Live Updates

جماعت اسلامی کے زیراہتمام پیٹرولیم پر عائد بھاری لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا

پیر 17 اگست 2026 16:12

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2026ء) جماعت اسلامی کے زیراہتمام پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا ، پولیس کی جانب سے چیئرنگ کراس چوک میں دھرنے کے مقام کے اطراف میں بیرئیر لگا دئیے جبکہ اطراف میں بھاری نفری تعینات رہی ۔دھرنے کی وجہ سے مال روڈ اور ملحقہ شراہوں پر ٹریفک کا نظام تعطل کا شکار رہا ۔

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی نے دھرنے کو کم از کم 8 روز تک بلا تعطل جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، اس سلسلے میں دھرنے کے شرکا ء کے لیے کھانے پینے کے وسیع انتظامات کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادویات کا اسٹاک بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق دھرنے کی وسعت کو برقرار رکھنے کے لیے پورے پنجاب سے کارکنان کی مرحلہ وار شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

اس مقصد کے لیے صوبہ پنجاب کے عہدیداران کو دن کے حساب سے باقاعدہ ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں تاکہ دھرنے میں ہر روز نئی نرسری اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود رہے۔ علاوہ ازیںامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نہ صرف لاہور، بلکہ کراچی اور پشاور میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا یہ دھرنا کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عام عوام، وکلاء ، ڈاکٹرز اور تمام سیاسی و سماجی جماعتوں کے کارکنوں کی مشترکہ آواز ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں آئی پی پیز کا آغاز ہوا جس کے بعد (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے یکے بعد دیگرے ایسے معاہدے کیے جنہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے پلانٹس کی صلاحیت میں شدید دھاندلی کی گئی، 100 میگاواٹ کے پلانٹ کو کاغذی کارروائی میں 200میگاواٹ دکھایا گیا حتی کہ گنے کے بھوسے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں بھی کھلم کھلا دو نمبری اور کرپشن کی گئی،ان تمام غلط پالیسیوں اور آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹ کا سارا بوجھ اب غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے بجلی کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے پہلے ہی شدید پریشان تھے جبکہ اب زائد یونٹ استعمال کرنے والے مڈل کلاس اور عام شہریوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا بین الاقوامی سطح پر جنگ کے بہانے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں اور حکومت ہر بات کا ملبہ آئی ایم ایف پر ڈال دیتی ہے کیونکہ یہ حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں۔انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ایف بی آر میں سالانہ 1,300ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے مگر نظام کی خرابی دور کرنے کے بجائے عوام کو کچلا جاتا ہے، ملک کے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں نے مل کر پورے سال میں صرف 12ارب روپے کا ٹیکس دیا جبکہ دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کی جیب سے 700 ارب روپے کا انکم ٹیکس نچوڑا گیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی، بھتہ ٹیکس بالکل منظور نہیں ، جماعت اسلامی حق و انصاف کی اس جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گی اور دھرنے اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہیں گے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات