میری رائے کے مطابق قومی حکومت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے،میاں شہباز شریف

پانی کا بحران سنگین ہورہا ہے ، کالا باغ ڈیم پر بحث وقت کا ضیاع ہے ، بھاشا ڈیم اور دیگر چھوٹے ڈیموں کی شدید ضرورت ہے ،صدر مسلم لیگ(ن) پرامن انتخابات کے انعقاد میں کوئی ابہام نہیں، کشکول توڑنے کے لیے قوم کو مزید فیصلے کرنا ہوں گے،وفود سے ملاقات اور سینئر صحافیوں سے بات چیت

منگل جون 18:37

میری رائے کے مطابق قومی حکومت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے،میاں شہباز شریف
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ میری رائے کے مطابق قومی حکومت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے۔ ہم آئندہ الیکشن میں جیتے تو پھر بھی قومی حکومت بنائیں گے اور اگر کسی اور نے حکومت بنائی تو اس کے ساتھ تعاون کریں گے ۔ کالا باغ ڈیم پر بحث وقت کا ضیاع ہے ۔ بھاشا ڈیم اور دیگر چھوٹے ڈیموں کی شدید ضرورت ہے ۔

پانی کا بحران سنگین صورت حال اختیار کر رہا ہے ۔ بھارت سے معاشی جنگ لڑنا ہو گی ۔ کشکول توڑنے کے لیے قوم کو مزید فیصلے کرنا ہوں گے ۔ آئندہ پرامن انتخابات کے انعقاد میں کوئی ابہام نہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری انداز میں انتقال اقتدار ہو ۔ کراچی کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے ۔ اگر نیب اور دیگر اداروں کی کارروائیاں شفاف نہیں ہوں گی تو انگلیاں اٹھیںگی۔

(جاری ہے)

بچت والے پراجیکٹ میں اگر نیب بلاتی ہے تو ہم پیش ہونگے۔ کراچی میں گرین لائن منصوبہ پر پیسے فراہم کردیے لیکن بسیں نہیں چلیں کیونکہ کچھ مفاد پرست ان ممالک میں جاکر میٹھائی مانگنے چلے گئے، شہر مین بس سروس کا کام بھی مٹھائی نہ ملنے کے سبب سابق حکومت نہ لاسکی مگر یہ بھی مسئلے کا حل نہیں، جب یہ رویے ہونگے تو کیسے کام ہونگے۔ پورٹ اور تجارت کے ساتھ روشنیوں کے شہر کا حال دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، کراچی میں بجلی کمی ہے اور کے الیکٹرک کے دو منصوبے بند ہیں کیوں نہیں چلاتا ، بہت تلخ حقائق ہیں۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے، کراچی سے اس لیے الیکشن لڑرہا ہوں کہ یہ پاکستان کا دل ہے، پہلے کراچی میں بھتا خوری اور ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی، ہماری حکومت نے کراچی کا امن بحال کیا، رینجرز اور پولیس کی خدمات کا اعتراف بھی ضروری ہے، دہشت گردی کا قوم اورفوج نے بڑی جان فشانی سے مقابلہ کیا۔ سالڈ ویسٹ کی وجہ سے کراچی کا ماحول تبدیل ہوگیا ہے، شہر کراچی کے 2 کروڑ کی آبادی کے ساتھ زیادتی ہے۔

یہاں پبلک ٹرانسپورٹ اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے عام آدمی بحران میں مبتلا ہے، کراچی میں کم از کم 10 میٹرو لائن ہونی چاہئیے تھیں، ہم آئندہ کراچی میں 3 اورنج میٹرو لائنز لائیں گے۔ نواز شریف اور مریم نواز قانون کی حکمرانی کے لیے عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ۔ قانون کے مطابق شریف فیملی ان مقدمات کا سامنا کرے گی ۔ ہم گھبرانے والے نہیں ۔ آئندہ الیکشن اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے ۔

کرپٹ اور دھرنا عناصر سے ووٹ کی طاقت سے مقابلہ کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کے رہنما کھیل داس کوہستانی کی صدار ت میں ملاقات کے لیے آنے والے وفد ، این اے 249 کے کارکنان ، خواتین بزنس کمیونٹی ، پروفیشنلز اور ینگ پروفیشنلز کے وفد ، کاروباری افراد سے تعلق رکھنے والے وفد اور سینئر صحافیوں اور دیگر سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستان ہم سب کا ہے ۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ہمیں مل کر جدوجہد کرنا ہو گی ۔ تمام مذاہب انسانیت کا پیغام دیتے ہیں ۔ پاکستان کا آئین تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق ہے ۔ قائد اعظم نے اقلیتوں کے حقوق کی ذمہ داری لی تھی ۔ جو آج بھی قائم ہے ۔ سکھوں ، ہندووں ، مسیحی برادری ، پارسی سمیت تمام اقلیتوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے مسلم لیگ (ن) بھرپور کردار ادا کرے گی ۔

