Live Updates

عزم استحکام آپریشن سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے‘علی امین گنڈاپور

پیر 24 جون 2024 22:27

عزم استحکام آپریشن سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے‘علی ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 جون2024ء) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پورنے کہا ہے کہ عزم استحکام آپریشن سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے سب سے پہلے ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے اور9مئی کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے سابق چیئرمین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ ہماری کے پی میں حکومت ہے عمران خان سے ملاقات ہوئی اپیکس کمیٹی میں پالیسی بتائی گئی اپیکس کمیٹی میں کسی بھی قسم کے آپریشن کا ذکر نہیں تھا امن و امان کے حوالے سے بات ہوئی اور انعامات دینے کی بات کی گئی جس کو عزم استحکام پاکستان کا نام دیا گیا ہماری حکومت میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہم نے سی ٹی ڈی سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو مضبوط کیاانہوں نے کہاکہ عمران خان افغانستان گئے اور بات چیت کی گئی ہماری حکومت میں جنرل فیض3 سال تک افغانستان سے انگیج رہے لیکن جنرل باجوہ نے جنرل فیض کو ہٹا دیا جنرل باجوہ کہتے تھے جنرل فیض بہترین آرمی چیف بن سکتا ہے انہوں نے کہا کہ باجوہ کا امریکہ یا نواز شریف کے ساتھ پلان تھا کہ جنرل فیض کو ہٹا دیا جائے اس کو ہٹا دیا گیا اور پھر پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگ گئے، آئی ایس پی آر کی پالیسی کے بعد بات کروں گا آپریشن ہوگا یا نہیں عوام کو صوبوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ہم نے جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے بلاول نے پوری دنیا کا چکر لگایا افغانستان نہیں گیا ان کو پاکستان اور فوج کی پرواہ نہیں ہے کوئی پلان بنا کر افغانستان جاتے اب بات چیت نہ کرکے مسئلہ بڑھتا جارہا ہے حالانکہ بات چیت ہونی چاہئے، افغانستان سے بات چیت کرنی ہے تو ہم آگے بڑھ سکتے ہیں پہلے کچھ ہوا کیا کسی نے ڈالا کسی اور پر باجوہ نے ایک پارٹی کو ختم کرنے کے لئے ملک کا نقصان کیا ہم نے معاشی مسائل سے لڑنا ہے ہمارے لوگ شہید ہوئے ہم دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں ہم امن چاہتے ہیں سابق چیئرمین نے ہمیشہ مذاکرات کے لئے کہا ہے کوئی بھی مذاکرات نہیں ہوئے اداروں کے ساتھ یا وفاقی حکومت کے ساتھ بات نہیں کی ٹرزم اینڈ کنڈیشن مذاکرات پر ہی طے ہوں گی انہوں نے کہا سب سے پہلے ہمارامینڈیٹ واپس کیا جائے کیونکہ ہر طرف ووٹ چوری ہوا9 مئی کے واقعہ پر کمیشن بنایا جائے آپریشن کی کوئی شفافیت نہیں ہے میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں میری جو بھی ملاقات ہو وہ ایک پروگرام میں ہوئی ہے آئینی طور پر گورنر کا صوبے میں کوئی کام نہیں ہے میرے اوپر الزامات لگائے گے اب ہتک عزت کے لئے تیار رہے سیاسی سسٹم میں میرا مینڈیٹ چوری کیا گیا میری پارٹی کا نشان لیا گیا ووٹ چوری کیا گیا مراد راس کو فارغ کردیا 9 مئی کی جو ساری چیزیں ہونا عمران خان پاکستان کے لئے بیٹھنے کو تیار ہیں کمشنر نے انتخابات پر اعتراضات اٹھائے اس کو پاگل کہہ دیا گیا ہم بجلی بنانے والا صوبے ہیں جو لائن لاسز ہورہے ہیں اس کی وجہ کوئی اور ہے ان سے ڈیل ہوئی یہ بیان سے ہٹ گے میں نے بجلی بند کردی 2200 ارب آپ آئی پی پیز کو دے رہے ہیں میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا 1510 ارب روپے جو دینا ہے وہ دے نہیں رہے ایک مہینے میں 1 ارب روپے کی ریکوری کی ہے ہم حقوق لینا چاہتے ہیں جب تک آئی ایس پی آر کلیئر نہیں کرے گی کس سائز میں آپریشن ہونا ہے ہمارا عوامی بجٹ ہے ٹیکس فری بجٹ ہے ہم تعلیم کی طرف جارہے ہیں ہم 1 لاکھ لوگوں کو روزگار دیں گے 20 ارب سے 50 ارب روپے اپنا ریونیو جمع کریں گے ہم 25 فیصد ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں گے میری ملاقات محسن نقوی سے نہیں وزیر داخلہ سے ہوتی ہے۔

Live پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق تازہ ترین معلومات