بھیڑ بکریوں کی افزائش میں درختوں کی اہمیت

درخت قیمتی سرمایہ ہیں، ان کے پتے،بیج اور پھل جانوروں کی غذائی کمی کو دور کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحول دوست اور جانور دوست پرندوں کی افزائش کر سکتے ہیں

Dr. Waqar Ali Gill ڈاکثر وقار علی گل منگل اگست

Bher Bakriyon Ki Afzaish main Darakhtoon ki Ehmiyat
زمانہ قدیم سے انسان بھیڑ بکریاں پال کر اپنی ضروریات زندگی پوری کرتاچلا آرہا ہے۔ بھیڑ بکریاں اب بھی ہمارے لائیوسٹاک کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا دودھ اور گوشت غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور جسمانی نشوونما میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کی کھال اور اون سے بھی کافی سرمایہ کمایا جاسکتا ہے۔ بھیڑبکریاں پالنا بڑا ہی منافع بخش اور بابرکت کاروبار ہے۔


پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی دوسرے صوبوں کی طرح بڑی تعداد میں یہ جانور پالے جاتے ہیں۔ہر سال لاکھوں جانوروں کا عیدالاضحی پرکاروبار ہوتا ہے۔ہمارے جانور اچھی اور اعلیٰ نسل کے ہوتے ہیں اگر ان کی بھرپور نگہداشت اورمناسب دیکھ بھال کی جائے تو ان جانوروں سے اچھی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

(جاری ہے)

بھیڑ بکریوں کے ریوڑ زیادہ تر ایسے خانہ بدوش لوگ پالتے ہیں جنکی اپنی کوئی زمین نہیں ہوتی۔

ہمارے ہاں زیادہ تر چرواہے جانوروں کے ریوڑ کھلی جگہ، نہروں، سڑکوں کے کناروں پر موجود جھاڑیوں، گھاس پھوس درختوں کے پتوں ٹہنیوں اور فصلوں کی باقیات پر چرائی کروا کر پالتے ہیں۔ ان جانوروں کے لیے چارہ کاشت نہیں کیا جاتا اور خوراک کی کمی رہتی ہے۔ آبادی میں اضافے، درختوں کی کٹائی،خشک سالی، موسم کی تبدیلیوں اور چراگاہوں کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کی چرائی کی جگہ اور مواقع معدوم ہوگئے ہیں۔


درخت سایہ فراہم کر نے کے علاوہ آندھیوں کی روک تھام اور زمین کے کٹاﺅ کے بچاﺅ میں مددگار ہیں۔اگر درختوں کی دیکھ بھال کی جائے، اور منصوبہ بندی کے تحت ایسے درخت لگائے جائیں جنکی غذائی افادیت بھیڑبکریوں کے لیے مسلّم ہے تو ہم کافی بڑی تعداد میں ان جانوروں کو پال سکتے ہیں اور آرگینک گوشت اور دودھ حاصل کرسکتے ہیں۔
درخت قیمتی سرمایہ ہیں، ان کے پتے،بیج اور پھل جانوروں کی غذائی کمی کو دور کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ماحول دوست اور جانور دوست پرندوں کی افزائش کر سکتے ہیں۔ بھیڑ بکریاں مختلف اقسام کے درخت اور جڑی بوٹیاں کھالیتی ہیں۔بکری اور بھیڑ کی چرائی میں فرق ہے. بکری زمین سے اونچائی پر چرتی ہے اسی وجہ سے اسے براﺅزر کہا جاتا ہے. یہ اپنی پچھلی ٹانگوں کی مدد سے کھڑی ہو کر درختوں اور جھاڑیوں پر چرتی ہے جبکہ بھیڑ زمین کے قریب چرتی ہے۔

مندرجہ ذیل درخت اور جڑی بوٹیاں بھیڑبکریاں شوق سے کھالیتی ہیں۔
 کیکر، بیری، شریں، ایپل ایپل ، سوہانجنا ،شہتوت ، نیم ، بکائین وغیرہ ۔
کیکر
کیکر اور ببول ہمارے ہاں پہاڑی، میدانی اور صحرائی علاقوں میں عام پایا جاتا ہے۔ اس کی لکڑی جلانے اور، فرنیچر بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔اس کے پتے ،پھلیاں اور ٹہنیاں جانور بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

