سید عاصم منیر نے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور عالمی امن کے لیے ان کا کردار تاریخ ساز ہے،علماء کرام
عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کی ریڈ لائن ہے،مولانا قاضی محمود الحسن اشرف،مولانا قاری رفیق احمد،مولانا احمد علی سراج فلسطین،کشمیراور انڈیامیں بہنے والے خون پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی خاموشی افسوسناک ہے۔مولانا پیر مظہر سعید شاہ امیر جے یو آئی،مولانا مفتی اختر امیر سواد اعظم اہلسنت والجماعت،مولانا قا ضی منظور الحسن آزاد کشمیر کے آمدہ انتخابات میں ووٹر لسٹوں میں مسلمان اور غیر مسلم کی الگ فہرست مقرر کی جائے۔مولانا عبد المالک صدیقی،مولانا محمد محمود،مولانا عادل خورشید،مولانا ممتاز قاسمی،مولانا محمد طیب و دیگرکا خطاب
جمعہ 24 اپریل 2026 14:25
(جاری ہے)
اے جے کے جے یوآئی اور سواد اعظم اہل سنت والجماع آزادکشمیرکے زیر اہتمام ریاست بھرمیں ہفتہ تحفظ ختم نبوتکی مناسبت سے مرکزی پروگرام جامعہ دار العلوم الاسلامیہ مظفراباد میں منعقد ہوا۔
قادیانی اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ریاست جموں وکشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے،تقسیم کا کوئی فارمولہ قبول نہیں کیاجائیگا، اقوام متحدہ قراردادوں پرعملدرآمدیقینی بنائے۔ا ن خیالات کا اظہار آل جموں کشمیر جے یو آئی و سواد اعظم اہلسنت والجماعت آزاد کشمیر کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ کانفرنس کی صدارت سپریم ھیڈ اے جے کے جے یوآئی مولانا قاضی محمودا لحسن اشرف نے کی۔ جبکہ مہمان خصوصی کے طورپر محرک ختم نبوت قائد جمعیت،امیر جمیعت علما اسلام مولانا پیر محمد مظہر سعید شاہ رکن قانون ساز اسمبلی،،جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل ختم نبوت مومنٹ مولانا احمد علی سراج، و انٹرنیشنل ختم نبوت مومنٹ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا قاری رفیق نے فکر انگیز خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض آل جموں کشمیر جمیعت علما اسلام کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد محمود نے انجام دیے جبکہ کانفرنس میں سواداعظم اہل سنت والجماعت کے ناظم اعلی مولانا قاضی منظورالحسن،مولانا ممتاز الحق قاسمی،مولانا طیب منظور،مولانا انعام الحق،مولانا عادل خورشید،مولانا منظور ڈار،مولانا مفتی عبید سمیت ریاست کے ممتاز علمائے کرام، وکلا،وقاضی صاحبان اور مختلف مکاتب فکر کے زعما نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے لیے دس لاکھ شہدائے کشمیرکوخراج عقید ت پیش کرتے ہوئے حکومت پاکستان، افواج پاکستان سے اور اقوام متحدہ سمیت تمام انصاف پسند قوتوں سے بھارتی ظلم اور جبر کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کامطالبہ کیاگیا۔اس موقع پر علما کرام نے کہا نبوت کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا اور تاجدار ختم نبوت سید المرسلین،رحم اللعلمین، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوگیا۔آپ ﷺ کو جہاں امام الانبیا ﷺبنایا وہاں خاتم الانبیا ﷺکا اعزاز آپﷺ کو عطا کیا گیا۔ختم نبوت کا عقیدہ پورے دین کی اساس ہے۔اسی عقیدے پر پورے دین کی حفاظت اور بقا ہے۔اگر عقیدہ ختم نبوت محفوظ ہے تو پورا دین محفوظ ہے۔اس وجہ سے جناب نبی کریم ﷺ اور سیدنا صدیق اکبرنے نبوت کے جھوٹے دعوے دارو ں کا تعاقب کیاا ور نبوت کے 23سالہ دور میں مختلف اسلامی غزوات میں کل 113جبکہ مسیلمہ کذاب کے مقابلہ میں 1200صحابہ کرام نے شہادت نوش کیا۔خود جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا " میرے بعد 30نبوت کے دعوے دار ہونگے جو سب کے سب دجال اور کذاب ہونگی"۔گزشتہ صدی کا سب سے بڑا دجال مرزا قادیانی ہے۔جس نے عالمی استعمار کی زیر سرپرستی نبوت کا دعوی کیا۔جس کے پیروکار کشمیر کو قادیانی ریاست بنانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ کشمیر کا مسئلہ پیچیدہ بنانے میں بھی قادیانیوں کا کردار بالکل واضح ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے عالم اسلام کے ممتاز محدث علامہ انور شاہ کاشمیری اور ان کے رفقا نے بہاولپور کی اسلامی ریاست کی اعلی عدالت میں قادیانیت کو اسلام اور مسلمانوں سے الگ کافرو مرتد قرار دینے کے لیے 1926 سے 1935تک مقدمہ بہاولپور حق و باطل کا عظیم معرکہ کے طور پر تاریخ میں پہچاناجانے لگا۔علاوہ ازیں علامہ اقبال مرحوم،حضرت مولانا پیر سید مہر علی شاہ،امیر شریعت حضرت مولاناسید عطا اللہ شاہ بخاری ،حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری،حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی،،مولانا مفتی محمود مرحوم،علامہ محمود احمد رضوی،علامہ شاہ احمد نورانی،حضرت مولانا عبد الستار نیازی،میر واعظ کشمیر مولانامحمد یوسف شاہ سمیت تمام مکاتب فکر کے علما کرام نے 1953 اور 1973کی تحریک ختم نبو ت میں اسمبلی کے اندر اور باھر بھر پور جدو جہد کی۔جس کے نتیجہ میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں پاکستان میں اور جناب مجاھد اول سردار محمد عبد القیوم خان کے دور میں آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو کافر اور مرتد قرار دیا ۔اس موقع پر درج ذیل قراردادیں پیش کی گئی۔ آزاد ریاست میں پہلے سے نافذ اسلامی قوانین و احکامات پر موئثر عملدرآمد و تحفظ۔ریاستی دستور کی روشنی میں اسلامی نظام کے نفاذ اور 1973سے لے کر 2025تک منظور شدہ قراردادوں نیز 2فروری 2018کو 12ویں آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان سے مماثل ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ،ناموس صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کو آزاد کشمیر میں بھی نافذ کرنے لیے اتفاق رائے سے مسودہ قانون کابینہ اور علما کرام کی مشاورت سے یکم فروری 2018کو جناب وزیر قانون نے پیش کی جسے 2فروری کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا۔جس میں مسلمان غیر مسلم کی تعریف کے ساتھ ساتھ صدر وزیر اعظم وزرا کرام کے لیے مسلمان ہونے اور ختم نبوت پر ایمان شامل تھا نیز آزاد ریاست جموں کشمیر میں مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کے الگ الگ اندراج کا بھی مطالبہ کیا تھا جس پر تا حنوز عملدرآمد نہیں کیا گیا نیز 28مارچ 2026کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں بھی آل جموں کشمیر جے یو آئی کی طرف سے مسلمان اور غیر مسلم ووٹرز کے لیے پاکستان کی طرح الگ الگ خانے بنانے اور تمام مسلمان ووٹرز سے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کی طرف سے منظور شدہ حلف ختم نبوت شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کی تمام دینی جماعتوں کی جانب سے تائید بھی کی گئی تھی لیکن تا حنوز اس پر عمل درآمد کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی عملی صورت سامنے نہیں آئی۔ہفتہ تحفظ ختم نبوت تمام دینی جماعتوں کی طرف سے آزاد کشمیر کے آمدہ انتخابات میں مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کا الگ الگ اندراج کا فیصلہ فوری طور پر کیا جائے۔۔اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ آزاد کشمیر،سواد اعظم اہلسنت والجماعت،آل جموں کشمیر جمیعت علما اسلام،انٹرنیشنل ختم نبوت مومنٹ کی طرف سے آپریشن بنیان مرصوص کی عظیم فتح کے بعد ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کو پہ در پہ کامیابیوں پر مبارک باد دیتے ہوئے ایک دینی مدرسہ سے تعلیم کا آغاز کرنے والے افواج پاکستان کے سربراہ حافظ سید عاصم منیر کو نوبل انعام کے لیے تجویز کرتا ہے اور جناب سید عاصم منیر کی قیادت میں مقبوضہ کشمیر کی عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے جلد از جلد رائے شماری کا مطالبہ کرتا ہے نیز خوارج،روافض سمیت افواج پاکستان اور ریاست پاکستان کے خلاف مختلف روپ میں جاری مکروہ سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتا ہے نیز پاکستان کی قومی املاک تعلیمی اداروں اور آرمی یونٹس میں حملہ کرنے والوں کے خلا ف آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کا مطالبہ کرتا ہے نیز پہلگام سمیت مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں بھارتی افواج کی سرپرستی میں وہاں کے مدارس،مساجد اور تعلیمی اداروں میں آتش زدگی کے واقعات اور نہت عوام پر ریاستی دہشتگردی کی بھی شدید مذمت کی جاتی ہے۔۔