چار مطالبات منوا کر پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے قیام پر راضی

فوجی عدالتوں میں توسیع ‘ رضار بانی ‘ اعترازاحسن کے تحفظات ‘ فضل الرحمن کیلئے ناپسندیدہ پیپلزپارٹی کے نکات پر عملدرآمد سے فوجی عدالتوں کے قیام کے مقاصد سوالیہ نشان

جمعرات مارچ

Char Mutalbat Manwa Kar PPP Foji Adalton K Qayam Par Razi
تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوجی عدالتوں پر اتفاق رائے کیلئے پیپلزپارٹی کے نومیں سے چار مطالبات مان لئے گئے ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان مطالبات کے مانے جانے کے بعد وہ مقاصد حقیقی معنوں میں پورے ہوسکیں گے جن مقاصد کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا ان عدالتوں کی معینہ مدت 7جنوری کو ختم ہوگئی تھی اس کے بعد تقریباََ 70 دن اتفاق رائے میں گزر گئے ۔

اتفاق رائے کی بنیاد پیپلزپارٹی کے چار نکات یعنی فوجی عدالتوں اور سکیورٹی معاملات کی نگرانی کیلئے قومی پارلیمانی کمیٹی کا قیام ، فوجی عدالت میں ٹرائل پر قانونی شہادت کا اطلاق ہوگا، ملزمم مرضی کا وکیل کرسکے گا تاہم آئین میں دوبارہ ترمی کے بعد فوجی عدالتیں باقاعدہ کام کرسکیں گی ۔ اس حوالے سے سینٹ کے چیئر مین رضا ربانی اور پیپلزپارٹی کے سینیٹراعتزاز احسن نے آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

(جاری ہے)


سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا ہے کہ انہیں ذاتی طور پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے متفق ہونے پر دکھ ہوا۔ سینٹ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ اگر دو سال قبل 21ویں آئینی ترمیم کو پورے ایوان کی کمیٹی میں زیر بحث لایاجاتا تو شاید آج یہ حالات نہ دیکھنے پڑتے ۔ یہ انتہائی افسوس ناک دن اوربدقسمتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اس لئے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں ۔

اعتزاز احسن نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو فوجی عدالتوں کے معاملے پر تحفظات ہیں ۔ جماعت حکومت پراعتماد کرتے ہوئے زہریلا گھونٹ پی رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم اسی بل سے دوبارہ ڈسے جارہے ہیں جس سے ہمیں نہیں ڈے جانا چاہئے تھا۔ اعتزاز کا اکہنا تھا کہ ’ حکومت پر ا س لئے اعتماد کررہے ہیں کہ شاید ہم بھولے اور سادہ لوگ ہیں ۔

جس پر حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وہ اتنے بھی سادہ نہیں ، جس پر ایوان میں قہقہہ بلندہوا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کا قیام کسی بھی سیاسی جماعت کی ترجیحات میں نہیں ۔ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ناگزیر ہے ۔ متبادل آپشن نہیں ۔ چیئر مین سینٹ کا کہنا تھا دو سال قبل پارلیمنٹ کے ایوانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ مدت کے اختتام کے بعد دوبارہ توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی ’ اب آئین میں دوبارہ خلل ڈالاجا رہا ہے ‘ ہم پھر 2برس پہلے والی پوزیشن پر آگئے ہیں ۔

اسحاق ڈرانے کہا تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت نے قومی مفاد میں متفقہ فیصلہ کیا ‘ پیر کو اہل قومی اسمبلی سے منظور ہوجائے گا۔
اگرچہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے میں حکومت اور اپوزین جماعتوں میں مفاہمت ہوچکی ہے اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں پیر کے روز فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے آئینی ترمیم آجائے گی اور ایوان سے اس کی منظوری بھی ہوجائے گی مگر سینٹ میں ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی سمیت قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کے اظہار خیال سے ایسالگتا تھا گویا ان عدالتوں کی مدت میں توسیع ان کی خواہش کے برخلاف ہورہی ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حمایت کررہے ہیں ۔

چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی اور سینیٹر اعتزازاحسن کے اندر کا دکھ ان کے چہرے اور ان کے الفاظ سے عیاں تھا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی کے اخبارات کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہوگیا ہے آج یہ افسوسناک دن ہے ، دو سال قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مدت کی تکمیل کے بعد دوبارہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی اب دو سال مکمل ہوگئے ہیں آئین میں دوبارہ خلل ڈالاجارہا ہے ۔

سینٹ کمیٹی آف دی ہول میں آرمی ایکٹ اور انسداددہشت گردی کے حوالے سے بلوں پر غور کیا گیا تھا حکومت اگر دن بلوں کو ورکنگ پیپرز کے طور پر ہی استعمال کی لیتی تو آج یہ دن دوبارہ نہ دیکھنا پڑتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے ہم حکومت کی یقین دہانی ایک بار پھر اعتماد کررہے ہیں ، ہم کڑوا نہیں زہریلا گھونٹ پی رہے ہے ۔ حکومت کا ریکارڈاچھا نہیں ہے اس لئے کچھ کچھ بے اعتمادی بھی ہے ، ہم نظر رکھیں گے ہم حکومت پر ایک بار پھر کیوں اعتماد کررہے ہیں کیونکہ ہم سیدھے اور بھولے لوگ ہیں ۔

جب اعترازاحسن نے حکومت پر بے اعتمادی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیدھے اوت بھولے بھالے ہیں تو اس پر وفاقی وزیر برجستہ بولے اتنے بھی بھولے نہیں آپ ․․․․․․ !!
جمعیت علماء السلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے فوجی عدالتوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے پارلیمنٹ اورپاکستان کی تمام قیادت اجتماعی طور پر فوجی عدالتوں کی توسیع پر متفق ہوتی ہے تو ہم ملک میں امن وامان کے حوالے سے چونکہ سنجیدہ ہیں اس طرح بعض اوقات ناپسندیدہ چیزوں کوبھی قبول کرنا پڑتا ہے ۔

توہین رسالت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا ۔ یہ فساد کی جڑ ہے ۔ اگر ریاست نے لڑنا تو پھر رسول اللہ ﷺ کی ناموس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کو ترجیح دی جائے ، ناموس رسالت کے تحفظ کے حوالے سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کرکے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کو خود مختار بنانے کے لئے بیرونی مداخلت روکنا ہوگی ۔

ملک میں قبل ازوقت انتخابات نہیں دیکھ رہے ۔ ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کا کوئی رکن اسمبلی تحریک انصاف میں شامل نہیں ہوا۔ ہم پاکستان میں توہین رسالت کا قانون کسی قیمت پر تبدیل نہیں ہونے دیں گے ۔ پاک افغان کشیدگی کو بیٹھ کر حل کرناچاہئے ۔ دہشت گردی سے متعلق شکایتیں دونوں طرف سے ہیں ۔ پڑوسی ممالک کا استحکام ہمارے لئے مفید ہے ہمیں سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہئے ۔

ایک دوسرے کے معاملات میں ہمیں مداخلت کی شکایات کا ازالہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے خیبرپی کے میں انضمام پرابھی اتفاق بھی نہیں ہوا۔
پیپلزپارٹی ، جماعت اسلامی اور جے یوآئی سمیت تمام سیاسی جماعتیں ملک میں فوجی عدالتوں میں دو سال کی توسیع کیلئے راضی ہوگئی ہیں ۔ پیپلزپارٹی کو فوجی عدالتوں کے قیام اور ان کی مدت میں توسیع کے حوالے سے شدید تحفظات تھے اور اس نے اپنی حمایت حکومت کے پلڑے میں ڈالنے کیلئے 9 نکات پیش کئے تھے ۔

