بلدیاتی ادارے، اختیارات کی جنگ طول پکڑنے لگی

کیامیئر کراچی کولندن اور نیویارک جیسے اختیارات حاصل ہوں گے؟ ۔۔۔۔ صوبائی خودمختاری کاکریڈٹ لینے والی پیپلزپارٹی کیا میئرزکوخود مختاری دے گی

جمعرات جنوری

Baldiyati Idare Ikhtiyarat Ki Jang
سالک مجید:
شہر قائداعظم محمد علی جناح کے آئندہ میئر کے اختیارات پرسیاسی اور قانونی حلقوں میں زبردست بحث جاری ہے۔ میئرکراچی کوکتنا بااختیار اورطاقتور ہونا چاہیے کے وہ شہرکے مسائل حل کرسکیاور شہریون کی توقعات پرپورا اترسکے۔ دنیاکے ترقی یافتہ ملکوں کے بڑے بڑے شہروں کے میئربہت یااختیاراور طاقتور ہوتے ہیں اس لئے وہ بغیر کسی دباؤ میں آئے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پرعملدرآمدکراتے ہیں اور نتائج بھی شاندارآتے ہیں۔

عام تاثر ہے کہ نیویارک کے فیصلے امریکی صدر نہیں کرتا بلکہ وہاں کا میئر کرتاہے لہٰذا ہرعلاقے کے رہنے والوں کابنیادی حق ہے کہ وہ اپنے علاقے میں جوکام کرانا چاہتے ہیں وہ کرسکتے ہیں کیونکہ ہرعلاقے کارہنے والا باشندہ ہی اپنے گلی محلے ٹاؤن اور شہرکے مسائل کوسب سے اچھا جانتااور پہچانتاہے اور اس کو معلوم ہوتاہے کہ پہلی ترجیح کس پرابلم کوحل کرنے پرہونی چاہیے اور فنڈز کااستعمال بھی کہاں زیادہ ضروری ہے اور کہاں کم ضروری ہے۔

(جاری ہے)


سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت بلاشبہ اس بات کاکریڈٹ لیتی ہے کہ ملک کو 1973ء کامتفقہ آئین بھی اس کی حکومت نے دیاتھا اور اب 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری بھی پیپلزپارٹی نے دلائی ۔ جب پیپلزپارٹی دفاق سے اختیارات صوبوں کومنتل کرنے کاکریڈٹ لیتی ہے تواس سے یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ اب صوبے سے اضلاع کواختیارات کی منتقلی میں بھی وہ فراخدلی کامظاہرہ کرے اور ضلعی حکومتوں کوزیادہ مضبوط کرے جوکہ خود سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھتو کا بھی ایک خواب اور وژن تھا۔


بلدیاتی انتخابات میں کراچی سے کشمور تک سندھ کے عوام نے جوفیصلہ دیااور جس پارٹی کوبھی جومینڈیٹ ملاہے اب لازم ہے کہ تمام ادارے اور تمام سیاسی جمارتیں اس عوامی مینڈیٹ کااحترام کریں اور سسٹم کومضبوط کرنے اور ثمرات عوام تک پہنچانے کے عمل میں اپنا اپنا کردارادبھرپور طریقے سے اداکریں اور ایکشن کومثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ کسی بھی مرحلے پراقدامات اور فیصلوں میں رکاوٹیں نہ ڈالیں۔


45یااس سے بھی زیادہ ملکوں سے آبادی اور مرتبے کے لحاظ سے بھی کراچی بڑاشہرہے لہٰذا اس کے مسائل بھی زیادہ ہیں اس کی گنجان آبادی والے علاقوں میں بے شمار چیلنجز ہیں جن سے بلدیاتی اداروں اور منتخب نمائندوں کونمٹنا ہوگای یہ سوال ماضی میں بھی اٹھایا جاتارہاہے کہ اتنے وسیع وعریض شہرکے کے میئر کوکیاپولیس اور دیگراداروں کاانتظامی کنٹرول حاصل ہوناچاہیے یانہیں۔

اگرشہرکاباس ایک ہوگا تو فیصلے بھی بہترہوں گے نتائج بھی عمدہ آئیں گے۔ ایک چین آف کمان ہوگی توشہرترقی اورخوشحالی کے راستے پرتیزی سے آگے بڑھ سکے گااگرایسا نہیں ہوگا توپھر ہرادارہ اپنے الگ الگ سربراہ کی طرف دیکھے گاکوارڈینیشن میں کمی آئے گی اور کوئی بھی ماسٹر پلان اور کوئی بھی میگاپراجیکٹ اس تیزی سے آگے نہیں بڑھ سکے گاجس کی کراچی کواشدضرورت ہے۔


خوشی کی بات ہے کہ گزشتہ دوتین دہائیوں میں لاہور شہرنے تیزی سے ترقی کی ہے۔ آج یہاں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کانظام بہترہورہاہے۔ انڈرپاسز‘ اوورہیڈبرجز‘ رنگ روڈبن گیاہے۔ میٹروبس چل رہی ہے اور جلد ہی اورنج ٹرین آنے والی ہے۔ لاہور کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہورہاہے لیکن دوسری طرف کراچی میں کیاہورہاہے۔ کراچی میں انگریزٹرام کانظام چھوڑ گیاتھا‘ وہ ہمارے فیصلہ سازوں نے بندکرا دی حالانجی کینیڈا اور دیگر ملکوں میں آج بھی ٹرام سروس کامیابی سے چلائی جارہی ہے۔

کراچی میں انگریزکراچی سرکولرریلوے سسٹم بچھایا گیاتھا۔ روزانہ درجنوں لوکل ٹرینیں چلاکرتی تھیں۔ اس کوبھی تباہ کردیاگیا۔ لوکل ٹرین کے روٹ پرقبضے کرلئے گئے اور پٹڑی کے اوپرسڑک بنادی گئی تعمیرات کردی گئیں۔ کراچی میں بس سروس ہوتی تھی۔ اس کے بڑے بڑے ڈپواوربس اڈے ہوتے تھے۔ وہ سب تباہ ہوگیا۔ آج کراچی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف سفرکررہاہے کیوں؟ آخرکیوں؟ پچھلے پانچ سات سال میں کراچی عملی طورپرکچرے کاڈھیربن گیاہے۔

سیوریج کانظام تباہ ہوگیا۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ پینے کاپانی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ٹرانسپورٹ پبلک کیلئے دردسربن چکاہے۔ نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال کی ساری محنت پرپانی پھیردیاگیاہے۔
اب ایک بارپھر امیدپیداہوگئی ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے نتیجے میں جو لوگ جیت کرآئے ہیں‘ جن پرکراچی کے عوام نے ایک بارپھربھرپوراعتماد کااظہارکیاہے وہ حالات کوپھربدلیں گے۔

کراچی بدلے گا۔ کراچی بہترہوگا۔ کراچی بھی سانس لیں لینے لگے گا۔ اللہ کریہ توقعات پوری ہوں، لیکن یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ اس کیلئے صوبائی حکومت کونئے منتخب نمائندوں کے ہاتھ مضبوط کرنے ہونگے۔ ان کواختیارات بھی دینا ہونگے۔ ان کووسائل بھی فراہم کرناہونگے۔ فنڈزدیں گے توکام ہونگے۔ وفاقی حکومت کوبھی اپنا مثبت اور مئوثر کردارادا کرناہوگا۔ وفاقی حکومت کے مختلف ادارے جوکراچی میں اپناوجود رکھتے ہیں اور ان کے زیراثر زیرانتظام وسیع مدت بھی ہیں‘ وہاں بھی ایک ساتھ بہتری کیلئے منصوبے شروع کرنا چاہئیں اور نئے میئرکراچی کے ساتھ مل کرکراچی کو صاف ستھرا اور جدیدسہولتوں سے آراستہ شہربنانے کانیاسفر نئے جذبات سے شروع کرناہوگا۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Baldiyati Idare Ikhtiyarat Ki Jang is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 January 2016 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.