ڈکٹروں کو ان کے جائز مطالبات پورے کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی ، وزیراعلیٰ بلوچستان

ڈاکٹر اندرون بلوچستان ڈیوٹی دینے کو تیار نہیں، سرکاری ہسپتالوں میں پوری طرح ڈیوٹی ادا نہیں کرتے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی گئی ،اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کوئٹہ شہر میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف چھاپے مارے جارہے ہیں،غیر قانونی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی،صوبائی وزیر صحت

جمعرات اپریل 23:38

ڈکٹروں کو ان کے جائز مطالبات پورے کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی ، وزیراعلیٰ ..
،ْکوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آدھے گھنٹے کی تاخیر سے جمعرات کی شام سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں نیشنل پارٹی کی ڈاکٹر شمع اسحاق نے توجہ دلائو نوٹس دیتے ہوئے وزیر صحت سے استفسار کیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ کوئٹہ شہر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار ہے جو ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے عوام اور معصوم لوگوں کو بے وقوف بنا کر لوٹ رہے ہیں اور ان کی قیمتی جانوں سے کھیل رہے ہیں اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو حکومت اس کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔

صوبائی وزیر صحت عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف چھاپے مارے جارہے ہیں غیر قانونی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ہماری کوشش ہے کہ عوام کو ان عطائی ڈاکٹروں سے نجات دلائیں کیونکہ اکثر اوقات ان ڈاکٹروں کی وجہ سے کئی مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اس پر محکمہ صحت بھرپور توجہ دے اور عطائی ڈاکٹروںکے خلاف جہاں تک ممکن ہوسکے کارروائی کی جائے پشتونخوا میپ کے ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی صحت کے شعبے کے حوالے سے بہت پسماندہ ہے اور جو توجہ دلائو نوٹس ایوان میں آیا ہے وقت مقر ر کریں اور بھی بہت سارے محرکات ہیں ان کو بھی سامنے لایا جائے اراکین اسمبلی نے توجہ دلائو نوٹس کو اہمیت کا حامل قرار دیا عطائی ڈاکٹروں سے متعلق توجہ دلائو نوٹس وزیر صحت کی یقین دہانی کے بعد نمٹادیاگیا ۔

(جاری ہے)

قائد حزب اختلاف عبدالرحیم زیارتوال نے اپنی توجہ دلائو نوٹس میں کہاکہ 13مارچ2018ء کو ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کی ہڑتال سے متعلق میں نے تحریک التواء پیش کی تھی جس پر حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ ہم یہ مسئلہ حل کریں گے اور اسمبلی کمیٹی نے سول ہسپتال میں ان کے مسائل حل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا مورخہ10اپریل2018ء کو ایک مرتبہ پھر اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پوائنٹ آف آرڈر پر یہ مسئلہ اٹھایا اور حکومت نے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور ساتھ ہی ایک کمیٹی تشکیل دی کمیٹی نے سول ہسپتال میں مذاکرات کئے اور مسئلے کے حل کا اعلان کیا لیکن مسئلہ اب تک جوں کا توں ہے حکومت نے ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں ۔

عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کا مسئلہ دو مہینے گزرنے کے بعد بھی جوں کا توں ہے اس ہڑتال سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمین سے ڈسپلن کے مطابق نوکری لے سرکاری مشینری سے کام لینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ سرکاری ملازمین پبلک سرونٹ کی حیثیت سے عوام کے خادم ہیں اگر وہ تنخواہ بھی لیتے ہیں اور حکمرانی کا شوق بھی رکھتے ہیں تو یہ دونوں شوق بیک وقت پورے نہیں ہوسکتے ۔

وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ گزشتہ دنوں صوبائی وزراء و اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی نے ملاقات کی اور پھر اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے سول ہسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا اور دورے کے موقع پر چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے ملاقات کی اور ہڑتال ختم کرنے کے احکامات دیئے جس کے بعد سیکرٹری صحت ان کے جائز مطالبات پر سمری بنائی اور سمری کو چیف سیکرٹری کے پاس بھیجی سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے کہا کہ گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ملاقات کی چیف جسٹس کے احکامات اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی ینگ ڈاکٹرز سے بات چیت کے بعد کیا صورتحال بنی جس پر وزیر صحت نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ان کے جائز مطالبات حل کریں ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ڈاکٹروں کو ان کے جائز مطالبات پورے کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی کوئی ڈاکٹر اندرون بلوچستان ڈیوٹی دینے کو تیار نہیں ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں پوری طرح ڈیوٹی ادا نہیں کرتے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی گئی ڈاکٹروں کا جو مسئلہ ہے یہ آج کا نہیں بلکہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اور سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے دور سے چلتا آرہا ہے غیر ترقیاتی بجٹ زیادہ ہے اور فنانس مزید اس کو برداشت نہیں کرسکتا حالات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ان کے تمام جائز مطالبات کو حل کریں اور جو سب سے بڑا مطالبہ ہے رسک الائونس کا اس پر بھی پچاس کروڑ روپے کا اضافہ بوجھ آئے گا مگر ڈاکٹروں کی حالت یہ ہے کہ کوئی بھی ڈیوٹی دینے کو تیار نہیں میں کئی بار رات کو سول ہسپتال کا دورہ کیا ڈاکٹرز موجود نہیں ہوتے اگر موجود ہیں تو وہ ڈیوٹی نہیں دیتے انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو بھی اعلان کیا ہے اس پر عملدرآمد کیا جارہا ہے مگر ایوان کی جانب سے جو کمیٹی ان کے پاس گئی تھی اس کے باوجود وہ ہڑتال پر بیٹھے رہے سمری تیار ہے اس پر کام جاری ہے جو ہمارے بس میں ہوسکے ڈاکٹروں کے ساتھ کررہے ہیں ۔

اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ایک زمانے میں ہم ایک کشتی کے سواری تھے ہڑتال پہلے بھی ہوئی تھی ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام حالات کے باوجود ڈاکٹرز ڈیوٹی دیں ہم نے پچھلے اجلاس میں جو مطالبہ کیا تھا کہ ڈاکٹروں نے اوپی ڈیز بند کی ہیں او پی ڈیز کو بحال کرنے کے لئے حکومت ایسی حکمت عملی بنائے کہ عوام کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ ہو وزیر زراعت شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئی بھی لیڈی ڈاکٹر اندرون بلوچستان تعینات نہیں ڈاکٹروں کے لئے صوبائی حکومت نے ڈیڑھ ارب روپے کا اضافی بجٹ دے رہی ہے یہ اب برداشت نہیں کریں گے کہ جو بھی ہڑتال کرے اس کے مطالبات تسلیم کریں پہلے بھی میں نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ڈاکٹروں کو مراعات نہ دی جائیں ہر کسی کے ہر مطالبے کی حمایت تو نہیں کرسکتے جو ہڑتال کرے گا اس کے خلاف اب سخت ایکشن لیا جائے اور اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے اگر ڈاکٹرصحیح کام کریں تو ٹھیک ورنہ یہ ٹھیک نہیں کہ جو بھی مطالبہ کریں حکومت اسے تسلیم کرے اب جو بھی مطالبہ کرے اسے جیل میں ڈالا جائے مراعات کے باوجود ہڑتال سمجھ سے بالا تر ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اب سرکاری ملازمین جو ہڑتال کرے گا اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔

نیشنل پارٹی کی ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا کہ احتجاج کرنا عوام کا حق ہے اور اس سے کوئی بھی اختلاف نہیں رکھ سکتا۔ سابق وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ صحت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل شعبہ ہی2013ء کے بعد ڈاکٹروں کے ساتھ بہت کچھ کیا مگر اس کے باوجود دوسرے اضلاع میں ڈاکٹرز ڈیوٹی کے لئے تیار نہیں ضلع موسیٰ خیل جانے والے ڈاکٹرز کو ڈیڑھ لاکھ روپے اضافی دے رہا تھا مگر پھر بھی وہ ڈیوٹی نہیں دے رہے تھے جب ڈپٹی کمشنر ز نے مانیٹرنگ شروع کی تو ہسپتالوں کی حالت بہتر ہوئی انہوں نے کہا کہ دس ارب روپے محکمہ صحت کے شعبے پر خرچ ہوئے جن میں7ارب روپے غیر ترقیاتی بجٹ ہے اورصرف تین ارب روپے ادویات اورمشینری کی مد میں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سفارشی کلچر کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔بعد میں تحریک التواء کو مثبت حکومتی یقین دہانی پر نمٹادیا گیا ۔اجلاس میں توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کے دوران جے یوآئی کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے پرنسپل گرلز کالج کی ہڑتال کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ سول سوسائٹی اور وزیر تعلیم بھی مذکورہ پرنسپل کے پاس گئے اورانہیں گاڑی بھی دے دی حالانکہ اسے اس سے پہلے مسلسل کئی بار نوٹسز جاری ہوئے تھے ٹرانسفر پوسٹنگ سروس کا حصہ ہوتی ہے قانون کے مطابق ان سے گھر خالی کرایا گیا اس پر احتجاج نہیں کرنا چاہئے مگر سوشل میڈیا پر اس احتجاج کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا جس پر جے یوآئی ہی کی رکن شاہد ہ رئوف نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سردار کھیتران اس پرنسپل کا ساتھ دے رہے ہیں جن کا تعلق ان کے اپنے قبیلے سے ہے انہوںنے احتجاجاً اجلاس سے واک آئوٹ کیااس موقع پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ میں نے جس پرنسپل کی حمایت کی وہ یقینی طو رپر کھیتران ہے اور مجھے اس پر فخر ہے کہ وہ میرے قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے پر انکوائری کرائیں بعدازاں سپیکر نے خواتین ارکان کو واک آئوٹ کرنے والی رکن کو منانے کے لئے بھیجا تاہم وہ اجلاس میں نہیں آئیں یاسمین لہڑی نے ایوان کو بتایا کہ شاہدہ رئوف کا موقف ہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران کے ادا کئے گئے الفاظ سے انہیں تکلیف پہنچی ہے ان کے معذر ت کرنے تک وہ ایوان میں نہیں آئیں گی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی جس پر میں کوئی معذرت نہیں کروں گا سپیکر نے رولنگ دی کہ وہ دونوں معزز اراکین کو اس مسئلے پر اپنے چیمبر میں بلائیں گی۔

اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب مال مویشی پائے جاتے ہیں،ْ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برطانوی دور حکومت میں1901ء میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق ضلع موسیٰ خیل کی لائیوسٹاک کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار تھے جن میں نایاب قسم کے سفید اونٹ بھی شامل تھے جو نہ صرف اچھی قسم کا گوشت بلکہ اعلیٰ قسم کا دودھ بھی دیتے تھے اب ان مال مویشیوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے ضلع موسیٰ خیل کو مال مویشیوں کے حوالے سے صوبہ بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے اس لئے صوبائی حکومت ضلع موسیٰ خیل کو حیوانات کا مرکز قرار دینے کے سلسلے میں عملی اقدامات اٹھائے ۔

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ہمارے صوبے کی معیشت میں لائیو سٹاک کا اہم کردار ہے اور مون سون کے علاقوں میں گلہ بانی زیادہ اہم ہے دوسری جانب موسیٰ خیل میں سالانہ 21انچ اوسطاً بارش ہوتی ہے ماضی میں موسیٰ خیل کو بھی وفاقی دارالحکومت بنانے کی تجویز تھی تاہم اسلام آباد میں دارالحکومت بنانے کافیصلہ ہوا موسیٰ خیل کے آس پاس شیرانی ، موسیٰ خیل ، بارکھان کوہ سلیمان کے علاقے میں واقع ہیں ان اضلاع میں مویشیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ گلہ بانی کے حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں موسیٰ خیل میں جانوروں کا گوشت دنیا کا بہترین گوشت سمجھا جاتا ہے موسیٰ خیل کو گلہ بانی کے مرکز کے حوالے سے ترقی دی جائے کیونکہ یہاں دنیا کے نایاب اونٹ موجود ہیں۔

نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ترامیم کرتے ہوئے موسیٰ خیل سمیت صوبے کے تمام اضلاع کو شامل کرتے ہوئے صوبہ بھر میں سروے کرایا جائے کہ جہاں جہاں نایاب جانور پائے جاتے ہیں وہاں ان کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں جانوروں کے علاج معالجے کے لئے مراکز قائم کئے جائیں اور مالداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک سید آغا رضا نے حکومت کی جانب سے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے لائیو سٹاک کا 48فیصد صرف بلوچستان میں ہے یہاں سے ہمسایہ ممالک بھی جانور لیجائے جاتے ہیں اس کے باوجود گزشتہ دس سال کے دوران بلوچستان میں مختلف جانوروں کی تعداد میں پانچ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے میں ژوب اور موسیٰ خیل کے سواء اب تک پورے صوبے کا دورہ کرچکا ہوں اور اس حوالے سے ایک جامع پالیسی بنارہے ہیں ارکان اپنی تجاویز دیں ہم انہیں بھی شامل کریں گے۔

