2020ء خواتین پر ظلم و زیادتی کے واقعات میں بدترین رہا

غیرت کے نام پر قتل’عدم مساوات‘غربت اور زبردستی کی شادیوں کی وجہ سے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا

جمعہ جنوری

2020 Khawateen Per Zulm O Ziyadti K Waqiyat Main BadTareen Raha
بشریٰ شیخ
اقوام متحدہ کے مطابق کرونا کی عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا،پنجاب میں خواتین پر بہیمانہ تشدد اور ہراسمنٹ کیسز میں گزشتہ برس کی نسبت 40 فیصد اضافہ ہوا، عورتوں پر کیے جانے والے تشدد کی کئی اقسام ہیں جن میں غیرت کے نام پر قتل،زیادتی،اغواء،مار پیٹ و گالی گلوچ،زبردستی نکاح نہ صرف یہی بلکہ جسمانی تشدد کے علاوہ ذہنی اذیت دینا بھی تشدد میں شامل ہے۔

گھریلوں تشدد کے بارے میں کوئی کیس سامنے آئے تو عورت کی عزت کو مزید اچھالا جاتا ہے یہاں تک کہ اس قدر عجیب سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ عورتیں چپ رہنے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 90 فیصد خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

صرف پنجاب میں ہر سال 10,000 سے زائد خواتین گھریلوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 4 فیصد خواتین اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کو رپورٹ کرتیں ہیں اور اس سے بھی کم قانونی چارہ جوئی کا راستہ اپناتی ہیں۔

اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین پر کتنا تشدد کیا جاتا ہے۔اسی طرح محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی مسائل کا سامنا ہے جیسے جنسی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کیا جانا،زنا بالجبر،کم اجرت،بلا معاوضہ کام،نقل و حرکت میں رکاوٹ،پروفیشن کو چننے میں پابندیاں،روزگار کے مواقع نہ ہونا،بلاوجہ تنقید،اغواء اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹ وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں۔

خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن ہر سال پچیس نومبر کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد ان کے مسائل کو بروئے کار لانا اور شعور اجاگر کرنا ہے۔ عورتوں پر تشدد ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے مطابق دنیا کے ہر معاشرے اور ثقافت میں عورتوں پر تشدد کیا جاتا ہے جبکہ اس سے ہر عمر،رنگ،نسل اور طبقے کی خواتین متاثر ہوتی ہیں۔


ایمنیسٹی انٹر نیشنل نامی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم بیان کرتی ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد آجکل انسانی حقوق کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ہالینڈ کی ایک تنظیم کی طرف سے شائع کیے جانے والے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جنوبی امریکہ کے ایک ملک میں تقریباً چار میں سے ایک عورت کسی نہ کسی طرح کے گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے۔پاکستان میں ہر دوسری خاتون اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی گھریلوں تشدد کا شکار رہی ہے۔

بین الاقوامی فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق عورتوں پر تشدد کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔خواتین پر تشدد کے واقعات کی وجہ سے پاکستان کا دنیا میں چوتھا نمبر ہے۔ہمارے مذہب نے عورتوں کو قدر،عزت و احترام دیا ہے اس سے قبل عورتوں پر بد ترین مظالم ڈھائے جاتے تھے لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور نبوت کے بعد عورتوں کو سب سے پہلے حقوق دیے گئے اب وقت آگیا ہے حالات کو سمجھنے اور عورت کو مظالم سے بچانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔


پنجاب کے بڑے شہروں لاہور،ملتان،راولپنڈی اور فیصل آباد میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے جو کہ لمحہ فکریہ ہے،ہمارے ہاں معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے بغیر خواتین اور خاص طور پر کم عمر بچیوں پر جسمانی و جنسی تشدد کا خاتمہ ناممکن نظر آتا ہے خاص طور پر گھروں میں کام کرنے والی کم عمر بچیاں جسمانی تشدد کا نشانہ بنی رہتی ہیں۔

آج بھی پسماندہ علاقوں میں قرآن پاک سے شادی،کاروکاری جیسی رسومات کے ذریعے عورت کا استحصال کیا جا رہا ہے،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ سال ایک مرتبہ پھر خواتین پر تشدد کے حوالہ سے پاکستان سرفہرست ملک رہا،غیرت کے نام پر قتل،تیزاب پھینکنے،نوکریوں کے حوالے سے معاشرتی پابندیوں ،عدم مساوات،غربت اور زبردستی کی شادیوں کی وجہ سے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا،یہ بات بالکل درست ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں،جب تک قانون حرکت میں نہیں آئے گا عورت کو مساوی حقوق اور انصاف نہیں مل سکتا،موجودہ دور میں میڈیا خواتین کے حقوق کے حوالے سے موثر شعور اجاگر کر سکتا ہے،کسی بھی ملک میں امن قائم رکھنے،تشدد اور جرائم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی میں پولیس کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے،وطن عزیز پاکستان میں محکمہ پولیس کے اہلکاروں کو جب تک خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگہی نہیں دی جائے گی اس وقت تک چھوٹے شہروں،گاؤں،قصبوں میں عورت یونہی تشدد کا شکار ہوتی رہے گی۔


ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک عوت کو مرد کے تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے،گزشتہ سال لاہور کے قریب موٹروے پر خاتون سے جنسی تشدد کے واقعے پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا،پولیس اور حکومت بھی حرکت میں آئی لیکن یاد رہے کہ جن دنوں میں اس واقعے کا ذکر میڈیا پر جاری تھا اُسی وقت ملک کے دیگر علاقوں میں بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے کئی ایک واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے جس کی سب سے بڑی وجہ بچیوں اور خواتین سے زیادتی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا کا نہ ملنا ہے، چند سال پہلے زینب کیس میڈیا پر آیا تو ملزم کو گرفتار کرنے کے لئے پاکستان بھر میں مظاہروں کا سلسلہ چند روز جاری رہا بعد ازاں ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا اور سزا بھی ملی لیکن اس دوران اور تادم تحریر ایسے واقعات تھم نہیں سکے جس کی سب سے بڑی وجہ ملزمان پر قانون کی ڈھیلی گرفت اور سزا سے بچ نکلنا ہے،یہ ہی وجہ ہے کہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اب یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ پولیس اور عدلیہ کے لئے مناسب تربیت کا بندوبست کیا جائے تاکہ جنسی تشدد کے مقدمات میں بین الاقوامی طرز کے طریقوں سے کام ہو اور مقدمات کی تفتیش اور سماعت کے دوران خواتین کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔


تاریخ گواہ ہے کہ ظہور اسلام سے قبل جہاں انسان میں بہت ساری برائیاں تھیں،ان میں سب سے نمایاں اور شرمناک بات یہ تھی کہ عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہ تھا وہ صرف ایک زرخرید لونڈی اور خواہشات نفسانی کے پورا کرنے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی سماج میں اس کا کوئی مقام نہ تھا یہاں تک کہ لڑکی کی پیدائش کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور اسے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

لیکن پیغمبر آخر الزماں دنیا میں رونق افروز ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے عورت کے اصلاح کی جانب خاص توجہ مبذول فرمائی اور عورت کو دنیا کے سامنے ایک مثالی نمونہ بنا کر پیش کرکے معاشرے میں اعلیٰ مقام عطا کیا۔انہیں امہات المومنین،صحابیات جیسے خطابات سے نوازا خصوصاً عورت کو ماں کا درجہ دے کر کہ اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی واضح طور پر ذکر فرمایا اور مردوں کے برابر عورتوں کے حقوق بھی عطا کیے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

2020 Khawateen Per Zulm O Ziyadti K Waqiyat Main BadTareen Raha is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 January 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.