آزاد جموں و کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی واضح اکثریت حاصل کرے گی،نیئربخاری

پیر 20 جولائی 2026 23:57

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 جولائی2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں خود شریک ہیں اور بھٹو ازم کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے سلسلے میں عوام کے درمیان موجود ہیں۔اپنے بیان میں نیئر حسین بخاری نے کہا کہ اگر آزاد جموں و کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی واضح اکثریت حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں پر وفاقی اور پنجاب حکومت کی مداخلت نہ ہوئی تو پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ عوامی قوت سے اقتدار ملا ہے۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی گفتگو سے گریز کیا جائے جس کا جواب ان کے لیے قابل برداشت نہ رہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اسے اپنی آئینی مدت کے پانچ سال مکمل کرنے ہیں۔

نیئر حسین بخاری نے خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیریوں کو کشمیری تسلیم نہیں کیا، اس لیے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر خواجہ آصف سے جواب طلب کریں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک زیرک سیاستدان ہیں اور شہدا کے ورثا کی دل آزاری کے بجائے ان کی عزت و توقیر کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے افسران اور جوان وطن کی سلامتی کے محافظ ہیں۔

نیئر حسین بخاری نے کہا کہ گزشتہ سال جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات پیش کیے تھے تو وفاقی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر، دو وفاقی وزرا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ "انگلی کے پیچھے سورج نہیں چھپایا جا سکتا"۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان زیادہ خفا ہوئے، اور اگر وہ بیان نہ دیتے تو احتجاج اتنا شدت اختیار نہ کرتا۔نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آئینی ترمیم کے ذریعے مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کے مطابق ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کی تشکیل اس معاملے کے پائیدار اور متفقہ حل کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