جدید ریسرچ سینٹر قائم کئے جائیں گے ۔ اس موقع پر عبدالرحیم زیارتوال نے ایوان کو بتایا کہ 2017ء کی مردم شماری کے بعد موسیٰ خیل میں22لاکھ 54ہزار 193جانور موجود ہیں ۔ اس موقع پر سپیکر نے عبدالرحیم زیارتوال کی وضاحت اور رحمت بلوچ کی ترامیم کے ساتھ قرار دادکو منظوری کے لئے ایوان کے سامنے رکھا جس کی ایوان نے متفقہ طو رپر منظوری دے دی ۔ اجلاس میں پشتونخوا میپ کے آغا سید لیاقت نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل کا شمار صوبے کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے جہاںپلوسہ ، شنہ اور زیتون کے جنگلات کثرت سے پائے جاتے ہیں وہاں کے عوام کا ذریعہ معاش زمینداری او رمالداری پر منحصر ہے ضلع مون سون کے رینج میں واقع ہے جہاں سب سے زیادہ اوسطاً سالانہ بارشیں 21انچ تک ہوتی ہیں لیکن وہاں رسل ورسائل کے لئے کوئی خاص سڑک تاحال تعمیر نہیں کی گئی اب این70کنگری تا موسیٰ خیل اور موسیٰ خیل تا سنگر این50لورالائی تا ڈیرہ غازیخان اور ژوب تا ڈیرہ اسماعیل خان روڈ ضلع موسیٰ خیل میں ترسیل کا اہم ترین ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ ان روڈز کے سروے اور فزیبلٹی رپورٹ پر بھی کام ہوچکا ہے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ کنگری تا سنگر جو دو اہم شاہراہوں کو ملانے کا ذریعے بنے گی کی منظوری کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے قرار دادکی موزونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خیل ایک ایسا ضلع ہے جس پر قدرت مہربان ہے بلوچستان میں سب سے زیادہ مون سون کی بارشیں موسیٰ خیل میں ہوتی ہیں یہاں پر وسیع و عریض رقبے پر پلوسہ ، شنے اور زیتون کے جنگلات موجود ہیں لیکن آمدورفت کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے ان جنگلات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا اگر زیتون کی پیکنگ کرنے کی سہولت اور انہیں منڈیوں تک پہنچانے کی سہولت موجود ہو تو اس سے روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوسکتے ہیں جس سے بے روزگاری پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے کیونکہ علاقے میں زیتون کے جو جنگلات ہیں اتنے وسیع اراضی پر اسپین میں بھی نہیں ہیں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ موسیٰ خیل سے آگے کنگری سے سنگر تک دو مختلف راستے پنجاب اور خیبرپشتونخوا جاتے ہیں ایک جانب ڈیرہ غازیخان اور دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان کو سڑکیں جاتی ہیں یہ نہایت اہم شاہراہ ہے جبکہ اسی علاقے میں لائیو سٹاک اور جنگلات کے انتہائی اہم علاقے موجود ہیں لیکن سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے عوام کا منڈیوں تک پہنچنا بہت مشکل ہے دوسری جانب زیتون کی جو نسل موجود ہے اس کی پیوند کاری کی ضرورت ہے جس کے بعد ہم زیتون کو ایکسپورٹ بھی کرسکتے ہیں انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کو صوبائی پی ایس ڈی پی میں شامل کرے اگر صوبائی حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں تو اسے فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل کرایا جائے صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سرفراز بگٹی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 24اپریل کو وفاقی پی ایس ڈی پی کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس ہورہا ہے جس میں میں رکن کی حیثیت سے شرکت کروں گا لہٰذا اس قرار داد کو منظور کرنے کے بعد مجھے 24تاریخ سے قبل یہ قرار داد دی جائے اسے فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ بروز اتوارعیسیٰ نگری سبزل روڈ کوئٹہ میں دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک تین زخمی ہوئے ۔جو کہ ایک انسانیت سو واقعہ ہے دنیا کا کوئی بھی مذہب نہتے لوگوں خو مارنے اور ہلاک کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس افسوسناک واقعے سے چند روز قبل بھی مسیحی برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا صرف ایک مہینے کے دوران اب تک چھ بے گناہ افراد مارے جاچکے ہیں مسیحی برادری پر مسلسل کئے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا مقصد ایک منظم سازش کے تحت صوبے کے پرامن ماحول کو خراب کرنا ہے دہشت گردوں کی جانب سے ملکی سالمیت کے خلاف ایک خوف کا ماحول پیدا کیا گیا ہے اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر اس اہم نوعیت کے مسئلے کو زیر غور لایا جائے ۔