اقلیتوں کے وفد سے ملاقات میں شہباز شریف نے گفتگو کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے کیا ۔ ملاقات میں ہندووں رہنماؤں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ہندو کو وزیر بنایا ۔ میاں نواز شریف نے ہندو مذہب کے تہوار میں شرکت کرکے مذہبی رواداری کی بنیادی رکھی ۔ سکھ رہنما نے کہا کہ سکھوں کی فلاح و بہبود کے لیے شہباز شریف کی قابل قدر خدمات ہیں ۔

سکھوں کی جانب سے میاں شہباز شریف کو سروپا اور گولڈن ٹمپل کا تحفہ پیش کیا گیا ۔ اقلیتی برادری کے وفد نے بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لیے دعا کی ۔ خواتین بزنس پروفیشنلز اور ینگ پروفیشنلز کے وفد نے بھی شہباز شریف سے ملاقات کی ۔ وفد نے کہا کہ کراچی کا امن بحال کرنے پر کاروباری طبقہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا شکر گزار ہے ۔ شہباز شریف نے کہا کہ ملک کی ترقی میں خواتین کا بھی بہت اہم کردار ہے ۔

بزنس کمیونٹی کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں کاروبار کی ترقی کے لیے امن قائم کیا ۔ بجلی کا مسئلہ حل کیا ۔ امن کے قیام کے لیے ہمارے جوانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔ ان قربانیوں کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ بھاشا ڈیم ہماری پہلی ترجیح ہو گی ۔ بھاشا ڈیم پاکستان کے لیے ناگزیر ہے ۔ بھاشا ڈیم کا کوئی نعم البدل نہیں ۔

کالا باغ ڈیم پر اتفاق نہیں ۔ اس لیے اس پر کوئی بات نہیں ہونی چاہئے ۔ ملک کی قیمت پر کالا باغ ڈیم قبول نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم کے لیے وسائل خود لائیں گے ۔ مزید بجلی کے منصوبے لگائیں گے ۔ برآمدات میں اضافے کے بغیر ترقی ممکن نہیں ۔ ملک میں کاروبار کی ترقی کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کریں گے ۔ گرین پاسپورٹ کی عزت کے لیے کشکول توڑنا ہو گا ۔

معیشت کو ترقی دینا ہو گی ۔ سینئر صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے 10 ہزار میگاواٹ کی سستی بجلی کے منصوبے لگائے ۔ شفاف انتخابات کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں ۔ اگر ہمیں ملک کی خدمت کا موقع ملا تو قومی حکومت بنائیں گے ۔ قومی حکومت ہی ملک کے مسائل حل کر سکتی ہے ۔ اگر ہماری حکومت نہ بنی تو جس کی بھی حکومت بنی تو اس سے تعاون کریں گے ۔

قومی حکومت میری ذاتی رائے ہے ، مسلم لیگ (ن) کی نہیں ۔ ہمیں ہندوستان سے معاشی جنگ کرنی ہے ۔ اس معاشی جنگ کے لیے تیاری کرنا ہو گی ۔ کشکول توڑنے کے لیے قوم کو سخت فیصلے کرنا ہو ں گے ۔ پانی کا بحران سنگین مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ کالا باغ ڈیم پر مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا ۔ این ایف سی ایوارڈ کو بدلنا ممکن نہیں ۔

ٹیکس چوری روکنا ہو گی ۔ ٹیکس ریکوری بہتر کرنا ہو گی ۔ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کرنا ہوں گی ۔ الٹے ہوں گے ، سیدھے ہوں گے ، بھاشا ڈیم بنائیں گے ۔ آزادی صحافت کے بغیر معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ میں آزادی صحافت پر یقین رکھتا ہوں ۔ خراب کام پر پکڑ اور اچھے کام کی پذیرائی ہونی چاہئے ۔ اگر ہمیں موقع ملا اور اکثریت ملی تو اپنی قومی حکومت بنائیں گے ۔

