Live Updates

وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو دورہ پاکستان کی باقاعدہ دعوت دے دی

ڈونلڈ ٹرمپ نے بنا کسی اعتراض کے دورہ پاکستان کی دعوت فوری قبول کر لی، دورے سے متعلق معاملات بعد میں طے کیے جائیں گے

muhammad ali محمد علی منگل جولائی 01:02

وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو دورہ پاکستان کی باقاعدہ دعوت دے ..
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 جولائی 2019ء) وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو دورہ پاکستان کی باقاعدہ دعوت دے دی، ڈونلڈ ٹرمپ نے بنا کسی اعتراض کے دورہ پاکستان کی دعوت فوری قبول کر لی، دورے سے متعلق معاملات بعد میں طے کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے جو انہوں نے فوری قبول کر لی ہے۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں، دعوے ملنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی اعتراض کا اظہار نہیں کیا اور فوری پاکستان کا دورہ کرنے کی حامی بھر لی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی کہا تھا کہ انہیں آج تک کسی نے پاکستان کے دورے کی دعوت نہیں دی، تاہم اگر انہیں دعوت ملتی ہے، تو وہ ضرور پاکستان کا دورہ کرنا پسند کریں گے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ پیر کے روز امریکی صدارتی محل وائٹ ہاوس میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں۔ امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔

 اس معاملے میں پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے۔ پاکستان امریکا کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے، پاکستان افغان عمل آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ افغان مسئلے کے حل کیلئے معاونت فراہم کرنے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جو امداد بند کر دی تھی وہ بھی بحال ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امداد اس لیے بند کی تھی کہ وہ امریکا کی مدد نہیں کر رہا تھا، یہ بات عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے کی ہے۔

افغان کی جنگ چاہتے تو ایک ہفتے میں جیت سکتے تھے، تاہم وزیراعظم عمران خان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ پاکستان افغانستان میں لاکھوں لوگوں کے قتل عام کو روک سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان جنگ کا بات چیت کے ذریعے خاتمہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اس دوران امریکی صدر سے کہا کہ امریکا پاکستان کیلئے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مجموعی تعلقات مزید بہتر ہوں، اور تجارتی تعلقات بھی فروغ پائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امداد کے حصول کی بجائے امریکا کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکا بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ اسٹیٹ تھا۔

اکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی۔ افغان تنازع کا حل صرف طالبان سے امن معاہدہ ہے۔ امید ہے ہم آنے والے دنوں میں طالبان پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دینے کے قابل ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے موقع پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھی ثالثی کی پیش کش کی۔

ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے اس لیے مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے۔

ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کا دورہ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ تاحال انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت نہیں دی گئی، تاہم اگر وزیراعظم عمران خان دعوت دیں، تو وہ ضرور پاکستان کا دورہ کریں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر سے ملاقات کیلئے وائٹ ہاؤس پہنچے۔

وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیااور مصافحہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر مین مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ون آن ون ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کے درمیان وفود کی سطح پر نشست بھی ہوئی۔

ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے۔

دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ملاقاتوں کے دوران بڑے بریک تھرو کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اس دورے کے دوران امریکا پاکستان کو آزادانہ تجارتی معاہدے کی پیش کش بھی کر سکتا ہے۔
کرونا کی امریکہ پر یلغار سے متعلق تازہ ترین معلومات