ملک میں مہنگائی سے نمٹنے کے لیے احساس راشن پروگرام شروع کیا گیا ہے ، عمران خان

احساس راشن رعایت پروگرام کے اجراء سے شہریوں کو آٹا، گھی، تیل اور دالوں کی خریداری پر30 فیصدرعایت ملے گی،وزیراعظم پنجاب بھر میں جنوری سے ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں،بلوچستان کے وزیر اعلی نے بھی ہیلتھ انشورنس دینے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں جہاں ہماری حکومت ہے وہاں ہر خاندان کو علاج کے لیے 10 لاکھ روپے دیں گے،تقریب سے خطاب

بدھ 8 دسمبر 2021 23:09

ملک میں مہنگائی سے نمٹنے کے لیے احساس راشن پروگرام شروع کیا گیا ہے ، عمران خان
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 دسمبر2021ء) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی سے نمٹنے کے لیے احساس راشن پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے کے تحت آٹا ،گھی اور دالیں 30 فیصد کم قیمت پر دی جائیں گی،ایک اور پروگرام شروع ہوگا جس کے تحت 20 لاکھ انتہائی کم آمدن والے خاندانوں کو بلا سود قرضے دیں گے، ہر مستحق خاندان میں ایک فرد کو ہنر سکھائیں گے،پورے پنجاب میں جنوری میں ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں، بلوچستان کے وزیر اعلی نے بھی ہیلتھ انشورنس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گورنر ہاوس پشاور میں احساس کفالت پروگرام کے تحت چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان ، وزیر اعلی محمودخان اور دیگر سینئر حکام موجود تھے۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم نے کہا کہ 25 سال پہلے تحریک انصاف شروع کی تو ہمارا منشور واضح تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ احساس راشن رعایت پروگرام کے اجراء سے شہریوں کو آٹا، گھی، تیل اور دالوں کی خریداری پر30 فیصدرعایت ملے گی، احساس راشن پروگرام کی کل لاگت 120ارب روپے ہے، پروگرام کے تحت 2 کروڑ خاندان اور تقریبا 13 کروڑ افراد مستفید ہوں گے جو ملک کی کل آبادی کا تقریبا 53 فیصد ہے، ماہانہ 50 ہزار سے کم آمدن والے خاندان اس پروگرام سے استفادے کے اہل ہوں گے۔

اہل صارفین کو کل خریداری پر30فیصد رعایت ملے گی،یہ رعایت آٹا، گھی یا تیل اور دالوں پرملے گی۔ کریانہ سٹور مالکان بھی اس پروگرام میں رجسٹر ہو سکتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ صحت کارڈ کا اجرا بھی خیبر پختونخوا سے ہوا ، اب نیا پاکستان کارڈ کا آغاز بھی یہاں سے ہو رہا ہے جو ا س صوبے کیلئے اعزاز ہے، یو این ڈی پی کی رپورٹ تھی کہ 2013 سے 2018 تک پختونخوا میں سب زیادہ تیزی سے غربت میں کمی ہوئی، یہ صوبہ دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب صوبے میں پہلی بار 30 فیصد لوگوں کو ہیلتھ انشورنس ملی، غریبوں کے لیے کینسر کے علاج کا ہسپتال بنایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے دوران پابندیاں نہ لگانے پر مجھ پر بہت تنقید کی گئی لیکن اب دنیا کہہ رہی ہے پاکستان نے سب سے بہتر طریقے سے خود کو کورونا وائرس کی وبا کی مشکل صورتحال سے نکالا اور بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران پاکستان نے اپنے لوگوں اور معیشت دونوں کو بچا لیا۔

انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب میں جنوری میں ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں۔بلوچستان کے وزیر اعلی نے بھی ہیلتھ انشورنس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں جہاں ہماری حکومت ہے وہاں ہر خاندان کو علاج کے لیے 10 لاکھ روپے دیں گے۔ علاج کی سہولت دینا ہمیں فلاحی ریاست کی طرف لے کر جا رہا ہے۔اس وقت ہم طلبہ کو سکالر شپ کی مد میں 47 ارب 63 لاکھ روپے دے رہے ہیں، سکالرشپس میرٹ پر دیئے جائیں گے۔ آئندہ 10 سال میں 10 ڈیم بنائیں گے، ہمارا ملک بہت تیزی سے ترقی کرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت ہمارے ہاں پٹرول اور ڈیزل کے نرخ دنیا کے اکثر ممالک کے مقابلہ میں کم ہیں۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>