ی*تاریخی جلسہ گاہ موچی دروازہ کو ختم کرنے کا منصوبہ واپس لیا جائی: امتیاز رشید قریشی

:موچی دروازہ وہ مقدس سیاسی زمین ہے جہاں قائداعظم، علامہ اقبال، جواہر لال نہرو، ذوالفقار علی بھٹونے تاریخی خطابات کئے ,یہاں بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور شہباز شریف جیسے عظیم رہنماؤں نے عوام کو ظلم، آمریت اور غلامی کیخلاف کھڑے ہونے کا درس دیا ؒموچی دروازہ کو پارکنگ میں بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ حکمران اپنی نااہلی چھپانے کے لئے قوم کے شعور پر بلڈوزر چلا رہے ہیں ,یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ قومی تاریخ کے قتل کی کھلی سازش ہے، پی ڈی پی، عدلیہ بچاؤ کمیٹی کا پریس کانفرنس میں اعلان

ہفتہ 14 فروری 2026 19:55

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 فروری2026ء) پاکستان جمہوری پارٹی (پی ڈی پی)، عدلیہ بچاؤ کمیٹی اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے لاہور ہائی کورٹ بار کے جناح لاؤنج میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اگر لاہور کے تاریخی جلسہ گاہ موچی دروازہ کو ختم کرنے کا منصوبہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو پورے ملک میں ایسی عوامی اور انقلابی تحریک چلائی جائے گی جو ایوانِ اقتدار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی۔

اس مشترکہ پریس کانفرنس سے پی ڈی پی کے سربراہ امتیاز رشید قریشی، پی ڈی پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید وقار حسین شاہ جنگی، ایم سی بی ایمپلائز ٹریڈ یونین کے صدر ملک احتشام الحسن، سول سوسائٹی کے رہنما ڈاکٹر شاہد نصیر، پی ڈی پی پنجاب کے صدر شہباز رشید قریشی ایڈووکیٹ، چوہدری محمد اسلم گوندل ایڈووکیٹ، جنید احمد پراچہ ایڈووکیٹ، چوہدری محمد افضل ایڈووکیٹ، سید خالد گیلانی ایڈووکیٹ، شمائلہ منظور ایڈووکیٹ، مریم چوہان ایڈووکیٹ سمیت دیگر سیاسی، سماجی اور قانونی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

پی ڈی پی کے سربراہ امتیاز رشید قریشی نے کہا کہ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ قومی تاریخ کے قتل کی کھلی سازش ہے۔ موچی دروازہ کو پارکنگ میں بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ حکمران اپنی نااہلی چھپانے کے لئے قوم کے شعور پر بلڈوزر چلا رہے ہیں۔ ہم یہ جرم کسی صورت ہونے نہیں دیں گے، چاہے اس کے لئے ہمیں سڑکوں سے عدالتوں اور عدالتوں سے جیلوں تک جانا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ موچی دروازہ وہ مقدس سیاسی زمین ہے جہاںمحمد علی جناح، علامہ اقبال، جواہر لال نہرو، ابوالکلام آزاد، نوابزادہ نصر اللہ خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور شہباز شریف جیسے عظیم رہنماؤں نے عوام کو ظلم، آمریت اور غلامی کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیا۔ آج اسی زمین کو مٹانا ان تمام جدوجہدوں، قربانیوں اور تاریخی تحریکوں کی توہین ہے۔

امتیاز رشید قریشی نے مزید کہا کہ یہ حکومت نہ تاریخ کو سمجھتی ہے اور نہ عوام کی طاقت کو۔ اگر انہوں نے موچی دروازہ کو ہاتھ لگایا تو یہ آگ صرف لاہور تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے پاکستان میں پھیلے گی۔ ہم حکمرانوں کو بتا دیں گے کہ قومیں پارکنگ پلازوں سے نہیں بلکہ شعور، جدوجہد اور قربانی سے بنتی ہیں۔ مشترکہ اعلامیے میں اعلان کی کہا گیا کہ اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو لاہور سے اسلام آباد تک تاریخی لانگ مارچ کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں بھرپور قانونی جنگ لڑی جائے گی۔ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتالیں ہوں گی۔ طلبہ، وکلا، مزدور، اساتذہ اور سول سوسائٹی کو سڑکوں پر لا کر ایسا عوامی دباؤ پیدا کیا جائے گا کہ حکمرانوں کے لیے اقتدار کا ایک دن بھی مشکل ہو جائے گا۔ آخر میں مشترکہ اعلامیے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ موچی دروازہ ہماری سرخ لکیر ہے۔ یہ صرف ایک جگہ نہیں بلکہ ہماری قومی روح ہے۔ اگر حکمرانوں نے اس پر حملہ کیا تو اس کے بعد صرف احتجاج نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ گیر عوامی تحریک ہوگی جو تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی۔ ہم موچی دروازہ بچائیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں ہر قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑی