اے این پی نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ، ارسلان خان

بدھ 29 اپریل 2026 21:25

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اپریل2026ء) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے صوبائی ترجمان ارسلان خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹی جس کی زندہ مثال بشیر احمد بلور کی شہادت ہے۔ ملک اور قوم پر اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے والی عوامی نیشنل پارٹی پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے اور کرپشن کا بازار گرم کرنے والے اور عوامی ووٹ کی توہین کرنے والے نہ بلد سیاستدان پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انفارمیشن کمیٹی کے ممبران سابق ایم پی اے صلاح الدین خان، صوبائی کیبنٹ کے جوائنٹ سیکرٹری حامد طوفان، صدر میٹرو پولیٹن پشاور ارباب راشد ثمین اور خاتون قانون دان ثناء گلزار کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور اطلاعات کے مشیر شفیع جان کی طرف سے عوامی نیشنل پارٹی پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات کے جواب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو دہشتگردی کی دلدل میں دھکیلنے والے اور عوامی مسائل سے منہ پھیرنے والے آج ایک ایسی جماعت پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں جسے دہشت گردوں نے ہمیشہ اپنے ٹارگٹ پر رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو وہ دور بھی یاد کرنا چاہیے کہ جب ان کے دور میں چرچز پر ، اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی پر حملے ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی وہ جماعت ہے جس نے دہشتگردی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی اور اے این پی کے دور حکومت میں جہاں بھی دہشت گردی ہوئی تو ہم نے اس کی مکمل مخالفت کی اور ہمارے وزراء بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین سروں پر کفن باندھ کر دہشت گردی کہ شکار ہونے والے مقام پر پہنچ جاتے تھے لیکن یہاں تو جو دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں انہیں تحریک انصاف والے اپنے افسز بلا کر دعا کراتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردوں کی سپورٹ سے ہی آگے بڑھی عمران خان نے طالبان لیڈروں سے دوستی نے بھائی ان کے دفاتر کھولنے کا اعلان کیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ ان چیزوں کا خمیازہ پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑے گا۔

اے این پی کے صوبائی ترجمان ارسلان خان نے کہا کہ پختون قوم کے خون پر کسی کو بھی سیاست کرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی حکومت ہے جس کے دور حکومت میں آج بھی ان کے وزیراعلی اور وزیر کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں میں کالعدم تنظیموں کو باقاعدگی سے بھتہ دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں ہی ڈرون حملے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے ایک ایم این اے نے جب مظاہرہ کیا تو تحریک انصاف کی حکومت نے ہی اپنے پارٹی ورکر پر سیدھا گولیاں چلائیں ۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ٹرک کی لائٹ کے پیچھے لگا دیا گیا ہے نہ ترقی ہے نہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے اور آئے روز تبدیل ہونے والے وزرائے اعلی مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ناکام لوگوں کو وسیم اکرم کے ساتھ کمپیئر کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹی سی مثال تو یہ ہے کہ کرک میں 84 کروڑ کی کرپشن کے لیے ایک ٹی ایم او گھنٹوں کے لیے چارسدہ سے قرت تبدیل کیا گیا اور جب کرپشن کی رقم نکالی گئی تو پھر اسے واپس اسی مقام پر لگا دیا گیا انہوں نے کہا کہ یہاں پر اسمبلیوں کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے صوبائی اسمبلی کا اجلاس اٹھا کر سٹیڈیم میں منعقد کیا گیا جس کا اپوزیشن نے مکمل بائیکاٹ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ارباب نیاز سٹیڈیم میں اسمبلی کے نام پر میدان لگایا گیا اور اپنے آپ کو پی ٹی آئی نے جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیا ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اپنے ایم پی ایز ایم این ایز اور ارکان اسمبلی کو سیاست کی الف ب سے واقف کریں اور آئندہ اے این پی پر الزامات لگانے سے پہلے سوچ لیا کریں کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بڑے سکینڈل منظر عام پر آئے ہیں کرپشن کے اور دہشتگردی عام ہو چکی ہے اور بےروزگاری اور عوام کو جینا محال ہو گیا ہے۔