شریعت کورٹ کی بحالی کے لیے جلد ازجلد آئینی ترمیم پیش کرتے ہوئے سینئر ترین حاضر یا ریٹائرڈ ضلع قاضی صاحبان کو اہلیت ومیرٹ کی بنیاد پر ہائی کورٹ / شریعت کورٹ میں تعینات کیا جائے اور شریعت اپیل بینچ میں ماہر علوم شریعت وقانون شریعت کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔۔تحریک تحفظ ختم نبوت ﷺ کے بانی عالم اسلام میں خطہ کشمیر کو متعارف کروانے اور علامہ اقبال مرحوم کے بااعتماد عالم دین علامہ انور شاہ کاشمیری کی عظیم ترین خدمات کے پیش نظر آزادکشمیر یونیورسٹی میں خصوصی چیئر قائم کیا جائے اور یونیورسٹی کے نیلم کیمپس کو علامہ محمد انور شاہ کاشمیری کے نام سے منسوب کیا جائے۔۔دینی مدارس کے اقامتی طلبہ کے لیے مہنگائی کے تناسب سے کم از کم 100 روپے یومیہ مقرر کیا جائے۔ ۔تمام مکتب معلمین کے دیرینہ مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں سکیل B-6 دیا جائے۔ تمام پرائمری سکولز میں قرآن کریم،عربی واسلامیات کی تعلیم کو یقینی بناتے ہوئے تعلیم یافتہ حضرات کی تعیناتی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔تجوید القرآن ٹرسٹ کے معلمین کا اعزازیہ بیس ہزار روپے کیا جائے۔اور ٹرسٹ کے منظور شدہ اجلاس میں ٹرسٹ کے معلمین کے اضافے اور وظیفہ کے اضافے کے فیصلے پر پوری عمل درآمد کیا جائے اور ٹرسٹ کی آمد سے انتظامی اخراجات کم سے کم کیے جائے اور سیاسی بنیادو ں پر کسی جماعت کے یا کسی لیڈر کے گھر میں خدمات انجام دینے والوں کو ٹرسٹ کے فنڈز سے نوازنے سے قطعا اجتناب کیا جائے۔۔ تمام تحصیل ہا اور اضلاع میں تحصیل وضلع مفتی صاحبان کی آسامیاں تخلیق کرتے ہوئے محکمہ مذہبی امور کو بھی دیگر محکموں کے مساوی کیا جائے۔اور خالی آسامیوں پر سیاسی بنیادوں پر ایڈھاک تقرریوں کے بجائے اھلیت اور صلاحیت کی جانچ کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ سے جلد از جلد مقابلے کا امتحان منعقد کر کے اعلی صلاحیتوں کے حاملین مفتی صاحبان کی تقرری کا مطالبہ کرتا ہے۔۔2021 سے 2026تک تمام ترقیاتی رقومات اور کاموں کو پبلک کیا جائے کہ موقع پر کتنا کام ہوا ہے اور کتنا پیسہ ہڑپ کیا جا چکا ہے۔نیز زلزلہ 2005سے اب تک تمام ترقیاتی کاموں کو بھی پبلک کیا جائے اور خرد برد کرنے والے سیاستدانوں اور ان کے متعلقین پر آمدہ انتخابات میں شرکت پر پابندی لگا دی جائے۔نیز الیکشن کمیشن تمام ریاستی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک اور پالیسی اختیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے۔متعلقہ عنوان :
مزید کشمیر کی خبریں
-
آزاد کشمیر میں اتنے ہی صاف شفاف انتخابات ہونگے جتنے پاکستان کے رہے ہیں، بلاول بھٹو
-
بھارت میں مساجد اورمدارس کیخلاف بلڈوز کارروائیاں ،مسلم دنیا خاموش
-
جموںوکشمیر میں زلزلے کے جھٹکے،مرکز 185 کلومیٹر زیر زمین افغانستان کے ہندوکش علاقے میں تھا
-
راجوری میں’’پولیو فری پاکستان‘‘ پمفلٹ کی گردش، بھارتی حکام سے وضاحت طلب
-
کاکروچ جنتا پارٹی کانئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب احتجاج
-
بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کا پہلا غیر ملکی دورہ ،بھارت کے بجائے ملائیشیا اورچین کاانتخاب
-
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
-
آزاد کشمیر کا ٹیکسی ڈرائیور مانچسٹر کا لارڈ میئر بن گیا
-
سانگھڑمیں گھریلو تنازع پر بدبخت بیٹے نے باپ قتل کر دیا
-
مردان،کمرے کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر میاں بیوی جاں بحق
-
چیئرپرسن بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا بی آئی ایس پی تحصیل آفس پٹہکہ نصیرآباد کا دورہ
-
تامل ناڈوJ فیکٹری میںزور داردھماکہ ،23 مزدورہلاک
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.