں گا، جرمنی میں بٹلرز اور سٹاف کی فوج ظفر موج نہیں ہوتی، جرمن چانسلر اپنے پیش رو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے لئے اور اپنے ملک میں آنے والے کسی ملک کے صدر یا وزیراعظم کو کافی خود بنا کر پیش کرتی ہے، پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کی قانون سازی کے لئے ڈکٹیٹ نہیں کیا جاتا، قومیں رویے کی تبدیلی اور حکمرانوں کی سادگی سے معاشی طور پر طاقتور جرمنی بن جاتی ہیں اور حکمران اگر شاہ خرچیوں کو وطیرہ بنا لیں اور سرکاری خزانے کو امانت کی بجائے صوابدیدی اختیار سمجھ کر بے دریغ لٹانے لگ جائیں تو قائد کا پاکستان IMF اور ورلڈ بینک کا مقروض ہو کر رہ جاتا ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Khaak Se Aflaq Tak Column By Sahibzadah Shams Munir Gondal, the column was published on 16 February 2020. Sahibzadah Shams Munir Gondal has written 8 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sahibzadah Shams Munir Gondal on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.