تحریک التواء کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے ولیم جان برکت نے کہا کہ پچھلے پانچ ماہ کے دوران مسیحی برادری 13افراد ہلاک67زخمی ہوئے یہ لمحہ فکریہ ہے انہوں نے کہاکہ دسمبر2017ء میں عبادت گاہ پر حملہ ہوا اور اب یہ جو حالیہ واقعات ہیں یہ عام آبادیوں میں ہوئے یہ تشویشناک بات ہے اقلیتیں خصوصاً مسیحی برادری شہر میں مکس آبادیوں میں رہ رہی ہے اگراس حوالے سے ابھی سے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو ہمیں خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ بڑھ جائے گا اس لئے اس حوالے سے اداروں کے ساتھ مل کر پالیسی وضع کی جائے اور یہ ایوان اس حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کرے جو کوئٹہ کے ہرشہری کے لئے فائدہ مند ہو گا۔

پشتونخوا میپ کے آغا سید لیاقت نے کہا کہ تحریک التواء اہمیت کی حامل ہے مسیحی برادری کی ٹارگٹ کلنگ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے کوئٹہ کے بعد پشین میں بھی مسیحی برادری کے افراد میں خوف کا ماحول ہے انہوںنے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور نسل نہیں ہے وہ صرف حالات خراب کرنے کے لئے کبھی کسی کمیونٹی کو نشانہ بناتی ہے توکبھی کسی اور کمیونٹی کو ٹارگٹ کرتی ہے ۔

نیشنل پارٹی کے رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ہم بلوچستان عوامی کی جانب سے انسانیت دشمن واقعات کی مذمت کرتے ہیں ہم یکجہتی اور برادرانہ ماحول چاہتے ہیں ہم ایک ہیں انسانیت پر یقین رکھتے ہیں ایک مہینے کے دوران مسیحی برادری کے چھ لوگ مارے گئے یہ ایک کمیونٹی پر نہیں بلکہ ریاست پر حملہ ہے انہوںنے کہا کہ امن کے لئے فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیںجائیں گی حکومت ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے اراکین کو ان کیمرہ بریفنگ دے ۔

صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امورمیر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحریک التواء کی حمایت کرتے ہیں تمام اراکین واقعات کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن مثبت تجاویز بھی دیں کہ حالات کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے 60ہزار لوگوں نے قربانیاں دی ہیں ہر قوم قبیلے اور مذہب کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں انہوں نے کہا کہ فورسز کو مضبوط کیا جائے علمائے اور پارلیمنٹرین اس معاملے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں اس پر بات کی جائے مذہبی اور دہشت گرد تنظیمیں کارروائیاں کرتی ہیں اپوزیشن ہمیں سپورٹ کرے ایک دن مقرر کیا جائے ہم ان کیمرہ بریفنگ دیں گے ۔

بعض اراکین70ء اور80ء کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں ماضی میںجو ہوا غلط ہوا ہے اب یہ لڑائی پارلیمنٹ سے لڑی جائے گی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے جرگے تشکیل دیئے جائیں ہزارہ کمیونٹی کے بعد مسیحی برادری کو تھریٹ ہے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کے خلاف اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے حکومت کے ساتھ اپوزیشن ہر تعاون کے لئے تیار ہے ۔

بعدازا ں سپیکر نے ایوان کی مشاورت سے تحریک التواء کو بحث کے لئے منظ.ر کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مذکورہ تحریک التواء پر بحث کی رولنگ دی ۔اجلاس میں جے یوآئی کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ گزشتہ دنوں نصیرآباد میں ایک پولیس اہلکار نے ایک لڑکی کو چار دن تک حبس بے جا میں رکھا اور ان کے ساتھ جو کیا وہ سب جانتے ہیں اب کیس کو مختلف طریقوں سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچستان کی رویات ان چیزوں کی اجازت نہیں دیتیںدوسرا واقعہ گزشتہ دنوں سول ہسپتال کوئٹہ میں پیش آیا جہاں بارکھان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بچے کے ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اس پر پولیس کی جانب سے تشدد کی گئی مگر جو رپورٹ آئی اس کے مطابق اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا گیا تھا ۔

اجلاس میں وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نصیرآباد واقعے پر پولیس تفتیش کررہی ہے اس گھنائونی حرکت میں جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ پینل آف چیئر مین کی رکن یاسمین لہڑی نے کہا کہ پولیس ایک مقدس فورس ہے مگر جو لوگ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہوں گے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ نصیرآباد کیس کو کرائم برانچ کے حوالے کیا جائے وزیر داخلہ نے کہا کہ جب دوسرا فریق تفتیش سے مطمئن نہ ہو تو پھر فریق کی درخواست پر کرائم برانچ کے حوالے کیا جائے ۔

چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کہا کہ متاثرہ خاندان نے درخواست دی ہے کہ کیس کو کرائم برانچ کے حوالے کیا جائے ۔اجلاس میں وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں بیورو کریسی کی عدم شرکت پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بیورو کریسی ایوان کو غیر سنجیدگی سے لیتی ہے بار بار سپیکر کی رولنگ کے باوجود بھی کوئی افسر یہاں نہیں آتا اس پر اورکوئی احتجاج کرے یا نہ کرے لیکن میں ایوان سے ٹوکن واک آئوٹ کرتا ہوں جس کے بعد وہ ایوان سے واک آئوٹ کرکے چلے گئے اور ان کے ساتھ بعض دیگر اراکین نے بھی واک آئوٹ کیا ۔

چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کہا کہ بیوروکریسی کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے سپیکر آفس سے بار بار سرکاری افسران کو اجلاسوں میں شرکت کے لئے مراسلے بھیجے گئے ہیں اسمبلی سیکرٹریٹ سے بھی انہیں یاد دہانی کرائی گئی مگر اس کے باوجود بیوروکریٹس کا اجلاسوں میں نہ آنا باعث افسوس ہے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ بیورو کریسی ایوان کو اہمیت دے اور اپنے آپ کو حاکم نہ بلکہ عوام کا خادم سمجھے جب خادم حاکم بن جائے تو خرابیاں ہوں گی ۔

ایوان کے تقدس کو تسلیم کیا جائے اگر ایوان کے تقدس کو تسلیم کیا جائے تو اس سے مشکلات کا خاتمہ ہوگا ۔۔ڈاکٹر حامد خان اچکزئی اور لیاقت آغا نے کہا کہ جب وزیراعلیٰ ایوان میں دلچسپی نہیں لیتے تو کوئی بھی نہیں بیٹھے گا وزیراعلیٰ دس منٹ کے لئے آتے ہیں تو بیورو کریسی پھر کبھی بھی ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی انہوںنے کہا کہ سپیکر بھی بے بس ہے بیورو کریسی ایوان کی بات نہیں مانتی اس موقع پر میر سرفراز بگٹی کو اراکین منا کر واپس ایوان میں لے آئے ۔

