کراچی کے شہری اب نعروں نہیں بلکہ احتساب اور نتائج چاہتے ہیں،ایم پی پی کراچی آرگنائزنگ کمیٹی

جمعہ 24 جولائی 2026 01:26

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ سیاسی بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے والے عناصر آج ملک کے دیگر حصوں میں جا کر ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے دعوے کر رہے ہیں، جو حقائق کے برعکس ہے۔

کراچی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سندھ میں تقریباً دو دہائیوں سے اقتدار رکھنے والی جماعت کے قائدین اگر واقعی عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے کراچی، حیدرآباد اور اندرون سندھ کے عوام کو جواب دینا ہوگا کہ پانی، صحت، تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ، سیوریج اور روزگار کے مسائل آج تک کیوں برقرار ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، ملکی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والا شہر ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی شہری ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، گٹر ابلنے، پانی کی قلت، تجاوزات، ٹریفک جام، کچرے کے ڈھیروں، غیر قانونی تعمیرات اور بدانتظامی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں شہری زندگی مشکلات سے دوچار ہے جبکہ عوامی نمائندے اور حکمران دعوؤں اور بیانات تک محدود نظر آتے ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اگر کراچی کے حالات کا حقیقی اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو بلاول ہاؤس سے نکل کر لانڈھی، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن، نیو کراچی، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، شاہ فیصل کالونی، لیاری، ملیر، گلستان جوہر، گلزار ہجری، اسکیم 33، کیماڑی اور دیگر علاقوں کا اچانک دورہ کریں۔ انہیں معلوم ہو جائے گا کہ عوام کس طرح بنیادی سہولیات کے لیے روزانہ جدوجہد کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ کراچی کے عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ بلدیاتی اداروں، ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات کے لیے مختص اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے اور ان اخراجات کے نتائج عوام کو کیوں نظر نہیں آتے۔ ایم پی پی نے مطالبہ کیا کہ کراچی اور سندھ کے ترقیاتی منصوبوں، بلدیاتی فنڈز اور شہری اداروں کی کارکردگی کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

ایم پی پی کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کے آئینی، مالی اور انتظامی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرے۔ کمیٹی کے مطابق آرٹیکل 140-A پر مکمل عملدرآمد اور بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات کی منتقلی ہی شہری مسائل کے مستقل حل کی بنیاد بن سکتی ہے۔اراکین نے کہا کہ کراچی کے عوام اب روایتی سیاسی نعروں، الزام تراشی اور نورا کشتی کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔

ملک کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں قومی مفاد، دیانتداری، احتساب، میرٹ اور عوامی خدمت کو ترجیح حاصل ہو۔ "پہلے ریاست، بعد میں سیاست" کا اصول ہی پاکستان کی ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔بیان میں سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کراچی کے عوام آج بھی ایسے قائدین کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے شہر میں امن، ترقی، سرمایہ کاری اور انتظامی بہتری کے لیے عملی کردار ادا کیا۔

کمیٹی کے مطابق موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ کراچی کو سیاسی مفادات کے بجائے قومی اور شہری مفاد کے تحت چلایا جائے۔آخر میں ایم پی پی کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی و صوبائی حکام اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ کراچی میں گورننس، احتساب، شہری ترقی، تجاوزات، لینڈ مافیا اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مؤثر اور بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں تاکہ شہر قائد کو دوبارہ روشنیوں، ترقی اور خوشحالی کا شہر بنایا جا سکے۔