×اقوام متحدہ کمزور ہوگئی تو عالمی امن خطرے میں پڑ جائے گا،ڈنمارک خارجہ پالیسی کے سربراہ کی سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو

؁ ڈنمارک امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ کرسچن فری ایس باک سے ملاقات‘مذہبی کتابوں و شخصیات کی توہین پر سزا کے قانون پر اظہار تشکر ۹پاکستان جاکر ہمیشہ خوشی محسوس ہوتی ہے،سچن باک نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے اپنی خوش گوار ملاقاتوں کا ذکر کیا

ہفتہ 30 اگست 2025 18:25

pکوپن ہیگن/ ڈنمارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 اگست2025ء)اقوام متحدہ جیسے اداروں کا کمزور اور غیرموثر ہوجانا عالمی امن کے لئے نیک شگون نہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کو اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ یوکرین روس جنگ کے تناظر میں یورپی ممالک اپنی سلامتی کے لئے دفاعی بجٹ میں اضافہ کررہے ہیں۔ پاکستان کو بھی سلامتی کے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے دفاع کے لئے ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈینش لبرل پارٹی کے سینئر لیڈر، سابق وزیر اور ڈنمارک اسمبلی کی خارجہ پالیسی قائمہ کمیٹی کے سربراہ کرسچئن فری ایس باک (Christian Friis Bach) نے پاکستان کی سینٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چئیرمین سینیٹر عرفان صدیقی سے ملاقات کے دوران کیا جو آج کل ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کے پانچ روزہ دورے پر ہیں۔

(جاری ہے)

سینیٹر عرفان صدیقی نے کرسچن فری ایس باک سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان 75 سال سے زائد عرصے پر محیط دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان بننے کے اگلے ہی سال 1948 میں ڈنمارک پاکستان کو تسلیم کرنے والے اولیں ممالک کی صف میں آ گیا تھا۔ سات دہائیوں کے دوران باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون نے پائیدار دوستی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ آج بھی ادویہ سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نقل وحمل اور زرعی مصنوعات کے شعبوں میں پچاس سے زائد ڈینش کمپنیاں پاکستان میں کام کررہی ہیں۔

ہم مزید کمپنیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں اور اپنی پسند کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ کرسچن باک نے کہاکہ ہم پاکستان کی دوستانہ سرمایہ کاری سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ اپنی صلاحیت کھورہا ہے جس پر دنیا کو تشویش ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں مل کر اس عالمی ادارے کو مضبوط بنانے کی کوششیں کرنا ہوں گی۔

مسٹر باک نے مزید کہا کہ یوکرین پر روسی حملے نے یورپ کو خطرات میں مبتلا کردیا ہے جس سے ہمیں اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ بھارت کے جارحہ عزائم کی وجہ سے ہمیں بھی اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے۔ بھارت نے پہلگام واقعے کا بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے پاکستان پر حملہ کردیا۔ ہمیں بھی اپنے دفاع میں جوابی اقدام کرنا پڑا۔

ہم خطے میں ہی نہیں پوری دنیا میں امن کے خواہش مند ہیں۔ کرسچن باک نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے اپنی خوش گوار ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان جاکر ہمیشہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے ڈینش خارجہ پالیسی کے چئیرمین کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں خود کو رجسٹر کرالینے والے افغان باشندے امن وسکون سے رہ رہے ہیں اور تمام پاکستانی شہریوں کی طرح زندگی کے مختلف شعبوں میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔

صرف ان لوگوں کو واپسی کے لئے کہا جارہا ہے جن کا پاکستان میں سرے سے کوئی ریکارڈ نہیں۔ ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے جو نوے ہزار انسانوں کا خون پی چکی ہے اور ہمیں اس بیماری کے خاتمے کے لئے ہر طرح کی کاروائی کرنا پڑ رہی ہے۔ کرسچن باک نے تسلیم کیا کہ بیرونی خطرات کے باعث پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط بنانے کا حق حاصل ہے۔ عرفان صدیقی نے مذہبی کتابوں اور علامتوں کی توہین کرنے والوں کو جرمانے اور تین سال قید کا قانون بنانے پر ڈنمارک کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اپنے ہم منصب کو کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ دریں اثنا سینیٹر عرفان صدیقی نے ڈنمارک سپریم کورٹ کے پاکستانی نژاد جج مسٹر جسٹس محمد احسن سے ملاقات کی جو ڈنمارک کی عدالتی تاریخ میں پہلے پاکستانی جج ہیں جنہیں سپریم کورٹ کا جج منتخب کیاگیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے جسٹس محمد احسن کو یہ بلند عدالتی منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی اور اسے پاکستان کا اعزاز قرار دیا۔ جسٹس احسن نے سینیٹر عرفان صدیقی کو ڈنمارک کے عدالتی نظام پر تفصیلی بریفنگ دی اور سپریم کورٹ کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا۔