بلاول بھٹو کی افطارپارٹی اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس بن گئی

تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی شرکت، سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال، گیس اورپیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، نیب کی کارروائیوں کو انتقامی قراردے دیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار مئی 20:31

بلاول بھٹو کی افطارپارٹی اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس بن گئی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 مئی 2019ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی آل پارٹیز کانفرنس بن گئی، افطار پارٹی میں تمام حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی،افطار پارٹی میں ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں آج اسلام آباد میں افطار پارٹی دی۔

جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ افطار پارٹی کے بعد سیاسی رہنماؤں میں ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ نائب صدر ن لیگ مریم نواز نے بھی افطار پارٹی میں شرکت ۔ ن لیگ کے 6رکنی وفد نے سینئر نائب صدرشاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں افطار پارٹی میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

وفد میں مریم نواز، پرویز رشید ، حمزہ شہباز،سردار ایاز صادق ، مریم اورنگزیب بھی شریک تھے۔

مریم نواز کا استقبال چیئرمین پی پی بلاول بھٹو اور ان کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو نے کیا۔ پی پی رہنماؤں میں بلاول بھٹو، آصف زرداری، رضاربانی، شیری رحمان، نیئربخاری، فرحت اللہ بابرشریک ہوئے۔ اجلاس میں آفتاب شیرپاؤ، لیاقت بلوچ ، حاصل بزنجو، ایمل ولی خان، زاہد خان، جہانزیب جمالدینی، میاں افتخار حسین و دیگر بھی شریک ہیں۔ افطار کے پارٹی کے بعد اب اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی صورتحال پر تبادلے کیلئے اجلاس جاری ہے۔

اجلاس میں حکومت مخالف تحریک چلانے سے متعلق لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اجلاس میں مستقبل میں اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پرغور کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے گیس اورپیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کومسترد کردیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے نیب کی کارروائیوں پربھی تشویش کا اظہار کردیا۔ اپوزیشن نے نیب کی کارروائیوں کو انتقامی قراردے دیا ہے۔

اسی طرح سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے بلاول بھٹو کی افطار پارٹی میں شرکت کے موقع پر دعویٰ کیا کہ ملک میں نئے الیکشن ہونے والے ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر نے ایک سوال ’تحریک چلانے کی باتیں ہو رہی ہیں، ملکی صورتحال پر کیا کہیں گے؟‘ کے جواب میں کہا کہ تحریک چلانے کی ضرورت نہیں یہ خود ہی جا رہے ہیں۔ کیپٹن ر صفدر نے ایک سوال’بڑے عرصے بعد نظر آئے ہیں‘ کے جواب میں کہا کہ اڈیالہ جیل میں پڑا ہوا تھا، جب رہا ہوا تو آ گیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments