ایف بی آر کی جانب سے برآمد کنندگان کی200ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈ روکنا تشویشناک ہے‘میاں خرم الیاس

سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے برآمدکنندگان سرمائے کی کمی کا شکار ہیں ، سیلز ٹیکس ریفنڈز ادا نہ کرنے سے ملکی برآمدات کمی کا شکار اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ‘سابق وائس چیئرمین لاہور ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن

ایف بی آر کی جانب سے برآمد کنندگان کی200ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈ روکنا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء)تاجر راہنما و سابق وائس چیئرمین لاہور ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن میاں خرم الیاس نے بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے ریونیو وصولیوںکے مقرررہ اہداف میں مصنوعی گروتھ ظاہر کرنے کیلئے بزنس کمیونٹی کے 200ارب سے زائد کے ریفنڈ کلیم روکنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے برآمدکنندگان سرمائے کی کمی کا شکار ہیں جس کے باعث درجنوں فیکٹریاں بند ہونے کا خدشہ ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز ادا نہ کرنے سے برآمد کنندگان کی ملکی اشیاء بیرون ملک برآمدات میں عدم دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں جس سے ملکی برآمدات کمی کا شکار ہیںسیلز ٹیکس ریفنڈز ادا نہ کرنے سے ملکی برآمدات کمی کا شکار اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔

(جاری ہے)

میاں خرم الیاس نے کہا کہ سابق حکومت صنعتکاروں کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کا وعدہ کر تی رہی لیکن رکے ہوئے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مکمل ادائیگی نہ کی جاسکی اور اس کی مالیت200ارب تک پہنچ چکی ہے اس لیے ایف بی آر صنعتکاروں کی200ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔

تاکہ برآمدکنندگان دلجمعی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کرکے حکومتی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرسکیں اور تجارتی خسارہ میں بھی کمی واقع ہو۔

Your Thoughts and Comments