یہ پانی کی کمی اور شدید موسم کو آسانی سے برداشت کرلیتا ہے اور تیزی سے بڑھتا ہے۔ اس میں 15 فیصد پروٹین ہوتی ہے۔اس کا قد درمیانہ ہوتا ہے اور 20 میٹر تک بلند ہوجا تا ہے۔اس پر پیلے رنگ کے پھول کھلتے ہیں،جو بعد میں بیج بن جاتے ہیں۔اس کے بیج لگا کر اسے کاشت کیا جاسکتا ہے۔
بیری
 یہ درمیانے قد کا خاردارجھاڑی دار پودا ہے۔

جس کی اونچائی 3سے 15میٹر تک چلی جاتی ہے،یہ سارا سال سرسبز رہتا ہے۔یہ زیادہ تر پھل کے لیے اگایا جاتا ہے۔اس کا پھل بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ یہ بارانی اور نیم بارانی علاقوں میں آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔یہ کیروٹین، وٹامن سی اور اے کا ذریعہ ہے۔اس کے پتے جانور بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور باقی بچنے والی خاردار ٹہنیاں بطور باڑ کے استعمال ہوتی ہیں۔

اسے بیج اور قلم کے ذریعے لگایا جاسکتا ہے. یہ موسم کی شدت کو بھی برداشت کر لیتا ہے۔
کچنار
اس کے پھول اور ڈوڈیاں بطور سبزی استعمال ہو تے ہیں۔ اسے بذریعہ بیج کاشت کیا جاتا ہے۔ اسے بڑے اور چھوٹے جانور آسانی سے کھا لیتے ہیں۔اس میں 8 سے 10 فی صد پروٹین ہوتی ہے۔ یہ موسم کی شدت کو بھی برداشت کر لیتا ہے۔
نیم
اس درخت کی بہت زیادہ طبی اہمیت ہے. اس کے پتے اور تیل زخموں کے علاج کے لیے مشہور ہیں۔

اس سے تیار شدہ مختلف ادویات ماضی میں دردکشا،خواب آور،اندرونی اور بیرونی کرم کش کے طور پرا ستعمال ہوتی تھیں۔اس کے پتوں میں بڑی مقدار میں پروٹین، معدنیات اور وٹامن ہوتے ہیں۔ اس کے پتے پولٹری میں افلا ٹاکسن میں کارآمد ہیں۔
شہتوت
اسے عام زبان میں توت بھی کہا جاتا ہے ۔بارانی اور نیم بارانی علاقوں میں آسانی سے اگایا جا سکتا ۔

اسکے پتے زودہضم ہوتے ہیں،اس کی چھال بھی بکریاں کھا جاتی ہیں۔اس کے پتوں میں بڑی مقدار میں پروٹین ہوتی ہیں۔
سوہانجنا
یہ درخت جنوبی پنجاب میں عام ہے. اسے بیج اور قلم کی مدد سے کاشت کیا جاسکتا ہے۔ یہ بارانی اور نیم بارانی علاقوں میں آسانی سے اگایا جا سکتا ۔ یہ موسم کی شدت کو بھی برد اشت کر لیتا ہے۔ اس میں 20 فی صد پروٹین ہوتی ہے. معدنیات اور وٹامن ہوتے ہیں۔

اسکے پتے زود ہضم ہوتے ہیں اور جانوروں کو فربہ کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
ایپل ایپل
اسے عام زبان میں انگریزی شریں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کئی ممالک میں چارے کے طوراستعمال ہوتا ہے۔ بڑی تیزی سے بڑھتا ہے۔ اس کی پھلیاں پروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں۔
شریں
یہ موسم کی شدت کو برداشت کرتا ہے،اس کی پھلیاں پروٹین سے بھرپور ہوتی ہے۔ شجرکاری کے موسم میں ان پودوں کو کاشت کر کے ہم اپنے جانوروں کی اچھی خوراک کاانتظام کرسکتے ہیں اور پیداوار میں کئی گنا اضافہ کرسکتے ہیں۔ کسی  مسئلہ کی صورت میں قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Bher Bakriyon Ki Afzaish main Darakhtoon ki Ehmiyat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.