Live Updates

ةصدر مملکت کی پولش وزیر سے ملاقات، سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور عوامی روابط مزید بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات کو کثیرالجہتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، صدر زرداری

منگل 6 اکتوبر 2026 20:40

ظ*اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 06 اکتوبر2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان موجود دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو کثیرالجہتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔

صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار ایوان صدر میں پولینڈ کے وزیر، کونسل آف منسٹرز کے رکن اور خصوصی خدمات کے کوآرڈینیٹر توماش سیئمونیئک سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، سیاسی و اقتصادی تعاون، دفاعی روابط، سکیورٹی امور اور علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے امید ظاہر کی کہ پولش وزیر کا دورہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان موجود تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور دونوں ممالک کے عوام کے باہمی مفاد میں دوطرفہ تعلقات کو وسیع تر شراکت داری میں تبدیل کرنے کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔

صدر مملکت نے حالیہ امریکہ، ایران بحران کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تسلیم کرنے پر پولینڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے لیے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔انہوں نے 1991 کے بعد پولینڈ کی نمایاں معاشی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کاروباری برادریوں کے روابط، عوامی سطح پر تبادلے اور اعلیٰ قیادت کے باقاعدہ رابطوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔

ں صدر زرداری نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کے حوالے سے پاکستان کے لیے پولینڈ کی حمایت کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون اور روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے۔اس موقع پر توماش سیئمونیئک نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولینڈ پاکستان کے ساتھ بالخصوص سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے صدر مملکت کے لیے پولینڈ کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔پولش وزیر نے کہا کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات موجود ہیں، جن میں دفاعی تعاون بھی شامل ہے۔ انہوں نے پاکستان میں پولینڈ کی فضائیہ کے پائلٹس اور تکنیکی ماہرین کی خدمات کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ پولینڈ سکیورٹی، امیگریشن اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ملاقات کے دوران صدر مملکت کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کی ایک شاہراہ کا نام ایئر کموڈور ولادیسلاو یوزف ماریان تورووچ کے نام پر رکھا جا رہا ہے، جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران پولینڈ کی فضائیہ اور بعد ازاں شاہی فضائیہ میں خدمات انجام دیں۔

وہ 1948 میں پاکستانی حکام کی دعوت پر تقریباً 30 دیگر پولش پائلٹس، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کے ہمراہ پاکستان آئے اور پاکستان فضائیہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ملاقات میں پولینڈ کے سفیر میکائیل پیسارسکی، ملٹری کاؤنٹر انٹیلی جنس سروس کے سربراہ جنرل یاروسواف ستروڑک، فارن انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈپٹی سربراہ کرنل والڈیمار مولارچک اور وزیراعظم کے دفتر کے قومی سلامتی شعبے کے ڈائریکٹر کرنل میچیسواف ماتیسیاک شریک ہوئے۔پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر بھی ملاقات میں موجود تھے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات