Live Updates

پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، علاقائی تعاون اور مکالمے کے فروغ کے لیے ایک موثر پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، مقررین

منگل 6 اکتوبر 2026 22:43

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اکتوبر2026ء) پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، علاقائی تعاون اور مختلف اقوام کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے ایک موثر پل کا کردار ادا کر سکتا ہے،پائیدار امن کے لیے مذاکرات، سفارتکاری، معاشی تعاون، تعلیم، نوجوانوں کی شمولیت اور ذمہ دارانہ ابلاغ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں غلط معلومات، جعلی خبروں اور اشتعال انگیز بیانیے کے تدارک کے لیے تحقیق، تصدیق اور ذمہ دارانہ صحافت کو یقینی بنانا ہوگا۔

ان خیالات کااظہار مقررین نے منگل کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور اور شعبہ ڈیجیٹل میڈیا پنجاب یونیورسٹی لاہور کے اشتراک سے ’’پاکستان بحیثیت امن و استحکام کا پل: آگے بڑھنے کا راستہ‘‘ کے موضوع پر پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

ڈسکشن میں معروف صحافی مجیب الرحمن شامی، کالم نگار سلمان غنی، کالم نگار محمد مہدی، سینئر تجزیہ نگار ارشاد عارف، ڈین یونیورسٹی آف لاہور ڈاکٹر فلیحہ کاظمی، ڈی جی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ شفقت عباس اور سربراہ شعبہ ڈیجیٹل میڈیا پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر سویرا شامی نے اظہار خیال کیا جبکہ ڈاکٹر شفیق احمد، اساتذہ، فیکلٹی ممبران، طلبہ، صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

معروف سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ایسے علمی اور فکری پروگراموں کا انعقاد خوش آئند ہے، پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے خطے میں منفرد اہمیت دیتا ہے اور وہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور چین کے درمیان ایک اہم رابطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یہی جغرافیائی حیثیت اسے صرف تجارتی اور معاشی رابطے کا مرکز ہی نہیں بلکہ مختلف خطوں اور اقوام کے درمیان مکالمے، تعاون اور امن کے پل کا کردار ادا کرنے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو جنگوں، تنازعات، انتہاپسندی، معاشی عدم مساوات اور باہمی عدم اعتماد جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے حالات میں طاقت کے بجائے مکالمہ، تصادم کے بجائے تعاون اور اختلاف کے بجائے باہمی احترام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خطے کے مسائل کا پائیدار حل مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی تعاون کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں ہر فرد کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں، اس لیے امن اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس عمل کا اہم حصہ بنانا ہوگا جبکہ میڈیا اور تعلیمی ادارے معاشرے میں امن، برداشت اور مثبت مکالمے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کالم نگار سلمان غنی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا آیا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا ہے اور مختلف مواقع پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ ہو، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد ڈائیلاگ ہوں یا عالمی سطح پر قیام امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں، یہ اقدامات پاکستان کے امن پسندانہ رویے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔سلمان غنی نے کہا کہ میڈیا رائے عامہ کی تشکیل اور قومی بیانیے کو اجاگر کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، ذمہ دار صحافت اور مثبت ابلاغ کے ذریعے دنیا کو پاکستان کے امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے وژن سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اگر انہیں معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان پاکستان کو مضبوط، ترقی یافتہ اور پرامن ملک بنانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا اس سلسلے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آج ایک خبر، تصویر یا ویڈیو چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کے پاس معاشروں کو قریب لانے اور مکالمے کو فروغ دینے کی بڑی طاقت ہے تاہم اس طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ غلط معلومات، نفرت انگیز مواد اور اشتعال انگیز بیانیے کے بجائے تحقیق، سچائی، برداشت اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان خطے میں امن و استحکام کے پل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو معاشی طاقت، سفارتی روابط، تعلیمی اداروں، نوجوانوں اور میڈیا کو ایک مشترکہ وژن کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔

ڈی جی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ شفقت عباس نے افتتاحی کلمات میں پینل ڈسکشن کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی ڈی ایک اہم قومی ادارہ ہے جو مثبت قومی بیانیے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ملک کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل کی امید ہے، نوجوانوں سے ہماری بہت سی امیدیں وابستہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور مثبت سوچ کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ پاکستان کو ترقی، امن اور استحکام کی جانب لے جانے میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے، غلط معلومات، جعلی خبروں اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے مقابلے کے لیے ذمہ دار، مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ پی آئی ڈی حکومتی پالیسیوں اور پاکستان کے موقف کو موثر انداز میں عوام اور عالمی برادری تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ مثبت اور ذمہ دارانہ ابلاغ کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

شفقت عباس نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف معلومات کا صارف نہیں بلکہ مثبت اور ذمہ دارانہ ابلاغ کا فعال حصہ بنانا ہوگا۔ جدید ڈیجیٹل ذرائع نے ابلاغ کے مواقع میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، اس لیے طلبہ اور نوجوانوں میں میڈیا لٹریسی، تحقیق، تصدیق اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سینئر تجزیہ نگار ارشاد عارف نے کہا کہ امن و استحکام کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے اور ذمہ دارانہ سیاسی رویوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو اندرونی استحکام کے ساتھ ساتھ خارجہ محاذ پر بھی متوازن اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ کسی بھی ملک کا عالمی کردار اس کی داخلی مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے قومی اداروں، سیاسی قوتوں، میڈیا، دانشوروں اور نوجوانوں کو ملک کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔کالم نگار محمد مہدی نے کہا کہ پاکستان نے دفاعی میدان میں اپنی صلاحیت اور قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، اب ملک کو اپنی معاشی خود مختاری یقینی بنانے اور خارجہ پالیسی میں معاشی مفادات و علاقائی تعاون کو بنیادی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ واضح ہے، امن، مکالمہ، تعلیم، معاشی تعاون، علاقائی روابط اور برداشت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ڈین یونیورسٹی آف لاہور ڈاکٹر فلیحہ کاظمی نے کہا کہ پاکستان دنیا میں امن کا ایک پل ہے۔ معرکہ حق میں پوری قوم نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارت کو دندان شکن جواب دیا، اب معاشی ترقی کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جو سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔

سربراہ شعبہ ڈیجیٹل میڈیا پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر سویرا شامی نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے ابلاغ کے دائرے کو غیر معمولی طور پر وسیع کر دیا ہے اور اب پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے فوری طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے موثر اور ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے امن، برداشت اور بین الاقوامی ہم آہنگی کا پیغام عام کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر خطے میں قیام امن کے لیے حکومتی کوششوں کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جبکہ طلبہ نے مقررین سے مختلف سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے روشن اور پرامن مستقبل کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، میڈیا، جامعات، دانشوروں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو مشترکہ قومی وژن کے تحت اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات