جنرل اختر عبدالرحمن شہید کی 38ویںبرسی (آج )عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

جنرل اختر عبدالرحمن افغان جنگ کے معمار، سوویت سپر پاور کے زوال کی داستان کے اہم کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں جنرل اختر عبدالرحمن کی جنگی حکمت عملی نے افغانستان میں سوویت پیش قدمی کا راستہ روک دیا،بھارت کے خلاف تین جنگوں کے غازی تھے

اتوار 16 اگست 2026 19:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2026ء) جنرل اختر عبدالرحمن خان شہید کی38ویںبرسی آج ( پیر)17اگست کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جنرل اختر عبدالرحمن شہید(1924-88) پاکستان کی پوری تاریخ میں وہ واحد جنرل ہیں جنہوںنے بغیرکسی سیاسی عہدے کے صرف اور صرف اپنی فوجی قابلیت اور جنگی مہارت کے بل پر عالمی سطح پر دیومالائی شہرت حاصل کی۔

سوویت یونین کے خلاف جنگ افغانستان (1979 - 1988 ) میں ان کی محیر العقول فوجی کامیابی نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا بلکہ اس کے نتیجہ میں اس کے زیر نگیں پندرہ ریاستوں کو آزادی نصیب ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ کسی جنگ کے بعد دنیا میں اس طرح حریت فکر اور قومی آزادی کی لہر چل پڑی ہو۔

(جاری ہے)

سوویت یونین کے خلاف جنرل اختر عبدالرحمن شہید کے اس کامیاب جنگی آپریشن کی اسی سیاسی، عسکری اور سٹریٹجک اہمیت کی بنا پر عالمی عسکری اداروں میں آج اسے نوجوان فوجی افسروں کوٹیکسٹ بک ملٹری آپریشن کے طور پر پڑھایا اور سمجھایا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنرل اختر عبدالرحمن شہید کی زندگی حقیقتاًشروع ہی سے مصائب کا مقابلہ کرتے اور پیہم جدوجہدکرنے سے عبارت رہی ہے۔

ان کا خاندان پٹھان تھا اور ان کے آبائو اجداد افغانستان سے آئے تھے۔ ان کی پیدائش پشاور میں ہوئی اور یہی اپنی ماں کے زیرسایہ انہوںنے ہوش سنبھالا، چونکہ ابھی ان کی عمر صرف چار برس تھی کہ ان کے سر سے باپ کا مہربان سایہ اٹھ گیا تھا۔ وہ ماں باپ کے اکلوتے بیٹے تھے، باپ کی وفات کے بعد ماں کا واحد سہارا تھے، باوجود اس کی1946 میں ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد جب انہوںنے فوج میں کمیشن حاصل کا فیصلہ کیا تو بہادر ماں نے اپنے بیٹے کا بھرپور ساتھ دیا حالانکہ اس زمانہ میں یہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔

فوج میں بھرتی ہونے کا مطلب گھر سے مستقل دور، سمندر پار محاذوں پر جاکے لڑنا ہوتا تھا، جہاں زندگی کا چراغ ہر لحظہ موت کی آندھیوں کی زد میں رہتا تھا۔ نوجوان اختر عبدالرحمن کا یہ فیصلہ ان کی اس افتاد طبع کا عکاس بھی ہے کہ موت کا خوف ان کی سرشت ہی میں نہ تھا۔ جنرل اختر عبدالرحمن شہید کا شمار پاکستان کے ان فوجی افسروں میں ہوتا ہے، جنہوںنے قیام پاکستان کے بعد تینوں پاک بھارت جنگوںمیں بھرپور حصہ لیا جس میں ان کی کارکردگی بہت نمایاں رہی۔

1948 میں انہوںنے بطور لیفٹیننٹ پانڈو ٹیکری (آزاد کشمیر) کے محاذ پر آپریشن میں حصہ لیا۔ ایک ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس محاذ پر دو روز تک گھمسان کی جنگ ہوتی رہی، جس کے بعد ان کی یونٹ نے یہ فتح کر لی۔ دسمبر1964 میں وہ 24 فیلڈ رجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ ہو کر لاہور پہنچے، تو صرف چند ماہ بعد ستمبر 1965 میں ان کو بھارت کے خلاف ایک بار پھر جوہر دکھانے کا موقع ملا، بلکہ لاہور کے دفاع کیلئے برکی کے محاذ پر حملہ آور بھارتی فوج پر پہلی گولا میجر اختر عبدالرحمن کے حکم پر ہی چلایا گیا تھا۔

اس محاذ پر جب تک پاک فوج نے اپنی پوزیشن مستحکم نہیں کر لی، انہوںنے بھارتی پیش قدمی روکے رکھی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنرل اسلم بیگ نے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’1965 کی جنگ میں بھارتی فوج کے مکروہ عزائم خاک میں ملانے والے شہیدوں اور غازیوں نے عہد رفتہ کے مسلمان مجاہدوں کی یاد تازہ کر دی تھی اور ان میں اختر عبدالرحمن بھی شامل ہیں‘‘۔

1971 کی جنگ میں اختر عبدالرحمن نے بطور بریگیڈیر قصور سیکٹر کے محاذ پر داد شجاعت دی۔ یہاں نہ صرف بھارتی فوج کا انتہائی خطرناک حملہ پسپا کیا بلکہ اس جنگ میں یہ واحد محاذ تھا، جہاں پاک فوج نے بھارت کے کچھ علاقہ اور’’قصر ہند‘‘ نامی قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا۔1979 میں اختر عبدالرحمن شہید نے آئی ایس آئی کی کمان سنبھالی ، انہوںنے اسے بہترین خفیہ ایجنسی بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کر دیں۔

نئی اور بہترین افرادی قوت بھرتی کی۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر جفاکش جوان اور ذہین افسر اکٹھے کیے۔ ان کو ہر طرح کے وسائل فراہم کیے۔ ان کی بہترین ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی تربیت کی۔ یوں کچھ ہی عرصہ میں آئی ایس آئی کو پیشہ ورانہ لحاظ سے ایک زبردست فورس میں تبدیل کر دیا۔ اس دوران، بطور آئی ایس آئی چیف، انہوںنے اندرون ملک بعض انتہائی حساس معاملات کو بغیر کوئی تلخی پیدا کیے حل کر دیا۔

اسلام آباد میں مشتعل مظاہرین نے اس وقت امریکی ایمبیسی کو آگ لگا دی جب اس میں امریکی عملہ بھی موجود تھا تو جنرل اختر ہی نے اس ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی اور امریکیوں کو بحفاظت باہر نکالا ۔ دسمبر1979 میں سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہو گئیں، تو بطور آئی ایس آئی چیف جنرل اختر کی راے یہ تھی کہ سوویت یونین کو اگر افغانستان کے اندر ہی نہ روکا گیا، تو اس کا اگلا نشانہ پاکستان ہوگا۔

پاکستان کو افغانستان میں مسلح افغان مزاحمتی تحریک کو منظم کرکے روسی پیش قدمی کو بہر صورت روکنا ہو گا۔ ابتدائی طور پر کوئی یہ یقین کرنے کو تیار نہ تھا کہ جنرل اختر کی یہ حکمت عملی کامیاب ہو گی۔ امریکیوں کی بے یقینی کا تو یہ عالم تھا کہ انہوں نے اس سال اپنے بجٹ میں اس مد میں کوئی رقم مختص نہ کی تھی بلکہ ایک سال بعد بھی امریکی صدرکارٹر نے معمولی امداد کی پیشکش کی۔

بعد میں جب افغان تنظیموں کی مزاحمت زور پکڑنے لگی اور امریکہ کو جنرل اختر کی حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر آئی، تب انہوںنے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا شروع کردیا۔ کچھ عرصہ بعد جنرل اختر نے امریکہ کو روس کے خلاف سٹنگر میزائیل فراہم کرنے پر بھی آمادہ کر لیا۔ اس کے نتیجہ میں جنگ کا پانسہ فیصلہ کن طور پر افغان مجاہدین کے حق میں پلٹ دیا ۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ جنرل اختر، جب یہ سب کچھ کر رہے تھے، تو ان کے خاندان اور چند قریبی احباب کے سوا کوئی ان کے نام تک سے واقف نہ تھا۔

افغانستان میں اس جنگ کیلئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اس طرح اعتماد میں لیا کہ ملکی اور غیر ملکی پریس کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی۔ وہ آیت اللہ خمینی سے ملاقات کیلئے ان کے گھر پہنچ گئے۔تمام مسلم ملکوں سے ان کا قریبی رابطہ تھا۔ اندرون ملک اس وقت سیاسی طور پر شدید پولرائزیشن تھی لیکن جنرل اختر عبدالرحمن نے خود کو ان تمام تنازعات سے الگ تھلگ اور بہت دور رکھا ۔

کوئی تشہیر نہیں، کوئی خودنمائی نہیں، کوئی ملکی غیر ملکی رپورٹر، کالم نگار یا ایڈیٹر ان سے قربت کا دعوی نہیں کر سکتا تھا ۔1987 میں جنرل اختر عبدالرحمن کو ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنایا گیا تو افغانستان میں ان کا جنگی مشن کامیابی کی منزل پر پہنچ چکا تھا اور سوویت فوجوںکی واپسی طے پا چکی تھی۔ لیکن، اب ان کی زندگی کیلئے اندرونی اور بیرونی خطرات مزید بڑھ گئے تھے۔

وہ افغانستان میں مستحکم عبوری حکومت کے قیام کے بغیر معاہدہ جنیواپر دستخط کرنے کے حق میں نہ تھے۔ یہ چیز روس اورامریکا، دونوں کو قبول نہ تھی۔ اجڑی کیمپ کی تباہی اور اس میں جنرل اختر کو ملوث کرنے کی ناکام سازش کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی کے بعد اس خطہ میں جو نیا منظر ابھر رہا ہے ، اس میں جنرل ضیا ء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کی بقاء مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔

دونوں جنرلوں کو ریڈ الرٹ ملنا شروع ہو گئے تھے ۔ 17 اگست 1988 کو جنرل اختر کا جنرل ضیا ء کے ساتھ امریکی ٹینکوں کی نمائش دیکھنے کیلئے بہاولپور پہنچنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ مگر سازش کاروں نے اس طرح اس سازش کا تانا بانا تیار کیا تھا کہ عین آخری وقت پر وہ بھی جنرل ضیا ء کے ساتھ طیارے میں سوار ہو گئے ۔ جنرل اختر عبدالرحمن کے پاس وہ سب کچھ تھا، جس کی اس دنیا میں کوئی انسان آرزو کرسکتا ہے، بلند عہدہ ، اختیار، اور اقتدار سے قربت ۔

پھر وہ کون سی شے تھی، جس کی تڑپ ان کے قلب و روح کو ہر وقت بے چین اور بے قرار کیے رکھتی تھی اور جس کے سامنے ان کو اپنے عہدہ اور اختیار ہیچ دکھائی دیتے تھے۔ یہ وہی انمول شے ہے، جس کیلئے عظیم مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے اندلس کے میدان جنگ میں دعا کی تھی ۔شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن ۔۔نہ مال غنیمت ، نہ کشور کشائی ۔ جنرل اختر عبدالرحمن کی اس دعا نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس طرح قبولیت حاصل کی کہ آج پوری دنیا میں وہ ’’شہید اسلام‘‘اور ’’شہید پاکستان‘‘کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