مجھے کوئی ابہام نہیں کہ انتخابات شفاف ہوں گے اور انتقال اقتدار ہو گا ۔ میری خواہش ہے کہ کراچی کی ترقی ہو ۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشرہ نہیں چل سکتا ۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز قانون کی حکمرانی کے لیے نیب کورٹ میں پیش ہوتے ہیں ۔ جب میں نے بجلی کے منصوبے اپنے وسائل سے لگانے کی بات کی تو میری اپنی جماعت میں مخالفت ہوئی ۔ کوئی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ یہ منصوبے ہم لگا سکتے ہیں ۔

آج وہ سب پلانٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور لوڈشیڈنگ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ہم نے سستے بجلی کے منصوبے لگا کر قوم کی خدمت کی ہے۔ ہم نے گڈو پاور پلانٹ سے آدھی قیمت پر بجلی کے منصوبے لگائے ہیں ۔ ہم نے نیک نیتی اور محنت سے کام کیا ۔ اس لیے اللہ نے ہم پر اپنا کرم کیا ۔ ان بجلی کے منصوبوں کی وجہ سے شدید گرمی اور رمضان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کم تھی ۔

ہم آج بھی اپنے وسائل سے ترقی کر سکتے ہیں ۔ پاکستان کو غربت اور بجلی کے مسائل سے نکالا جا سکتا ہے ۔ کراچی میں تین میٹرو منصوبے بنائیں گے ۔ سندھ کے بجٹ میں کراچی کے حصے کے علاوہ کراچی کا وفاقی بجٹ میں بھی حصہ رکھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر نیب اور دیگر اداروں کی کارروائیاں شفاف نہیں ہوں گی تو انگلیاں اٹھیںگی۔بچت والے پراجیکٹ میں اگر نیب بلاتی ہے تو ہم پیش ہونگے۔

شہباز شریف نے کہا گرین لائن منصوبہ پر پیسے فراہم کردیے لیکن بسیں نہیں چلیں کیونکہ کچھ مفاد پرست ان ممالک میں جاکر میٹھائی مانگنے چلے گئے، شہر مین بس سروس کا کام بھی مٹھائی نہ ملنے کے سبب سابق حکومت نہ لاسکی مگر یہ بھی مسئلے کا حل نہیں، جب یہ رویے ہونگے تو کیسے کام ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ اور تجارت کے ساتھ روشنیوں کے شہر کا حال دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، کراچی میں بجلی کمی ہے اور کے الیکٹرک کے دو منصوبے بند ہیں کیوں نہیں چلاتا ، بہت تلخ حقائق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو بھارت سے مقابل لانے کے لیئے ٹیکسٹائل اور اسٹیل ملز سے نہیں معاشی مقابل بنانا پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے، کراچی سے اس لیے الیکشن لڑرہا ہوں کہ یہ پاکستان کا دل ہے، پہلے کراچی میں بھتا خوری اور ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی، ہماری حکومت نے کراچی کا امن بحال کیا، رینجرز اور پولیس کی خدمات کا اعتراف بھی ضروری ہے، دہشت گردی کا قوم اورفوج نے بڑی جان فشانی سے مقابلہ کیا۔

سالڈ ویسٹ کی وجہ سے کراچی کا ماحول تبدیل ہوگیا ہے، شہر کراچی کے 2 کروڑ کی آبادی کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے عام آدمی بحران میں مبتلا ہے، کراچی میں کم از کم 10 میٹرو لائن ہونی چاہئیے تھیں، ہم آئندہ کراچی میں 3 اورنج میٹرو لائنز لائیں گے۔ ترقی کی کنجی تعلیمی ادارے ہیں اگر ہم کراچی سے الیکشن جیت گئے تو منتخب ہونے کے بعد تعلیمی اداروں کا جال بچھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی کا 60 فیصد 16 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، پاکستان کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں جنہیں طاقتور بنانا ہے، اسٹیٹ بینک کو پابند بنائیں گے کہ وہ نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کریں، ملک میں سب سے بڑا چیلنج پانی کی قلت ہے الیکشن جیت کر آبی قلت پر قابو پائیں گے۔ ملک میں چھوٹے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے، کالا باغ ڈیم پر بحث کرنا وقت کے ضیاع کے مترادف ہے، پانچ سال میں بھاشا ڈیم کا 70 فیصد کام ہوسکتا ہے، ہم نے اگر بھارت پر انحصار کیا توہم تباہ ہوجائیں گے، اب ہمیں ڈیمز بنانے ہیں ہمیں موقع ملا تو اولین ترجیح بھاشا ڈیم بنانا ہوگی ۔۔بھاشا ڈیم سے سندھ کی ضرورت پورا کریں گے۔