ایوان میں واپسی پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قانو ن کے تحت میرے پاس ایسے اختیارات نہیں کہ بیورو کریسی کو اجلاسوں میں آنے کا پابند بنا سکوں یہ اختیار سپیکر کے پاس ہے کہ وہ رولنگ دیں اگر کوئی افسر اس کے باوجود بھی یہاں نہ آئے تو پھر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کہا کہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس حوالے سے ارکان تحریک لائیں تاکہ اس پر کوئی کارروائی کی جائے ڈاکٹر حامدخان اچکزئی نے چیئر پرسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسٹوڈین آف دی ہائوس ہیں بیورو کریسی کے خلاف کارروائی کریں یا پھر بے بسی کا اظہار کریں چیئر پرسن نے کہا کہ میں بے بس نہیں قانون کے تحت اختیارات استعمال کروں گا اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ایوان میں موجود تمام ارکان کی رائے ہے کہ چیئر پرسن جو کسٹوڈین آف ہائوس ہیں اس حوالے سے رولنگ دیں ایوان کی عزت کرانا آپ کی ذمہ داری ہے لہٰذا آپ رولنگ دے کر افسران کو طلب کریں اور غیر حاضر افسران سے جواب طلبی کریں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم یہاں،ْ بیٹھے ہیں اجلاس ملتوی کرتے ہوئے افسران کو طلب کیا جائے اگر وہ آدھے گھنٹے میں آتے ہیں تو ٹھیک اور نہیں آتے تو طے کیا جائے کہ ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی جس پر چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کہا کہ یہ مسئلہ نہایت سنجیدہ ہے اور اس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے انہوںنے تمام سیکرٹریز کو آدھے گھنٹے کے اندر ایوان میں حاضر ہونے کی رولنگ دیتے ہوئے اجلاس نصف گھنٹے کے لئے ملتوی کردیا ۔

بعدازاں اجلاس شروع ہوا توچیئر پرسن یاسمین لہڑی نے اسمبلی اجلاسوں میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز کی عدم شرکت پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں اس اہم نکتے کو اراکین کی جانب سے اٹھایا گیا یہ انتہائی اہم نکتہ ہے جو اس معزز ایوان کے تقدس ، وقار اور عزت و احترام سے متعلق ہے یہاں اس ایوان میں مختلف نوعیت کے عوامی مسائل زیر بحث آتے ہیں اس لئے افسران اپنی شرکت کو یقینی بنائیں جس طرح صوبائی وزراء اور حکومتی اراکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اجلاسوں میں آئیں اسی طرح تمام محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس ایوان کو اہمیت دیں اور اجلاسوں میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں مگر افسوسناک طو رپر یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ اکثر و بیشتر آفیشل گیلری خالی رہتی ہے یہ اچھا شگون نہیں اس سے کوئی اچھا پیغام نہیں جارہا ضروری ہے کہ تمام سیکرٹری اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور اگر اگر وہ کسی وجہ سے نہیں آسکتے تو ایڈیشنل سیکرٹری کو بھیجیں یا محکمے کی جانب سے کسی اور افسرکو اجلاس میں بھیجیں ۔

قائد حزب اختلاف عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ہم عوامی نمائندوں کی حیثیت سے یہاں اس ایوان میں بیٹھے ہیں مگر یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ سیکرٹریز ایوان میں موجودگی کو یقینی نہیں بناتے اب بھی بمشکل چار پانچ یا چھ سیکرٹریز ہی آئے ہیں یہ اچھا شگون نہیں ہم تو درگزر کرجائیں گے لیکن ایک بات ضروری کہوں گا کہ دنیا میں جن لوگوں نے عوامی نمائندوں کو بے توقیر سمجھا وہ نہ تو خود آگے گئے نہ ملک عوام اور صوبے کے لئے انہوں نے کچھ کیا ہماری کسی سے کوئی عداوت نہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہاں اجلاسوں کے دوران جن عوامی مسائل کی یہاں نشاندہی ہوتی ہے سیکرٹری صاحب اسے نوٹ کرتے ہوئے عملدرآمد یقینی بنائے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیںعوامی نمائندوں کا جو مقام و مرتبہ اور جو اہمیت ہے وہ ملنی چاہئے یہ بات آئین کے تمہید میں لکھی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ادارے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں ادارے کی حیثیت سے میں اپنے اختیارات سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹوں گا اور کسی دوسرے ادار ے کے اختیارات بھی نہیں ہم نہیں چھینیں گے انتظامیہ ، مقننہ اور انتظامیہ سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں بعدازاں چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے اس حوالے سے اپنی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹریز اسمبلی اجلاسوں میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں اور اس رولنگ کو دوبارہ تمام متعلقہ محکموں کو بھیجا جائے انہوں نے اپنی رولنگ میں کہا کہ شازیہ کیس پولیس سے لے کر کرائم برانچ کے حوالے کردیا جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے ۔

اجلاس میں نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ نے بلوچستان یونیورسٹی کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں طلباء سے وائس چانسلر کا رویہ درست نہیں یونیورسٹی کی فیسوںمیں کمی کا فیصلہ ایوان نے کیا اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی کی آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو طلباء کی جانب سے احتجاج کا خدشہ ہے اس موقع پر وائس چانسلر کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زمین پر بیٹھنے کا اعلان کیا تاہم میر سرفراز بگٹی نے انہیں منالیا اس موقع پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں مستقبل کے معماروں کی تربیت ہورہی ہے وہاں کسی کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گے انہوںنے تجویز دی کہ اس مسئلے پر ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو اپنی رپورٹ ایوان میں دے ۔

اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ یہ مسئلہ پرانا ہے جب طلباء نے ہڑتال کی تو ہم نے انہیں یہاں بلایا اور فیسیں پورے ملک میں سب سے کم کردی تھیں یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے اب وہاں سمسٹر سسٹم رائج ہے اگر فیسیں زیادہ لی جارہی ہیں تو ٹھیک کررہے ہیں کچھ طلباء کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی اسے حکومت واپس لے سکتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ یونیورسٹی ایک خودمختار ادارہ ہے اور گورنر اس کے چانسلر ہیں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے اختیارات کہاں تک ہیں ان کے مطابق چلنا ہوگاجس پر رحمت بلوچ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر وائس چانسلر کی حمایت نہ کریں آڈٹ رپورٹ موجود ہے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ یونیورسٹی صوبائی حکومت کے دائرے میں نہیں بلکہ گورنر کے اختیار میں ہے تاہم اگر قانون اجازت دے تو ایک کمیٹی بنا کر صورتحال کو دیکھا جائے سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ منتخب ایوان ہے جس میں ہر عوامی مسئلے پر بات ہوسکتی ہے تین صوبوں میں یونیورسٹیاں صوبائی حکومتوں کے اختیار میں آچکی ہیں ہمارے ہاں بھی اس سلسلے میں کام ہورہا ہے تاہم انہوںنے بھی کمیٹی کی تجویز سے اتفاق کیا اس موقع پر چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کہا کہ چونکہ تعلیم سے متعلق پہلے ہی ایک قائمہ کمیٹی موجود ہے اس میں سرفراز بگٹی ، رحمت بلوچ اور نصراللہ زیرئے کو شامل کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر صوبے کی تمام یونیورسٹیوں سے متعلق رپورٹ اس ایوان میں پیش کرے ۔

اجلاس میں پشتونخوا میپ کے ولیم جان برکت نے کہا کہ طب کے شعبے میں نرسنگ سٹاف کے کردار سے انکار ممکن نہیں تین صوبوں میں انہیں نرسنگ ٹیچنگ الائونس اور ہائی رسک الائونس مل رہا ہے بلوچستان میں بھی دیا جائے سردار عبدالرحمان کھیتران نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبائی خزانے پر سالانہ صرف بارہ کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا ۔۔ڈاکٹر حامدخان اچکزئی نے بھی اس کی حمایت کی صوبائی وزیر سرفراز بگٹی نے یقین دہانی کرائی کہ وزیراعلیٰ سے بات کرکے مسئلے کو حل کرائیں گے ۔

اجلاس میں نصراللہ زیرئے نے محکمہ جنگلات میں حالیہ بھرتیوں کا نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل آسامیاں مشتہر ہوئی تھیں ٹیسٹ و انٹرویو ہوئے مگر الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود گزشتہ روز جن افراد کی تقرریاں عمل میں لائی گئیں انہوں نے ٹیسٹ و انٹرویو میں حصہ تک نہیں لیا تھا ۔ صوبائی وزیر جنگلات سید آغا رضا نے کہا کہ یہ آسامیاں 2016ء میں مشتہر ہوئی تھیں جن پر2017ء میں ٹیسٹ و انٹرویو ز ہوئے اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں یہ تمام ٹیسٹ و انٹرویوز یکم اپریل سے قبل ہوئے تھے اس لئے ان پر تقرریاں عمل میں لائی گئیں باقی تمام مراحل روک دیئے گئے اس موقع پر نصراللہ زیرئے نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ملازمتوں میں پسند و ناپسند کو ترجیح دی گئی ہے اس موقع پر صوبائی وزیر اور نصراللہ زیرئے دونوں بیک وقت بولتے رہے بعدازاں چیئر پرسن نے اجلاس ہفتے کی سہ پہر تک ملتوی کرنے کی رولنگ دے دی ۔