حکومت نے ان میں سے چار نکات تسلیم کر کے اس کے تحفظات دور کرکے اسکی حمایت کو یقینی بنایا جبکہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی کو مذہبی جماعتوں اور طبقوں کے حوالے سے خدشات دور کرنے کی ضروری یقین دہانیاں کرائی گئیں ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے باور کرایا کہ سیاسی پارٹیوں نے یہ فیصلہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد میں کیا ہے ۔ ملک میں فوجی عدالتیں بجا طور پر کسی سیاسی جماعت کی ترجیح نہیں کہ یہ فوجی آمریتوں کی لاقانویت کی یاد دلاتی ہیں تاہم اگر ملک کے مخصوص حالات کے پیش نظرامن وامان کی صورت حال میں بہتری لانے کیلئے پہلے کی طرح اتفاق رائے سے ایک مشکل اور ناپسندیدہ فیصلہ احسن طریقے سے کرلیا گیا ہے تو اب اس پر خلوص نیت سے عمل درآمد بھی ہوناچاہئے ۔

ماضی کے برعکس اسے کامیاب بنانے کیلئے ہر طرح کے سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کی کوششیں کی جائیں ۔ حکومت نے اس ضمن میں جو وعدے اوریقین دہانیاں کرائی ہیں انہیں سنجیدگی سے پورا کرے ۔ دوسال کی مقررہ مدت میں مروجہ عدالتی نظام میں اصلاحات کیلئے ضروری اور ناگزیز تبدیلیوں کوعملی شکل دینے کیلئے اپنا ہوم ورک بروقت مکمل کرے تاکہ توسیع کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے فوجی عدالتوں کے قیام میں مزید توسیع کی ضرورت ہی نہ رہے ۔


سانحہ پشاور کے بعدآئین میں 21ویں ترمین منظور کرکے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں ۔ خیبرپی کے میں تین ، پنجاب میں دو ، بلوچستان اورسندھ میں ایک ایک فوجی عدالت قائم کی گئی تھی ۔ دو سال کے دوران ان عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات کی سماعت ہوئی ۔ 274 افراد کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی جبکہ 161کوسزائے موت اور 113 کو عمر قید کی سزاہوئی اس کے نتیجے میں ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے اور ضرب عضب سے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ ہوگیا ۔

اگرچہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ان عدالتون کی معینہ مدت ختم ہونے سے پہلے ان میں توسیع یاان کو ختم کرنے کے سلسلے میں سوچ بچار اور قدامات کئے جاتے مگر اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا ۔و یسے تو غیر سنجیدگی کا مظاہرہ پورے دو سال میں مئوثر متبادل نظا م نہ بنا کر بھی کیا گیا ہے کہ اب فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی نہ رہتی اسی سلسلے میں افسوسناک حقیقت ہے کہ سول عدالتوں کے ججوں کی سلامتی ، گواہوں کے یقینی تحفظ اور وکلاکی سکیورٹی ایسے مسائل ہیں جو حل نہیں کئے جاسکے اسی طرح دوسری بدقسمتی یہ کہ پراسیکیوشن کا نظام بھی ملزموں پر عائد الزامات کو ٹھوش ثبوت اور شواہد سے ثابت نہ کر سکا پولیس نے کیس تیار کرتے وقت قانونی تقاضوں کو پورا نہ کیا جس کے نتیجے میں ہوشیار وکلاء ان سقموں سے فائدہ اٹھا کر اپنے ملز کو بری کرانے میں کامیاب ہو جاتے رہے ۔

حکومت اورجمہوریت کی دہائیاں دینے والی اپوزیشن مل کر ایسا متبادل عدالتی نظام نہ لاسکیں جو ہمیشہ کے لئے فوجی عدالتوں کی ضرورت سے بے نیاز کرنے کا باعث ہوتا اور فوری انصاف کی راہ ہموار ہوسکتی ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Char Mutalbat Manwa Kar PPP Foji Adalton K Qayam Par Razi is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 March 2017 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.